سب کا بھائی، صفدر بھائی (۱۹۴۱ء۔ ۲۰۱۸ء)

152

 

 

برادر گرامی قدر صفدر علی چودھری کو بچھڑے ایک سال بیت گیا ہے۔ کل ان کی یاد میں ان کے گھر محافظ ٹاؤن پر اہلِ خاندان اور حلقۂ احباب کی طرف سے تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر تلاوت قرآن مجید اور درسِ قرآن کے بعد مرحوم کے لیے اجتماعی دعائے مغفرت کی گئی۔ پھر مرحوم کی قبر پر جا کر بھی مسنون طریقے کے مطابق دعا کا شرف حاصل ہوا۔ اس موقع پر مرحوم بھائی کی یادوں کے دریچے یکے بعد دیگرے کھلتے چلے گئے۔ نصف صدی سے زائد کا عرصہ لمحات میں آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔ خوش نصیب مسافر اپنی منزل سے ہم کنار ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی زمانے کے فتنوں سے محفوظ رکھتے ہوئے، ایمان کی سلامتی کے ساتھ اپنی منزل پر پہنچا دے۔ قبر پر دعا کے بعد زبان پر یہ شعر آگیا ؂
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
مرحوم بھائی صفدر علی کے ساتھ نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط بہت ہی قریبی تعلق تھا۔ مرحوم دوست ہی نہیں سگے بھائیوں کی طرح محبت کرنے والے عظیم انسان تھے۔ صفدر صاحب کے آبا واجداد ضلع جالندھر میں کاشت کاری کے پیشے سے منسلک تھے۔ چودھری صاحب کے والد دین محمد کو اللہ نے چھ بیٹوں اور پانچ صاحب زادیوں سے نوازا۔ بھائیوں میں چودھری فتح محمد سب سے بڑے تھے۔ ان کے بعدحاکم علی، قاسم علی، جعفرعلی اور پھر صفدر علی۔ صفدر بھائی تمام بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے اور پورے خاندان کے لاڈلے شہزادے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد مشرقی پنجاب سے ہجرت کرکے اوکاڑہ شہر میں مقیم ہوئے۔ قریبی گاؤں 6 ایل آر میں ان کو کچھ زمین الاٹ ہوئی تھی۔ بعد میں ان کے خاندان کو لیّہ میں زمین الاٹ ہوئی تو اس کی آبادکاری کے لیے خاندان کے بیش تر لوگ وہاں نقل مکانی کرگئے۔ صفدر صاحب کی پیدائش 1941ء کی ہے۔ انہوں نے اپنی تعلیم کا آغاز اوکاڑہ میں سرکاری اسکول سے کیا۔ پھر گورنمنٹ کالج ساہیوال سے بی اے کرنے کے بعد جامعہ پنجاب میں شعبہ سیاسیات سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ایس وی ٹیچر تھے۔
چودھری صاحب کے اپنے بقول: ’’میں نے 1957ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1960ء میں ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ اس دوران ٹیچنگ کورس ’’ایس وی‘‘ پاس کیا پھر 14؍ اکتوبر 1962ء کو اسلامی جمعیت طلبہ کی رکنیت کا حلف اٹھایا۔ 1963ء میں میری شادی ہوئی۔ میرا رشتہ طے ہونے اور شادی ہونے میں مولانا مودودی کی مشاورت کا بڑا عمل دخل تھا۔ میری شادی 14؍ اپریل 1963ء کو ہوئی۔ شادی کے بعد میں نے گریجوایشن کی۔ 1968ء میں ایم اے سیاسیات کا امتحان پاس کیا اور اسی سال جماعت اسلامی کا رکن بنا۔‘‘
