عمارتیں گرانے کے نوٹس، ایف پی سی سی آئی کا عدالت جانے کا اعلان

161
کراچی :صدرایف پی سی سی آئی داور خان آباد کے عہدیداران کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کررہے ہیں
کراچی :صدرایف پی سی سی آئی داور خان آباد کے عہدیداران کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) فیڈیشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر حاجی دارو خان نے ایس بی سی اے کی جانب سے عدالت عظمیٰ کے حکم کی آڑ میں کراچی شہر میں ریگولرازئز عمارتیں گرانے کے نوٹس جاری کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدام سے ملک کے میگا سٹی میں سیکڑوں اربوں روپے کی سرمایہ کاری رک جائے گی، ایس بی سی اے ایسو سی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے ساتھ مل کر شہر میں تعمیر غیر قانونی عمارتوں کی فہرست مرتب کرے تاکہ اس معاملے کو حل کیا جائے، عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف ایف پی سی سی آئی عدالت سے رجوع کرے گی۔ یہ بات انہوں نے فیڈریشن ہاؤس میں آباد رہنماؤں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔ اس موقع پر آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی، آباد کے سرپرست اعلیٰ محسن شیخانی، سینئر وائس چیئرمین انور داؤد، وائس چیئرمین عبدالکریم آڈھیا، سدرن ریجن کے چیئرمین ابراہیم حبیب، محمد حنیف گوہر، ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر مرزا اختیار بیگ اور دیگر بھی موجود تھے۔ حاجی دارو خان اچکزئی نے کہا کہ کراچی شہر کا قومی آمدنی میں 20 فیصد جبکہ صنعتی پیداوار میں 30 فیصد حصہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایس بی سی اے کو عدالت نے غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی عمارتوں کی فہرست طلب کی تھی تاہم ایس بی سی اے نے عدالتی حکم کی غلط تشریح کرتے ہوئے قانونی طور پر تعمیر کی گئی رہائشی پلاٹوں سے کمرشل میں تبدیل شدہ سیکڑوں عمارتوں کو نوٹسز جاری کرکے شہر میں افراتفری پیدا کی ہے جس کی ایف پی سی سی آئی مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایس بی سی اے نے خود مذکورہ عمارتوں کو ریگولرائز کیا ہے جس کی مد میں ایس بی سی اے کو اربوں روپے کا ریونیو حاصل ہوا،مذکورہ عمارتوں کے نقشے بھی منظور کیے گئے اور محکمہ تحفظ ماحولیات سے ان کی این او سی بھی جاری ہوئی ہیں۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ 3 فروری تک عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں۔ حاجی دارو خان کا کہنا تھا کہ کراچی کی تعمیراتی صنعت کو زوال ہوا تو اس کے نتیجے میں 72 ذیلی صنعتوں کا پہیہ رک جائے گا جس کے نتیجے میں سیکڑوں اربوں روپے کی سرمایہ کاری رک جائے گی اور 5 لاکھ افراد بے روزگار ہوجائیں گے۔اس موقع پر محسن شیخانی نے کہا کہ ایس بی سی اے نے ماضی میں کی گئی اپنی کرپشن چھپانے کے لیے عدالتی حکم کی آڑ میں ریگولرائزڈ عمارتوں کو گرانے کے نوٹسز جاری کیے۔ ایس بی سی اے کی ملی بھگت سے کراچی شہر میں رفاہی پلاٹوں، پارکوں،سیوریج نالوں پر جو تعمیرات کی گئیں ایس بی سی اے انہیں تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