شام میں خود کش حملہ اور گولہ باری 12افراد شہید

34
ادلب: اسدی فوج کی بم باری کا نشانہ بننے والے بازار میں سڑک پر لاش اور اشیا بکھری پڑی ہیں‘ زخمی بچے کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے
ادلب: اسدی فوج کی بم باری کا نشانہ بننے والے بازار میں سڑک پر لاش اور اشیا بکھری پڑی ہیں‘ زخمی بچے کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے

 

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں ایک خودکش حملے اور اسدی فوج کی بم باری کے نتیجے میں 12افراد جاں بحق ہوگئے۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق منگل کے روز شمال مغربی صوبے ادلب کے دارالحکومت ادلب شہر میں ایک خود کش بم بار خاتون نے قومی حل حکومت کے صدر دفتر کو نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص جاں بحق اور دیگر 3زخمی ہوئے۔ حملے میں عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ قومی حل حکومت ایک انتظامی کونسل ہے، جو ہیئت تحریر الشام سے تعلق رکھتی ہے، جب کہ ہیئت تحریر الشام ماضی میں النصرہ فرنٹ کے نام سے القاعدہ کی شامی شاخ کے طور پر جانی جاتی تھی۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ حملہ ممکنہ طور پر داعش نے کیا۔ دوسری جانب صوبہ ادلب کے شہر معرۃ النعمان میں اسدی فوج نے ایک بازار پر میزائل اور گولہ باری کی، جس کے نتیجے میں 11شہری شہید اور 20 سے زائد زخمی ہوئے۔ شامی مبصر کے مطابق مرنے والوں میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔ دوسری جانب شام میں سرگرم داعش اپنے قبضے میں موجود باقی ماندہ علاقے بھی چند ہفتوں کے دوران ہی امریکی حمایت یافتہ کرد جنگجوؤں کے ہاتھوں کھو دے گی۔ یہ بات امریکی وزیر دفاع پیٹرک شناہن نے کہی ہے۔ شناہن کا کہنا ہے کہ شامی جمہوری فوج داعش کے خلاف حتمی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔ ان جنگجوؤں کو 2 ہزار امریکی فوجیوں کے ساتھ ساتھ امریکی اتحاد کی فضائی مدد بھی حاصل ہے۔