بلوچستان میں پھر دہشت گردی ،9 شہید21 زخمی

93
لورالائی: پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملے کے بعد جائے وقوع سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں‘ چھوٹی تصویر شہید ہونے والے اہلکار منور کی ہے
لورالائی: پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملے کے بعد جائے وقوع سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں‘ چھوٹی تصویر شہید ہونے والے اہلکار منور کی ہے

کو ئٹہ(نمائندہ جسارت) بلوچستان کے ضلع لورالائی میں نامعلوم دہشت گردوں کی جانب سے ڈ ی آئی جی پولیس کے دفتر پر حملہ کیا گیا۔فائرنگ اور بم دھماکوں کے نتیجے میں 8اہلکاروں سمیت 9افراد شہید اور 21افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں بھی اکثریت پولیس اہلکاروں کی ہے۔پولیس حکام کے مطابق لورالائی کے علاقے کوئٹہ روڈ پر واقع ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ژوب ریجن کے دفتر پر منگل کی صبح اس وقت حملہ کیاگیا جب وہاں پولیس میں جونیئر کلرک اور درجہ چہارم کی بھرتی کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز ہورہے تھے۔صوبائی وزیرداخلہ میر ضیا لانگو نے بتایا کہ حملے کے وقت 800سے زائد امیدوار موجود تھے۔ حملہ آوروں کا ہدف ڈی آئی جی پولیس کا دفتر اور ان کی رہائش گاہ کے علاوہ امیدوار بھی تھے۔ ایک حملہ آور نے پہلے ڈی آئی جی کے دفتر کے مرکزی دروازے پر خودکو دھماکے سے اڑایا اس کے بعد اس کے ساتھی اندر داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کی، متعدد دستی بم بھی پھینکے۔پولیس حکام کے مطابق فائرنگ اور دھماکوں کے بعد دفتر کے اندر اور باہر بڑی تعداد میں جمع امیدواروں اور پولیس اہلکاروں میں بھگدڑ مچ گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق امیدواروں نے عقبی راستے سے دیواریں پھلانگ کر جانیں بچھائی۔ حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی اضافی نفری، ایف سی اور لیویز اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے دفتر کو گھیرے میں لیا۔پولیس حکام کے مطابق ڈی آئی جی لورالائی نثار احمد سمیت تمام پولیس افسران کو بحفاظت دفتر سے نکال لیا گیا۔فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان 3گھنٹے سے زائد فائرنگ کا تبادلہ جاری رہاجس کے بعدڈی آئی جی آفس اور ملحقہ عمارتوں کو کلیئر قرار دے دیا گیا۔اس دوران ایک دستی بم کو بھی ناکارہ بنایا گیا۔ صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے بہادری سے دہشت گردوں کے خلاف جوابی کارروائی کی اور ان کے عزائم کو ناکام بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے میں افغانستان سے آنے والے دہشت گرد ملوث ہیں۔