افغانستان پرمکمل قبضہ نہیں چاہتے: طالبان

130

افغان طالبان نے کہا ہے کہ وہ افغانستان پر مستقبل میں “مکمل اقتدار” کے خواہاں نہیں بلکہ افغان اداروں کی ساتھ مل کر رہنا چاہتے ہیں۔

طالبان کی طرف سے یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد تصدیق کرچکے ہیں کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے کے فریم ورک پر اصولی اتفاق ہوگیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے کوبھیجے گئے ایک آڈیو بیان میں طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ طالبان اپنے ہم وطنوں کے ساتھ مل کر ایک ایسے افغانستان میں رہنا چاہتے ہیں جہاں سب کے لیے گنجائش موجود ہو۔

طالبان ترجمان نے کہا ہے کہ “افغانستان پر قبضے کے خاتمے کے بعد افغانوں کو چاہیے کہ وہ اپنا ماضی بھلا کر اور ایک دوسرے کو برداشت کرکے بھائیوں کی طرح زندگی کا آغاز کریں۔ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ہم اقتدار پر اپنی اجارہ داری نہیں چاہتے۔”

طالبان ترجمان نے یہ بھی بتایا ہے کہ امریکہ کے نمائندۂ خصوصی اور طالبان کے درمیان بات چیت کا اگلا دور 25 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوگا۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کی جانب سے جاری کردہ اس آڈیو بیان کا بظاہر مقصد طالبان اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے پر افغان حکومت اور اداروں کے تحفظات کو دور کرنا ہے۔

امکان ہے کہ طالبان ترجمان کے بیان کے غیر معمولی طور پر مصالحانہ اس بیان سے ان کوششوں کو تقویت ملے گی جو افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے لیے کی جا رہی ہیں۔

زلمے خلیل زاد افغان صدر اشرف غنی پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایک وسیع البنیاد مذاکراتی ٹیم تشکیل دیں جو طالبان کے ساتھ مستقبل کے فریم ورک پر بات چیت کرسکے۔

لیکن افغان حکومت کی اندرونی تقسیم اور ماضی میں جنگجو رہنے والے سیاست دانوں کی جانب سے طالبان کے ساتھ مفاہمت کی کوششوں کی مخالفت کی وجہ سے یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ پا رہا۔

دوسری جانب طالبان بھی اب تک افغان حکومت کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوئے ہیں۔ طالبان افغان حکومت کو امریکہ کی کٹھ پتلی قرار دیتے ہیں اور ان کا موقف رہا ہے کہ افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ وہ بے اختیار ہے۔

اطلاعات ہیں کہ خلیل زاد اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی آئندہ ملاقات سے قبل طالبان اور امریکہ مشترکہ طور پر ایک تیکنیکی ٹیم تشکیل دیں گے جو افغانستان سے امریکی فورسز کی انخلا کی تفصیلات اور مستقبل میں افغانستان کو دہشت گردوں کو گڑھ بننے سے روکنے کا طریقۂ کار طے کرے گی۔