رہبرِ ملت، قاضی حسین احمدؒ

120

5 اور6 ؍جنوری 2013ء کی درمیانی شب ڈیڑھ بجے کے قریب ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ ٹیلی فون ذرا فاصلے پر لاؤنج میں پڑا تھا۔ میں نے سوچا کہ اس وقت جو فون آیا ہے وہ معمول کا فون نہیں ہے، معلوم نہیں کیا خبر لایا ہے، اللہ خیر کرے۔ میں جلدی سے بستر سے نکلا، ریسیور اٹھایا۔ منصورہ ایکسچینج آپریٹر برادرم عبدالودود خان نے نہایت غمگین اور گلوگیر لہجے میں انتہائی اندوہناک خبر سنائی۔ دل یقین نہیں کررہا تھا مگر ایسی خبر مرکزی ایکسچینج سے جھوٹی نہیں ہوسکتی تھی۔ عبدالودود کو قاضی صاحب کے ساتھ جماعت کے ہر کارکن کی طرح بے پناہ محبت ہے مگر اس کا ایک اور تعلق بھی کئی سال تک قاضی صاحب سے بہت قریبی رہا۔ اس نے قاضی صاحب کے گارڈ کی حیثیت سے ان کے سفر و حضر میں ان کا ساتھ دیا۔ اس کا تعلق بھی صوبہ خیبر پختون خوا سے ہے۔ میری زبان پہ بے ساختہ آگیا۔ یہ خبر کس نے دی ہے اور کب؟ اس نے کہا اسلام آباد سے قاضی صاحب کے بچوں نے ابھی اطلاع دی ہے۔ تر آنکھوں کے ساتھ میری زبان پر انّا للّٰہ وانّا الیہ راجعون جاری ہوگیا۔
پھر میں نے اپنے اہلِ خانہ کو اطلاع دی۔ ہر شخص غمزدہ اور دم بخود تھا۔ تحریکِ اسلامی، ملتِ اسلامیہ پاکستان، پورے عالم اسلام اور دنیا بھر کی اسلامی و دینی اور جہادی تحریکوں کے لیے یہ ایک ناقابلِ تلافی نقصان تھا۔ یہ خبر ظاہر ہے پورے ملک بلکہ پوری دنیا میں لمحات میں پھیل گئی۔ بس پھر کیا تھا، اطلاع دینے کے لیے اور اس اطلاع کی تصدیق و تفصیل جاننے کے لیے ٹیلی فون کالوں اور موبائل پر ایس ایم ایس پیغامات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہر جنازے پر کل من علیھا فان کی تلاوت کرکے پر تاثیر تذکیر کرنے والا عظیم مربیّ و مزکّی آج خود اس آیت کے مطابق دنیائے فانی سے کوچ کر گیا تھا۔ دل کہتا تھا کہ کاش آج موت کو موت آجاتی مگر نہیں، بے چاری موت اور فرشتۂ اجل سب اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتے ہیں!
قاضی صاحب کی پوری زندگی عزیمت اور عظمت کی بہترین مثال ہے۔ بچپن سے لے کر جوانی تک اور جوانی سے لے کر زندگی کے آخری لمحے تک وہ مقصد حیات کو رضائے الٰہی کا حصول سمجھ کر ہرگام آگے بڑھتے رہے۔ کسی قسم کے حالات میں ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ وہ عالی ہمت اور بلند حوصلہ کارکن اور قائد تھے۔ علامہ اقبال کے شیدائی اور سید مودودیؒ کے سپاہی۔ مختصر لفظوں میں چیتے کا جگر اور شاہین کا تجسّس قاضی صاحب کی پہچان تھی، ہر لمحے اپنی منزل کی جانب بڑھتے رہنے کی آرزو اور سنگلاخ وادیوں میں جرأت مندانہ پیش قدمی!
چیتے کا جگر چاہیے شاہیں کا تجسس
جی سکتے ہیں بے روشنیِ دانش و فرہنگ
نگاہ پاک ہے تیری تو پاک ہے دل بھی
کہ دل کو حق نے کیا ہے نگاہ کا پیرو!
حقیقتِ ابدی ہے مقامِ شبیری
بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی
تیرے نفس سے ہوئی آتشِ گل تیز تر
مرغِ چمن! ہے یہی تیری نوا کا صلہ !
