سانحہ ساہیوال: جے آئی ٹی رپورٹ میں زیشان دہشتگرد ثابت ہوگا، ایڈیشنل ہوم سیکریٹری

77

ایڈیشنل ہوم سیکریٹری نے سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا ہے کہ سانحہ ساہیوال کی جے آئی ٹی رپورٹ میں ذیشان دہشتگرد ثابت ہوگا۔

اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ہوا،اجلاس کے دوران ایڈیشنل ہوم سیکریٹری پنجاب فضیل اصغرنے ساہیوال واقعہ کے حوالے سے بریفننگ دیتے ہوئے بتایا کہ جےآئی ٹی رپورٹ ابھی تک مکمل نہیں ہوئی، لیکن مجھے معلوم ہے جے آئی ٹی کی رپورٹ کیا آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب تک یہ واضح ہے کہ خلیل اور اس کی فیملی بے گناہ تھی، فضیل اصغر نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں ذیشان دہشتگرد ثابت ہوگا اور باقی لوگوں کو بے گناہ قرار دیا جائے گا، آپریشن کے کنڈکٹ کو غلط قرار دیا جائے گا جب کہ آپریشن کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی تجویز کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی  اس بات کا تعین کرے گی کہ کس کی طرف سے پہلا فائر ہوا، سی ٹی ڈی کے طریقہ کار میں غلطی تھی انہیں دیکھنا چاہیئے تھا کہ اندر کون بیٹھا ہوا ہے،6 بندے گرفتار ہیں ان پر مقدمہ درج ہو چکا ہے ایف آئی آر ٹھیک نہیں کاٹی گئی ،ایف آئی آر میں 16 لوگوں کو نامزد کیا گیا 16 آدمی تو وہاں تھے ہی نہیں۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ ذیشان کا تعلق دہشتگردوں کے نیٹ ورک سے تھا جس کے ثبوت موجود ہیں، پہلا ثبوت اس کی دہشتگرد عدیل کے ساتھ سیلفی دوسرا وہ گاڑی عدیل کی ملکیت تھی تیسرا عدیل کی ذیشان کے گھر آمد اور چوتھا 13 تاریخ کو دونوں کی گاڑیوں نے اکٹھے ساہیوال کا سفر کیا تھا۔

ارکان کمیٹی نے گاڑی میں خودکش جیکٹ کی موجودگی کا دعوی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بریفنگ سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے، فائرنگ کرنے والوں کو گاڑی میں خودکش جیکٹ کی موجودگی کا خدشہ ہوتا تو کبھی چار فٹ سے گولیاں کبھی نہ چلاتے بلکہ پچاس فٹ دور رہتے، ڈگی سے بیگ بغیر چیکنگ کے نکال کر لے گئے، 13 سال کی بچی کو براہ راست گولیاں ماریں کیا اندھے تھے۔

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ عینی شاہدین کے مطابق گاڑی سے کوئی مزاحمت نہیں گئی اور گاڑی سے کوئی ہتھیار نہیں نکلا ،ابھی تک اس واقعے کی ڈیپارٹمنٹل انکوائری نہیں کی گئی۔

سینیٹر عائشہ رضا نے کہا کہ ذیشان کو زندہ گرفتار کیا جانا چاہیئے تھا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ ہر چوتھے پانچویں دن دہشتگرد مارے جاتے ہیں ،جتنے دہشتگرد پکڑے جاتے ہیں وہ ہم بتا دیں تو شاید آپ پریشان ہو جائیں۔ سینیٹر بیرسٹر سیف نے کہا کہ اگر آپ کا مقصد صرف مارنا تھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کلنگ اسکواڈ بنے ہوئے ہیں، آپ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ دہشتگردوں کو مارتے ہیں، پتہ نہیں وہ کیسے دہشتگرد مارتا تھا جن کی طرف سے ایک فائر بھی نہیں ہوتا تھا۔

سینیٹر عثمان کاکڑ نے سی ٹی ڈی کے اب تک کیے گئے تمام آپریشنز پر پارلیمانی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار ریاستی ادارے میں رہتے ہوئے دہشت گرد تھا، ریاست نے اس کے خلاف کیوں کاروائی نہیں کی، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بھی اس کے سامنے بے بس تھے، اس کے خلاف کاروائی ہوتی تو ساہیوال کا واقعہ رونما نہ ہوتا، اگر ہم بہت کمزوری بھی دکھائیں تو اس معاملے پر کم از کم جوڈیشل کمیشن بننا چاہیے۔

چیئرمین کمیٹی کے استفسار پر ایڈیشنل ہوم سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ جے آئی ٹی کے لیئے کوئی خاص ٹرم آف ریفرنس کا تعین نہیں کیا گیا ،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہمیں اس بریفنگ سے مطمئن نہیں ہیں،ہم حیران ہیں کہ جے آئی ٹی کے ٹرم آف ریفرنس کا تعین نہیں کیا گیا،ہم اس جے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہیں ،اس واقعہ کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے ۔