امیر جماعت اسلامی کراچی سے درخواست

232

نادرا نے عوام کو بہت پریشان کیا ہوا ہے، دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود صرف ٹوکن ہاتھ میں دے دیتے ہیں اور مہینے اور دن تاریخ بتادیتے ہیں لیکن جب وقت مقررہ پر لینے جاؤ تو کہتے ہیں کہ آپ کا سی این آئی سی اعتراض لگا کر بلاک کردیا گیا ہے۔ آپ دوبارہ تمام دستاویزات لائیں اور والدہ والد اور بہن یا بھائی کو لے آئیں۔ دوبارہ کارروائی پھر وہی بلاک اور اعتراض۔ کچھ لوگوں نے اسلام آباد فون کرکے معلوم کیا تو پتا چلا
کہ ڈیٹا وہاں پہنچا ہی نہیں۔ ہم پاکستانی شناخت حاصل کرنے کے لیے کتنے ستائے جارہے ہیں، رشوت ہم دے نہیں سکتے، رشوت دینے والوں کے کام جلدی ہوجاتے ہیں۔ جناب امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم آپ نے پہلے بھی اس مسئلے پر آواز بلند کی تھی تو کچھ بہتری آئی تھی۔ آپ سے مجبور، بے بس عوام کی اپیل ہے کہ کچھ حل نکالیں تا کہ ہم اپنا شناختی کارڈ حاصل کرسکیں۔
فرزانہ سلیم228صائقہ کامران228 ثنا ندیم، کراچی
ٹی وی چینلوں کو لگام دی جائے
ہمارے ٹی وی چینلوں پر جو ڈرامے مارنگ شوز، ایوارڈ شوز، ڈانس مقابلے چل رہے ہیں ان کو دیکھ کر کہیں سے بھی محسوس نہیں ہوتا کہ ہم مسلم ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔ چھوٹے بچوں اور بچیوں میں ڈانس مقابلے کروا کر یہ نئی نسل کو کس طرف لے جایا جارہا ہے۔ اب ڈراموں میں شراب نوشی کے مناظر برملا دکھائے جارہے ہیں، ایوارڈ شوز کے ذریعے کم لباسی اور بے حیائی کو عام کیا جارہا ہے۔ میں پیمرا سے مطالبہ کرتی ہوں کہ اس بڑھتی ہوئی بے حیائی کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔
عبیرہ خان، کراچی احتجاج ضروری ہے؟؟
یوں تو اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اور پیمرا کو فونز بھی کیے گئے، تادم تحریر اس شو پر پابندی بھی لگ چکی ہے مگر یہ خیال بار بار آتا ہے کہ آخر کون لوگ ہیں جو ہم میں فحاشی پھیلانا چاہتے ہیں، کوئی ایسا سنسر بورڈ کیوں نہیں جو ایسے پروگرام نشر ہونے سے پہلے ہی ان پر پابندی لگادے، پہلے ساحر لودھی شو، پھر فیصل قریشی صاحب بچیوں کو چست لباس میں ’’ٹیلنٹ‘‘ شو کرواتے اور وضاحتیں کرتے سامنے آئے یہ کلچر ہمارا ہے ہی نہیں، یہ تہذیب یہود و ہنود کی ہے۔ ان کی تہذیب اور کلچر تفریح کے نام پر ہمیں منظور نہیں۔ ٹیلنٹ ہی دکھانا ہے تو اور بھی بہت سارے میدان ہیں جہاں مسلمان و پاکستانی بچے اور بچیاں نمایاں کامیابیاں حاصل کررہے ہیں وہ دکھائیں تا کہ اور لوگوں میں رغبت پیدا ہو۔ ضروری ہے کہ ہر بار توجہ دلانے اور شور مچانے پر ہی ایسے ’’شو‘‘ بند کیے جائیں؟؟
اُم زبیر