جنوبی ایشیاء میں اسلام۔ ایک پس منظر (باب اول)

121

 

محمود عالم صدیقی

قرآن پاک کا پہلا ترجمہ
اس وقت تک کلام پاک کے ترجمے کا کوئی رواج یا مثال نہیں تھی بلکہ ترجمہ کرنے کو قرآن مجید کی حرمت کے خلاف سمجھا جاتا تھا۔ آپ نے مخالفت کے باوجود اجتہاد کرتے ہوئے برعظیم میں قرآن پاک کا پہلا ترجمہ فارسی میں تحریر کیا۔ اسلامی معاشرہ انحطاط پزیر تھا۔ مرہٹوں‘ جاٹوں‘ سکھوں اور نادر شاہ کے حملوں نے برعظیم کو سیاسی بحران میں مبتلا کر رکھا تھا۔ شاہ ولی اللہ نے بگڑے ہوئے حالات‘ معاشرے کا سدھار اور مشکلات کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے انہوں برسر اقتدار مسلمان بادشاہوں اور حاکموں کو خطوط لکھے اور مرہٹوں کی شورش کے خاتمے اور برعظیم کے مسلمانوں کو ان کے عذاب سے بچانے کے لیے آپ نے احمد شاہ ابدالی اور مجیب الدولہ کو ہندوستان پر مرہٹوں کے خلاف جنگ کرنے پر آمادہ کیا۔
انہوں نے ازسر نو اصلاح و تجدید کا بیڑہ اٹھایا۔ انہوں نے ہمایوں کے دور کی بدعات کے سلسلے میں ’ازالۃ الخفا‘ لکھ کر یہ حجت تمام کی۔ اسرار شریعت پر ’حجۃ اللہ البالغہ‘ لکھ کر علماء کی توجہ حدیث و فقہ کی طرف مبذول کرائی۔ اصول تفسیر میں ایک گراں قدر کتاب ’الفوز الکبیر‘ لکھ کر قرآن کریم کے درس و مطالعہ کی دعوت دی اور قرآن مجید کا فارسی ترجمہ کرکے عام لوگوں کے لیے قرآن پڑھنے اور سمجھنے کی راہ کھول دی۔ تقلید جامد کے خلاف آواز بلند کی اور تحقیق و اجتہاد کے عملی نمونے پیش کیے۔ حدیث نبوی کو عام کرنے میں اپنی زندگی صرف کردی۔ مؤطا امام مالکؒ کی عربی و فارسی میں دو شرحیں لکھیں۔ ان کے فیض سے ہندوستان کا چپہ چپہ گونج اٹھا۔ ان کے چاروں صاحبزادے‘ شاہ عبدالعزیز‘ شاہ رفیع الدین‘ شاہ عبدالقادر اور شاہ عبدالغنی سب کے سب یگانہ روزگار اور مرجع خواص و عوام تھے۔ انہوں نے ہندوستان میں کتاب و سنت کا چرچا عام کیا۔ ان کی تصنیفات اب تک علماء اور طالبان علم کے لیے علمی اکتساب کا ذریعہ ہیں۔ شاہ عبدالقادرؒ کا ترجمہ قرآن آج تک معیاری اور مقبول گردانا جاتا ہے۔ شاہ صاحب کے چھوٹے صاحبزادے شاہ عبدالغنی کے صلب سے وہ یگانہ روزگار مجاہد پیدا ہوا جو اسلامی ہندوستان کی تاریخ پر انمٹ نشان چھوڑ گیا۔ برعظیم میں اسلامی نشاۃ ثانیہ کے وہ عظیم مجاہد سید احمد شہید بریلویؒ تھے۔
یورپی اقوام کی تجارتی مسابقت‘ نو آبادیات اور برطانوی راج
پندرھویں صدی کے آخر میں پرتگیزی جہازراں واسکو ڈے گاما افریقا کے راستے راس امید کا چکر کاٹ کر ہندوستان پہنچنے میں کامیاب ہوگیا اور ۲۷؍مئی ۱۴۹۸ء کو برعظیم کی مشہور بندرگاہ کالی کٹ پہنچ گیا۔ بالآخر یہ تاریخی واقعہ برعظیم کی سیاست میں یورپی اقوام کی مداخلت ان کی نوآبادیات‘ آخر میں برطانوی تسلط کا سبب بنا۔
ایک صدی تک پرتگیزی برعظیم کی تجارت پر چھائے رہے اور خوب دولت کمائی انہوں نے اپنے حریفوں ایرانیوں‘ عربوں اور ترکوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ مذہبی تعصب‘ زبردستی لوگوں کو عیسائی بنانا‘ ظلم اور خونخواری‘ حرص ولالچ اور قزاقی‘ تساہل پسندی‘ عیش وآرام اور ہندو عورتوں سے شادیاں‘ برعظیم میں مضبوط مغلیہ سلطنت کا قیام اور بعد میں سترھویں صدی میں دوسری یورپی قوتوں ولندیزیوں (ڈچ)‘ فرانسیسیوں اور انگریزوں کی برعظیم میں آمد پرتگیزیوں کے زوال کا سبب بنیں۔ ۱۶۳۱ء میں شاہجہاں نے پرتگیزیوں کو ہگلی سے اور اورنگ زیب نے انہیں بنگال سے نکال باہر کیا۔ اٹھارہویں صدی میں ساحل مالابار گوا اور ایک دو مقبوضات کے سوا سب پر دیگر یورپی اقوام کا قبضہ ہوگیا۔ انگریزوں نے سب سے پہلے شہنشاہ جہانگیر کے دور میں سورت کے مقام پر انگلستان کے بادشاہ جیمز اول کے خط پر مغل بادشاہ سے اجازت لے کر تجارتی کوٹھیاں قائم کیں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد رکھی۔
۱۶۱۵ء سے ۱۶۳۲ء کے دوران انگریز تاجروں نے مدراس اور دیگر علاقوں میں تجارتی مراکز قائم کیے۔ سرتھامس رو انگلستان کے سفیر کی حیثیت سے کئی سال جہانگیر کے دربار میں رہا اور تجارتی مراعات حاصل کرتا رہا۔ شاہجہاں کے دور میں اس کی بیٹی جہاں آرا آگ سے جھلس گئی تو ایک انگریز ڈاکٹر باٹن نے اس کا کامیاب علاج کیا اور بادشاہ سے اپنی قوم کے لیے بنگال میں بلا محصول تجارت کی سہولت حاصل کرلی۔ اورنگ زیب عالمگیر کے دور میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو انتہائی نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا لیکن بعد میں ۱۷ ہزار پونڈ تاوان جنگ ادا کرکے معافی نامہ حاصل کرلیا۔ ۱۶۹۰ء میں کمپنی نے کلکتہ میں ایک کارخانہ قائم کیا اور اس کی قلعہ بندی کی۔ اس کا نا م فورٹ ولیم رکھا۔
مغل بادشاہ فرخ سیر (۱۷۱۳ء تا ۱۷۱۹ء) کے عہد حکومت میں ایک انگریز ڈاکٹر ہملٹن نے بادشاہ کا کامیاب علاج کرکے ۳ ہزار سالانہ کی معمولی رقم کے عوض پورے بنگال میں کمپنی کے لیے آزادانہ تجارت کا فرمان حاصل کرلیا اور جلد ہی کمپنی نے سورت‘ بمبئی‘ احمد آباد‘ کالی کٹ‘ مدراس‘ کلکتہ‘ ڈھاکا‘ بالانور‘ ہگلی‘ پٹنہ اور دیگر مقامات پر بڑے تجارتی مراکز قائم کرلیے۔
(جاری ہے)