نواز شریف کی طبی بنیاد پر ضمانت کیلئے درخواست پر وفاق و نیب سے جواب طلب

54

اسلام آباد (آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی میڈیکل بنیاد پر درخواست ضمانت پر رہائی کے لیے وفاق، چیئرمین نیب، احتساب عدالت اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو نوٹس جاری کردیے۔ پیر کو درخواست کی سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔ لیگی رہنما مریم اورنگزیب، راجا ظفر الحق اور عرفان صدیقی عدالت میں پیش ہوئے۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ سزا کے خلاف زیر سماعت اپیل کے فیصلے تک احتساب عدالت کا فیصلہ معطل کیاجائے‘ العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزامعطل کرکے ضمانت پر رہا کیا جائے ‘انہوں نے میڈیکل بورڈ کی 17 جنوری کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی‘ فاضل جج عامر فاروق نے استفسار کیا کیا جیل میں نواز شریف کا میڈیکل چیک اپ نہیں ہورہا ؟نواز شریف کی میڈیکل گراؤنڈ پر پٹیشن الگ سے سنیں گے۔ خواجہ حارث نے عدالت سے استدعا کی کہ میڈیکل بورڈ بنا ہوا ہے عدالت رپورٹ طلب کرے۔ فاضل جج نے ایک بار پھر استفسار کیا آپ کے پاس رپورٹ کی کاپی موجود نہیں ہے؟ خواجہ حارث نے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پڑھ کر سنائی جسکے مطابق نواز شریف عارضہ قلب اور گردے کے تیسرے درجے کی بیماری کا شکار ہیں‘ نواز شریف کو دیگر امراض بھی لاحق ہیں‘ نواز شریف کی فیملی کو بھی ان کی صحت کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں۔ خواجہ حارث نے عدالت سے استدعا کی میڈیکل بورڈ نے گردہ اور دل کے عارضے کے باعث نوازشریف کو اسپتال منتقل کرنے کی تجویز دی ہے‘ عدالت نیب کو نوٹس جاری کردے اور اسپیشل بورڈ کی رپورٹ منگوا کر دیکھ لے جس کے بعد عدالت نے نواز شریف کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزید سماعت 6 فروری تک ملتوی کردی۔ علاوہ ازیں ن لیگ کے کارکنوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سے اظہار یکجہتی کے لیے باقاعدہ اپنا ایک کیمپ جیل کے باہر لگا لیا ہے۔ کیمپ کے حوالے سے لیگی کارکنان عدیل ملک اور ملک مقصود احمد سمیت دیگر کا کہنا ہے کہ ان کو کیمپ میں 7 سال سے زاید عرصے تک بھی رہنا پڑا تو وہ رہیں گے۔