دورِ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہوئے اور مقامی سے لے کر صوبائی سطح تک نظامت کی ذمے داریاں نبھائیں۔ مرکزی شوریٰ کے بھی رکن رہے۔ وہ انتہائی ان تھک، ازحد مخلص اور بے پناہ محبت کرنے والے کارکن اور رہنما تھے۔ جس شخص سے ایک بار ان کی ملاقات ہوئی، ان کا ایسا گرویدہ ہوا کہ زندگی بھر ان کو نہ بھول سکا۔ مجھے پہلی مرتبہ 1964ء میں ٹولنٹن مارکیٹ انارکلی میں نصراللہ شیخ مرحوم کی دکان پر ملاقات کا موقع ملا۔ یاد پڑتا ہے کہ ان کے ساتھ شیخ محبوب علی مرحوم، چودھری عطاء اللہ، جاوید نواز، سلیم بن امیر، صادق عارف، عبدالحئی احمد مرحوم، ذوالقرنین مرحوم، محمود حسین اور غالباً محمدرمضان عادل مرحوم بھی تھے۔ ان احباب کی کوئی تنظیمی نشست ناظم اعلیٰ شیخ محبوب علی کے ساتھ ٹولنٹن مارکیٹ میں واقع چھوٹی سی مسجد میں تھی۔ وہاں سے وہ بھی نصراللہ شیخ کی دکان پر تشریف لائے۔ (شیخ محبوب علی مرحوم کے حالات ہماری کتاب چاند اور تارے صفحہ 75تا 86 میں دیکھے جاسکتے ہیں۔)
چودھری عطاء اللہ سے میرا رابطہ اس سے قبل ہوچکا تھا۔ میں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں سیکنڈ ائیر میں پڑھتا تھا اور جناح ہاسٹل میں مقیم تھا۔ جب میں فرسٹ ائیر میں تھا تو عطاء اللہ صاحب (ناظم لاہور) مجھے وہیں ہاسٹل میں آکر ملے تھے اور میں جمعیت کا رفیق بن گیا تھا۔ پروفیسرعطاء اللہ چودھری میرے پہلے ناظم تھے۔ اللہ ان کو سلامت رکھے۔ ان کی بیٹی طیبہ عطاء اللہ جو اسلامی جمعیت طالبات کی سرگرم رکن تھیں 1991ء میں ایک حادثے میں اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ عزیزہ طیبہ کے حالات ہم نے اپنی کتاب چاند اور تارے صفحہ 70تا 74 میں لکھے ہیں۔ ناظم لاہور کی طرف سے مجھے اسلامیہ کالج میں نظامت کی ذمے داری دے دی گئی۔ الحمدللہ چند ہفتوں ہی میں بیس پچیس ساتھی جمعیت کے کارکن اور رفقا بن گئے۔ اسی سلسلے میں جمعیت کے سابقین سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔
صفدر صاحب اور شیخ محبوب الٰہی کے علاوہ باقی دوستوں سے پہلے سے شناسائی تھی۔ نصراللہ شیخ ہمارے مالی معاون تھے اور ان سے اسی سلسلے میں ملاقات ہوا کرتی تھی۔ صفدر صاحب سے اگرچہ یہ پہلی ملاقات تھی، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ مجھ سے یوں ملے جیسے برسوں کا تعلق ہو۔ ان کی اس صفت کا ہر وہ شخص گواہ ہے جس سے ان کی کبھی ملاقات رہی ہو۔ بے تکلفی میں انہوں نے کئی مزاحیہ فقرے بھی بولے جن سے بڑا لطف آیا۔ وہ مرنجاں مرنج شخصیت کے مالک تھے۔ صفدر صاحب اس وقت تک لاہور شفٹ نہیں ہوئے تھے۔ ناظم اعلیٰ کی آمد پر ان سے ملاقات کی غرض سے لاہور آئے تھے۔ کچھ عرصے بعد صفدر صاحب لاہور منتقل ہوگئے اور جامعہ پنجاب میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس عرصے میں میں نے اسلامیہ کالج سے ایف اے کرکے گورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے میں داخلہ لے لیا۔ صفدر صاحب سے ملاقاتیں ہوتی رہیں اور ہر ملاقات میں ان سے محبت اور اپنائیت بڑھتی چلی گئی۔
