جنوبی ایشیاء میں اسلام۔ ایک پس منظر (باب اول)

135

 

محمود عالم صدیقی

محی الدین محمد اورنگ زیب عالمگیر (۱۶۵۸ء تا ۱۷۰۷ء)
داراشکوہ اور اورنگ زیب کی جنگ صرف دو بھائیوں کی جنگ نہ تھی‘ بلکہ درحقیقت دو مختلف مکاتب فکر کی جنگ تھی۔ اورنگزیب وہ پہلا اور آخری مغل بادشاہ تھا جس نے اس سرزمین میں حق کی بنیادیں مضبوط کیں۔ حکومت اور مملکت کے تمام شعبوں میں اسلامی آئین کی برتری قائم کی اور کفر و شرک کی آلودگیوں سے اس کا دامن پاک کیا۔ اورنگ زیب‘ مجدد الف ثانیؒ کی تحریک احیائے دین کا طرف دار تھا۔ اس نے ہمیشہ خلفائے راشدین کی سیرت وکردار کے اتباع کو اپنے لیے مشعلِ راہ سمجھا۔ وہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھا اور سلطنت کی حکمت عملی کو اسلامی قوانین اور روایات کے عین مطابق تشکیل دینے کا خواہاں تھا۔ ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ کی اس کے عہد میں تدوین ہوئی‘ جس میں اس کے عہد کے جید علمائے کرام نے حصہ لیا۔
اس وقت ہندوستان میں مسلم معاشرہ تیزی سے زوال پزیر تھا۔ احیائے دین کے سلسلے میں اور معاشرے کی اصلاح کے لیے اس نے کئی قابل ذکر تاریخی احکامات جاری کیے:
oسکوں پر کلمہ طیبہ کندہ کرانے کی ممانعت کردی۔
o جشنِ نو روز منانا موقوف کردیا گیا‘ سن شمسی کو سن ہجری میں بدل دیا گیا۔
o محرم اور دسہرے کے جلوس بند کردیے گئے دیوالی اور ہولی کے تہواروں پر رنگ رلیاں اور قمار بازی کو ممنوع قراردے دیا‘ ہندوؤں میں رائج قدیم ظالمانہ رسم ستی پر قانوناً پابندی عائد کردی گئی۔
o ۱۶۸۹ء میں رعایا کی اخلاقی حالت سدھارنے کے لیے محتسب مقرر کیے گئے‘ جن کے فرائض میں شراب اور دیگر منشیات کے استعمال کا سختی سے انسداد اور مسلمانوں میں شریعت کی پابندی اور شعائر اسلامی کے احترام کو عام کرنا شامل تھا۔
o رسم سجدہ کو ممنوع قرار دیتے ہوئے اسلامی طریق کار یعنی سلام کرنے کا طریقہ بحال کیا اور درشن کی قدیم روایت کو بھی ختم کردیا گیا۔
o مزاروں پر عورتوں کا جانا ممنوع قرار دیا۔ چرس اور بھنگ کی کاشت اور شراب خانوں کو بند کردیا گیا اور طوائفوں کو گناہ آلود زندگی ترک کرکے ازدواجی زندگی گزارنے یا ملک چھوڑ کر چلے جانے کا حکم دے دیا۔ قمار بازی کی ممانعت کردی۔
o شاہی محل میں سونے چاندی کے برتنوں کا استعمال ممنوع قرار پایا۔ مردوں کے لیے ریشمی لباس زیب تن کرنا اور زیور پہننا ناجائز قرار پایا۔
o اورنگ زیب عالمگیر نے اسلامی فقہ کی ایک جامع اور مستند کتاب ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ کے عنوان سے اپنے دور کے جیّد علمائے دین سے مرتب کروا کے اسلام کی ایک بہت بڑی خدمت کی۔
o اس نے جزیہ ٹیکس دوبارہ نافذ کردیا کیوں کہ غیر مسلموں سے جبراً فوجی خدمت نہیں لی جاتی تھی اور یہ صرف ان غیر مسلموں سے لیا جاتا تھا جو سال بھر میں کم سے کم ۵۳ روپے بچا سکتے تھے جس کے بدلے حکومت ان کے جان ومال کی حفاظت کی ذمے دار تھی۔ بعض مورخین کا یہ کہنا کہ اس نے مذہبی تعصب کی بنا پر یہ ٹیکس نافذ کیا یہ الزام بالکل غلط ہے۔ اگر وہ دشمنی کے جذبے کے تحت ایسا کرتا تو پھر وہ ۸۰ غیر شرعی ٹیکس کیوں منسوخ کرتا جو بیش تر ہندوؤں اور ہندو تاجروں سے وصول کیے جاتے تھے۔
اورنگ زیب پر مندروں کو مسمار کرنے اور ہندوؤں پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند کرنے کے الزامات بالکل غلط ہیں۔ اس نے صرف وہ نئے مندر مسمار کرائے جو ناجائز طور پر بغیر سرکاری اجازت کے ناجائز ذرائع آمدن سے بنائے گئے تھے۔
بقول مشہور مورخ اسٹینلے لین پول (Stanley Lane Pole):