پہلی بار قاضی صاحب سے پشاور میں ان کے کاروباری دفتر میں ملاقات ہوئی تھی۔ بڑے تپاک سے ملے۔ پشاوری چائے اور بسکٹوں سے تواضع کی۔ ان کی شخصیت ظاہری طور پر بھی بہت پرکشش تھی اور ان کے چہرے سے احساس ہوتا تھا کہ وہ اپنے اندر انقلابی روح لیے بیٹھے ہیں۔ بعد کے ادوار میں قاضی صاحب پشاور شہر کے امیر جماعت، پھر صوبہ سرحد کے صوبائی امیر بنے۔ میں اس دور میں بیرون ملک چلا گیا تھا۔ جماعت کے مرکزی و صوبائی قائدین کے بارے میں دوست احباب کے خطوط سے معلومات ملتی رہتی تھیں۔ پھر معلوم ہوا کہ ضیا الحق کے مارشل لا میں پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) کی جماعتوں نے انتخابات کے لیے بنیادی انتظامات اور دیگر امور نپٹانے کی خاطر جنرل ضیا الحق کی درخواست پر عبوری حکومت میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ مجھے یہ خبر اچھی تو نہ لگی مگر چوں کہ یہ اجتماعی فیصلہ تھا اس لیے بیرون ملک بیٹھے ہوئے ہم لوگوں نے بھی اسے قبول کرلیا۔
اسی دور میں معلوم ہوا کہ جماعت اسلامی کے قیم چودھری رحمت الٰہی صاحب، پروفیسر غفور احمد صاحب اور محمود اعظم فاروقی صاحب کے ساتھ جماعت کی تین رکنی ٹیم میں کابینہ میں چلے گئے ہیں۔ صوبہ سرحد کے امیر قاضی حسین احمد صاحب کو مرکز جماعت میں میاں طفیل محمد صاحب کے ساتھ قیم کی ذمے داری پر فائز کر دیا گیا ہے۔ کینیا میں ہمارے ساتھی قاضی صاحب کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے تھے۔ مجھ سے انہوں نے تبصرہ مانگا تو میں نے مختصر طور پر کہا: ’’امیر و قیم دونوں اپنی اپنی ذات میں خوب ہیں، بزرگی کا ہوش اور جوانی کا جوش مل کر حسین امتزاج قائم کریں گے۔‘‘
اس عرصے میں جب پہلی مرتبہ میں پاکستان آیا تو منصورہ میں قائدین سے ملاقات کے دوران قاضی صاحب سے بھی تفصیلی تبادلۂ خیالات ہوا۔ وہ اس زمانے میں زیادہ تر تنظیمی دورے اور جماعتی امور نپٹا رہے تھے۔ مجھ سے کینیا کے حالات پوچھتے رہے اور پھر فرمایا: ’’اس ملک کو دیکھنے کا شوق ہے، کبھی موقع ملا تو ان شاء اللہ ضرور وزٹ ہوگی۔‘‘ میں نے عرض کیا کہ ہمیں آپ کی آمد کی بڑی خوشی ہوگی۔ چنانچہ اس کے جلد ہی بعد ڈاکٹر سید مراد علی شاہ صاحب کے ہمراہ سوڈان میں ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد کینیا تشریف لائے۔ ان کی آمد کی اطلاع ہمیں پہلے سے مل چکی تھی۔ ہم نے ان کے لیے کئی پبلک خطابات اور اپنے تمام مراکز کے دوروں کا پروگرام ترتیب دیا۔ یہ پروگرام خاصے ٹائٹ تھے اور بعض مقامات کا سفر بھی طویل مگر قاضی صاحب ہمارے اس شیڈول کے مطابق پوری مستعدی اور مسرت کے ساتھ ہر پروگرام میں شریک ہوئے۔ جناب قاضی صاحب کا وہ دورہ یادگار تھا۔ اس سے قبل امیر جماعت محترم میاں طفیل محمد صاحب اور مولانا خلیل حامدی صاحب کینیا کا دورہ کرچکے تھے۔ ان کے علاوہ پروفیسر خورشید احمد صاحب اور خرم مراد صاحب بھی اپنی شفقتوں سے نواز چکے تھے۔