ایم اے کا امتحان دینے کے فوراً بعد صفدر صاحب کو مولانا مودودیؒ نے مرکز جماعت میں طلب کرلیا۔ جماعت کی رکنیت بھی منظور ہوگئی۔ مرکز میں صفدر صاحب کی ذمے داری شعبہ نشرواشاعت میں مولانا نعیم صدیقیؒ کے ساتھ بطور نائب ناظم لگی۔ نعیم صاحب بہت بڑی علمی وادبی شخصیت تھے اور جماعت کی قیادت میں ان کا نمایاں مقام تھا۔ وہ اپنے دفتر سے اخبارات کو خبریں، بیانات اور مضامین بھجوایا کرتے تھے۔ عموماً یہ شکایت ہوتی تھی کہ کئی اخبارات جماعت کی خبروں کے ساتھ انصاف کے بجائے تعصب کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ صحافت میں ڈنڈی مارنے کا کلچر ہمیشہ سے رہا ہے اور آج بھی ہے، اگرچہ پہلے سے صورت حال کچھ بہتر ہوئی ہے۔ اس پیش رفت میں صفدر صاحب اور ان جیسے تعلقات عامہ کا ذوق رکھنے والے ساتھیوں کا بڑا حصہ ہے۔ ذرائع ابلاغ میں مخلص اور دیانت دار اہلِ قلم کی ایک تعداد ہمیشہ موجود رہی ہے۔ میں ان لوگوں کو ولی اللہ سمجھتا ہوں۔ البتہ ڈنڈی مارنے والوں کا اپنا مزاج ہوتا ہے۔ بعض لوگ نظریاتی طور پر کسی جانب جھکے ہوئے ہوتے ہیں جبکہ بعض اپنے مخصوص مفادات کی وجہ سے اپنے پیشے کا تقدس مجروح کر دیتے ہیں۔
اس بیماری کا علاج جماعت اسلامی جیسی تنظیمیں اس طرح نہیں کرسکتیں جس طرح بڑے بڑے سرمایہ داروں اور وڈیروں، حکمرانوں اور اہل اقتدارکی طرف سے لفافہ اسکیم کے تحت کیا جاتا ہے۔ جماعت کے لیے تو واحد راستہ باہمی تعلقات اور ذاتی روابط تھا اور ہے۔ صفدر بھائی رات گئے تک اخبارات کے دفاتر میں موجود عملے سے ملاقاتیں جاری رکھتے۔ جناب نعیم صدیقی، صفدر صاحب کی کارکردگی اور احساس ذمے داری کی اکثر تحسین فرمایا کرتے تھے۔ نعیم صاحب تخلیقی شخصیت تھے، جن کے قلم سے نظم ونثر ہر صنف میں معجز نما تحریریں اور کلام ظہور پزیر ہوتا رہتا تھا۔ انہوں نے نظمِ جماعت سے کہا کہ ان کو اپنے علمی کام کے لیے شعبے کی ذمے داری سے فارغ کردیا جائے اور اس شعبے کی نظامت ان کے نائب صفدر علی چودھری کے سپرد کردی جائے۔ چنانچہ صفدر صاحب ناظم شعبہ کی حیثیت سے زیادہ اعتماد اور دھڑلّے سے میدان میں جُت گئے۔ یہ غالباً 1973ء کی بات ہے۔ یوں مرحوم نے سال ہا سال اس ذمے داری کو نبھایا۔ ملکی ہی نہیں، غیرملکی صحافیوں، خبررساں ایجنسیوں اور اخبارات ورسائل سے بھی راہ ورسم پیدا کی۔
صفدر صاحب روابط کے لیے اومنی بسوں، رکشوں اور تانگوں پر سفر کرتے۔ جب ایک سیکنڈ ہینڈ موٹرسائیکل خریدنے کے قابل ہوئے تو پھر اپنی موٹر سائیکل پر ہر دم بھاگ دوڑ میں مصروف رہتے۔ بعد میں مرکز جماعت میں گاڑیوں کی سہولت بھی میسر آگئی اور کام میں کافی آسانی پیدا ہوگئی۔ بہت سے صحافی اور قلم کار ان کے مہمان ہوتے اور وہ حسب استطاعت سب کی تواضع اور مدارات کا اہتمام کرتے۔ جب مرکز جماعت منصورہ میں منتقل ہوا تو ہمہ وقتی کارکنان کے لیے کچھ کوارٹر اور مکانات بھی تعمیر ہوگئے۔ اب صفدر صاحب کی رہائش یہاں آگئی۔ صفدر صاحب کو یک گونہ اطمینان ہوا کہ دوسرے شہروں سے آنے والے صحافی حضرات اور علمی وادبی شخصیات کو آسانی سے مرکز میں ٹھیرانے اور ان کی خدمت کرنے کے مواقع موجود ہیں۔ صفدر صاحب کے گھر پر بھی ہر دور میں مہمانوں کی آمدورفت جاری رہتی تھی۔ ان مہمانوں میں بڑی تعداد طلبہ کی ہوتی تھی۔ اسلامی جمعیت طلبہ سے تعلق رکھنے والے شاید ہی کوئی رکن یا ذمے دار ایسے ہوں جو صفدر صاحب کے بے تکلف اور قریبی دوستوں میں شامل نہ رہے ہوں۔ وہ ہر ایک کو بھائی کہہ کر پکارتے اور انہیں بھی ہر ایک صفدر بھائی کہہ کر خطاب کرتا تھا۔