’’اورنگ زیب اپنی جان اور تخت کے مقابلے میں مذہب کو مقدس‘ برتر اور مقدم سمجھتاتھا‘‘۔
اورنگ زیب عالمگیر کی شخصیت، سیرت و کردار کے آئینے میں
اورنگ زیب نے ۵۰ سال اور ڈھائی ماہ حکومت کی اور فروری ۱۷۰۷ء کو نوے سال چند ماہ کی عمر میں وفات پائی۔ اس کا شمار برعظیم کے عظیم المرتبت حکمرانوں میں ہوتا ہے۔ وہ غزنی سے چاٹگام اور کشمیر سے کرناٹک تک پھیلی ہوئی عظیم الشان سلطنت کا مطلق العنان بادشاہ تھا۔ وہ دین اسلام کا شیدائی‘ صوم و صلوٰ ۃ کا پابند اور حافظ قرآن تھا۔ سادہ مزاج انسان‘ رعایا پرور اور اعلیٰ کردار کا ایک فرشتہ صفت انسان تھا۔ جری اور شجاع تھا۔ خزانہ شاہی کو عوام کا سرمایہ اور ان کی امانت سمجھتا تھا۔ ٹوپیاں سی کر اور قرآن مجید کی کتابت کرکے اپنے گھر کا خرچ چلا تا تھا۔ عوام میں اپنے زہد و تقویٰ کی بنا پر زندہ پیر مشہور تھا۔ وہ عزم و شجاعت کا پیکر تھا۔ شہزادگی کے دور میں اس نے اپنی عسکری اور قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوالیا تھا۔ عدل و انصاف کے سلسلے میں اپنے بیگانے‘ امیر و غریب اور دوست و دشمن میں کوئی تمیز روا نہ رکھتا تھا۔ پیرانہ سالی کے باوجود وہ دن میں دو یا تین بار دربار عام منعقد کرتا تھا جس میں ہر خاص و عام کو آنے اور ہر فریادی کو بلا جھجک اپنی درخواست پیش کرنے کی اجازت تھی۔ انتہائی محنتی اور فرض شناس حکمراں تھا۔ وہ خود صاحب علم تھا اور اہل علم حضرات کی قدر کرتا تھا۔ اس نے تعلیم اور درس و تدریس کو جس قدر ترقی دی اتنی ترقی برعظیم کے کسی عہد میں نہیں ہوئی تھی۔ ہر شہر اور قصبے میں علماء اور فضلہ کے وظائف اور روزینے مقرر تھے۔ طلبہ کے وظائف مقرر تھے۔ مساجد اور مندروں کے نام زمینیں وقف تھیں تاکہ ان کی آمدنی سے ان درس گاہوں کی مالی کفالت ہو سکے۔
مولاناشبلی کے الفاظ میں: ’’اسلامی دنیا میں اس کے بعد آج تک کوئی اس کے برابر کا شخص پیدا نہیں ہوا‘‘۔
اس کے عہد کا عظیم ترین اور مشہور شاعر عبد القادر بیدل تھا اور نگ زیب کی بیٹی زیب النسا ایک باکمال شاعرہ تھی اور مخفی تخلص کرتی تھی۔ ہندی زبان میں قرآن پاک کا پہلا ترجمہ زیب النسا نے کیا تھا۔ اس نے اپنی سرپرستی میں زیب التفاسیر کے نام سے امام رازی کی تفسیر کا فارسی میں ترجمہ کرایا اور ایک کتب خانہ اور اکیڈمی بھی قائم کی۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ۱۱۱۴۔ ۱۱۷۶ھ بمطابق (۱۷۰۳ء تا ۱۷۶۲ء)
اورنگ زیب کی وفات بمطابق ۱۷۰۷ء میں ہوئی۔ اس کے جانشین بہت کمزور ثابت ہوئے، ہر طرف ابتری پھیل گئی۔ سارے فتنے اور سیاسی قوتیں سر اٹھانے لگیں۔ حالات بد سے بدتر ہونے لگے۔ ان حالات اور ماحول میں شاہ ولی اللہ نے ۱۷۰۳ء میں آنکھیں کھولیں۔ آپ کے والد شاہ عبدالرحیم اپنے دور کے جیّد عالم اور صوفی تھے۔ جنہوں نے فتاویٰ عالمگیری کے مرتب کرنے میں اورنگ زیب عالمگیر کی مدد بھی کی تھی۔ شاہ ولی اللہ کا اصل نام قطب الدین احمد تھا جو عوام الناس میں شاہ ولی اللہ کے نام سے مشہور تھے۔ آپ نے مذہب‘ تصوف اور شریعت کی ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ بارہ سال تک آپ نے مدرسہ رحیمیہ میں تدریس کی خدمت انجام دی اور حج کرنے اور دین کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے عربستان چلے گئے جہاں مدینے میں شیخ ابوطاہر بن ابراہیم جیسے لائق وفائق عالم دین سے اکتساب علم کیا۔ ۱۷۳۲ء میں آپ واپس دہلی آئے۔ محمد شاہ رنگیلا کا دور تھا ملک میں طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی اور مغلیہ سلطنت تیزی سے زوال پزیر تھی۔