چیف جسٹس سے نوٹس لینے کی اپیل

160

کراچی کے فلیٹوں میں پراپرٹی ٹیکس محکمہ اپنی مرضی سے بھیجتا ہے کسی کو بھیجتا ہے کسی کو نہیں بھیجتا، جب فروخت کرنے کا موقع آتا ہے تو ان پر لاکھوں روپے کا جرمانہ کیا جاتا ہے، غلطی محکمہ کی، ذمے دار مالکان کو بتایا جاتا ہے، رشوت لے کر معاملہ ختم کیا جاتا ہے۔ ہم اہالیان گلستان جوہر آپ کے اخبار کے توسط سے محکمہ ایکسائز اینڈ
ٹیکسیشن کی توجہ اعلیٰ حکام اور خصوصی طور پر گورنر سندھ کی طرف دلانا چاہتے ہیں حکومت سندھ نے 80 گز کے مکانات پر پراپرٹی ٹیکس معاف کر رکھا ہے اس کے بعد 120 گز کے مکانوں پر بھی ٹیکس ختم کردیا گیا۔ لیکن چھوٹے چھوٹے فلیٹوں میں کم آمدنی والے افراد رہتے ہیں جو دو یا تین کمروں پر مشتمل ہوتے ہیں اور مکانوں سے بھی چھوٹے ہوتے ہیں، ان پر ٹیکس عاید کیا ہوا ہے، مزید ستم یہ کہ ہر سال ٹیکس کے بلز گھروں پر بھیجنے کی محکمہ کی
ذمے داری ہے جو کسی جگہ تقسیم کرتے ہیں اور کسی جگہ اپنی مرضی سے تقسیم نہیں کرتے ایسا کیوں ہے؟ اور یہ طریقہ کار کئی برسوں سے جاری ہے۔ ظاہر ہے کہ جب کسی فلیٹ کے مکین کو ٹیکس کا بل ہی نہیں ملے گا تو وہ کیسے جمع کرے گا۔ یہ اس کی ذمے دار نہیں ہے اس طرح جب بھی وہ فلیٹ فروخت کرے گا تو اس پر کئی برسوں کے ٹیکس کی عدم ادائیگی کا الزام لگا کر اس پر ہزاروں روپے کا جرمانہ عاید کردیا جاتا ہے، اگر ان کی مٹھی گرم کردیں تو ٹیکس کو کم کردیا جاتا ہے، ٹیکس کا بل ہر سال باقاعدگی سے نہیں بھیجا جاتا، محکمہ کی ذمے داری ہے جو غفلت اور لاپروائی اور نااہلی کے زمرے میں آتی ہے اس کا بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا جاتا ہے اب جب کہ حکومت کرپشن کے خلاف خود مہم چلا رہی ہے تو اس محکمہ کا بھی محاسبہ کیا جائے اور اب تک جن لوگوں کے بل نہیں بھیجے انہیں معاف کرکے تمام فلیٹوں پر بل بھیجے جائیں تو حکومت کو کروڑوں روپے کی آمدنی ہوگی۔ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور بیواؤں کا ٹیکس خصوصی طور پر معاف کیا جائے، اس سلسلے میں چیف جسٹس صاحب سے ازخود نوٹس لینے کی بھی اپیل کرتے ہیں۔
اہل گلستان جوہر، جوہر موڑ کراچی