نیروبی کی مرکزی جامع مسجد ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں قاضی صاحب کا خطاب ’’جہادِ افغانستان‘‘ کے موضوع پر تھا۔ اس زمانے میں جہاد اپنے جوبن پر تھا اور پوری دنیا کی نظریں اس جہاد کے نتائج کی تلاش میں تھیں۔ ابھی کافی سفر باقی تھا مگر قاضی صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ میں اپنے بھائیوں کی خدمت میں یہ بشارت اور پیشگی مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں کہ ان شاء اللہ سوویت یونین کا قبرستان سرزمینِ افغانستان ہوگی۔ پھر انہوں نے فرمایا: ’’ہمارے دانش ور یہ بات کہتے نہیں تھکتے کہ روس جہاں بھی جاتا ہے کبھی واپس نہیں پلٹتا اور یہ بائیں بازو کے دانش ور اپنے اس دعوے کو تاریخی حقیقت قرار دیتے ہیں۔ میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ روس کے بارے میں یہ خود ساختہ حقیقت محض پروپیگنڈا ہے جبکہ اس سے بڑی، پائیدار اور ثابت شدہ حقیقت یہ ہے کہ غیرت مند افغانوں نے تاریخ کے کسی دور میں غلامی قبول نہیں کی۔ وہ آزادی کے متوالے اور اس کے لیے سب کچھ قربان کر دینے کے جذبے سے سرشار ہیں۔ برطانیہ عظمیٰ کی فوج کا جو انجام افغانستان میں ہوا تھا اسے انگریز فوج اور ان کے مورخین آج تک نہیں بھولے۔ روس کا انجام ان سے بھی زیادہ عبرت ناک ہوگا۔‘‘
کینیا کے بہت سے احباب روس کی شکست اور اس کی فوجوں کی پسپائی کے بعد قاضی صاحب کے ان الفاظ کو یاد کرتے تھے اور اہلِ دانش پکار اٹھتے تھے: ’’قلندر ہر چہ گوید دیدہ گوید‘‘۔ قاضی صاحب افغانوں کی تاریخ، افتادِ طبع، نسلی و ملّی روایات ہر چیز سے بخوبی واقف تھے اور پھر روس کے مقابلے پر جہادِ افغانستان میں تو وہ اگلے مورچوں پر جا کر خود، سر بکف افغان و دیگر نسلوں کے مسلمان مجاہدین کے ساتھ جنگ میں شریک بھی ہوئے تھے۔ ان کی بات محض علمی تجزیے کی حیثیت نہیں رکھتی تھی بلکہ عملی طور پر وہ اس کے جملہ رموز و اسرار اور نشیب و فراز کو جانتے تھے۔ اس جہاد کے دوران وہ جب بھی افغانوں کی فتح اور روس کی شکست کا تذکرہ کرتے، پورے ایمان و یقین کے ساتھ کرتے۔ افغانوں کی تعریف سے اقبال کا کلام بھرا پڑا ہے۔ قاضی صاحب اس معاملے میں علامہ کے اشعار اپنی تقاریر و خطابات اور مضامین و مقالات میں یوں پیش کرتے تھے کہ وہ نگینوں کی طرح چمکتے اور پھولوں کی طرح مہکتے تھے
آسیا یک پیکرِ آب و گلِ است
مِلّتِ افغاں در آں پیکر دل است
از فسادِ او، فسادِ آسیا
درکشادِ او، کشادِ آسیا!
اسی طرح اردو میں علامہ کی ہر کتابِ شعر و سخن میں بھی جگہ جگہ غیور افغانوں کا ایمان افروز تذکرہ ملتا ہے۔ قاضی صاحب نے ایک مرتبہ پوری ایک غزل مجمع میں سنائی تو ہر شخص جو اشعار کو سمجھتا تھا، جھوم اٹھا۔ مرحوم اقبال کے الفاظ میں فرما رہے تھے، اور ہم گوش برآواز تھے۔
ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا
اس دشت سے بہتر ہے نہ دلی نہ بخارا
جس سمت میں چاہے صفت سیلِ رواں چل
وادی یہ ہماری ہے، وہ صحرا بھی ہمارا
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا
دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
اللہ کو پامردئ مومن پہ بھروسا
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
اخلاصِ عمل مانگ نیا گانِ کہن سے
شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدارا!
حق مغفرت کرے قاضی صاحب کی زندگی کا ہر لمحہ اضطراب و بے قراری، جدوجہد اور کاوش، فکرِ امت اور اسلام کی سربلندی کا ترجمان تھا۔ آخر اس بے قراری کو قرار آہی گیا۔