!امام حسن البناؒ کے جانشین عمر تلمسانیؒ کی یادداشتیں

143

امام شہید کا پیغام
میں امام شہید کی آواز اب بھی سن رہا ہوں۔ یہ آواز ہمیشہ میرے کانوں سے ٹکراتی رہے گی اور امام کا ایمان افروز پیغام یاددلاتی رہے گی۔ آپ نے اخوان کو وضاحت کے ساتھ یہ پیغام پہنچایا تھا۔ امام شہید اور اخوان المسلمون سے جو جھوٹی باتیں منسوب کی جاتی ہیں یہ وضاحت ان سب کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔ آپ نے فرمایا:
’’اے اخوان المسلمون! خصوصاً وہ ساتھی جو زیادہ جوشیلے اور جلد نتائج کے آرزو مند ہیں سن لیجیے۔ میں ایک نہایت کام کی بات تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ آج تمہارے اس عظیم اجتماع میں اس بلند منبر پر کھڑے ہو کر میں نسخہ کیمیا سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ تمہارا یہ راستہ ایک لگا بندھا اور مقرر راستہ ہے۔ اس کی حد بندی اور نشانِ منزل طے شدہ ہیں۔ میں ان حدود کی جنہیں میں نے سوچ سمجھ کر اختیار کیا ہے اور جن کی درستی پر مجھے اطمینان قلب حاصل ہے کبھی بھی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔ یہ راستہ طویل اور کٹھن سہی مگر صحیح راستہ صرف یہی ہے۔ منزل تک پہنچنے کے لیے اس کے علاوہ کوئی دوسری راہ نہیں ہے۔ مردانگی جلد بازی اور جوش محض کا نام نہیں بلکہ حقیقی جوان مردی صبر واستقامت، سنجیدگی اور مستقل مزاجی میں پنہاں ہے۔ پس تم میں سے جو ہتھیلی پر سرسوں جمانے کا شوق رکھتا ہے اسے جان لینا چاہیے کہ یہ تحریک اس کا میدان نہیں ہے جو پکنے سے پہلے ہی پھل کو توڑنا چاہے اور کھلنے سے قبل ہی پھول سے کھیلنا چاہے میرا اور اس کا ساتھ نہیں نبھ سکتا۔ میری ایسے شخص کو مخلصانہ نصیحت ہے کہ وہ اس تحریک کو چھوڑ کر کسی دوسری تنظیم سے وابستہ ہو جائے۔ اسے برادران گرامی قدر! جو صبر و استقامت سے میرے ساتھ مقررہ راستے پر گامزن رہنا چاہے تو اسے جان لینا چاہیے کہ پہلے بیج ڈالا جاتا ہے پھر وہ اگتا ہے اور پودا نشوونما پاتا ہے۔ مدت مقررہ اور محنت شاقہ کے بعد پھول کھلتے ہیں اور پھل آتا ہے۔ پھر انتظار کے بعد پھل پکتا ہے اور تب اس پھل کو توڑنے کی نوبت آتی ہے۔ جو اس اصول کو سمجھ گیا ہے اسے سفر جاری رکھنا چاہیے اور اس کا اجر اللہ ربّ العالمین کے ذمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ جو محسنین کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔ ہمیں بھی ہمارے اجر سے محروم نہ رکھے گا۔ یہ اجر فتح و کامیابی کی صورت میں بھی عطا ہو سکتا ہے اور شہادت کی خلعت فاخرہ کی صورت میں بھی دیا جاسکتا ہے۔
اس صراحت و وضاحت کے بعد بھی ان لوگوں کی غلط بیانی میں کوئی وزن رہ جاتا ہے جو امام پر اور تحریک پر تشدد پسندی اور دہشت گردی کا الزام لگانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ یہ ہمارے دشمن نہیں بلکہ اغراض و ہوس کے بندے ہیں اور دعوت ربانی کے دشمن۔ مختصراً میں کہنا چاہوں گا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے سے عوام الناس بخوبی واقف ہو چکے ہیں اور اخوان کے مقاصد و اہداف سے باخبر ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اخوان کا کام تیزی سے پھیل رہا ہے اور ہر روز نئی شاخیں کھل رہی ہیں۔
حسن البنا شہید کی تعلیمات کتابوں کے اوراق کی زینت نہیں بلکہ انہوں نے چلتے پھرتے مدرسوں کی صورت اختیار کر لی ہے۔ دعوت الی اللہ سے رغبت رکھنے والے لاکھوں نوجوان ان تعلیمات کے ذریعے حسن البنا سے تلمذ حاصل کرتے ہیں اور دنیا کے کونے کونے میں پھیلے اپنا کام کر رہے ہیں۔ یہ تعلیم ایسی مؤثر اور مدلل ہے کہ اس کے مقابلے میں پر کوئی معاند ٹھیر نہیں سکتا اگرچہ اس نے بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کر رکھی ہوں۔ ان نام نہاد مفکرین اور دانشور حضرات کی قیادت کا دور بیت چکا ہے اور دعوتِ اسلامی کا کام ان کی خواہشات کے علی الرغم نہایت برق رفتاری سے پھیل رہا ہے۔ اب مسلم نوجوان اس راہ پر گامزن ہو چکے ہیں جس میں ان کی دنیا وآخرت کی سرخروئی مضمر ہے۔
متوازن شخصیت:
قارئین اس اللہ کے ولی کی آواز سنیے جس نے یقین اور علم کی روشنی میں کہا۔
اے اخوان المسلمون! جذبات کے جوش کو عقل اپنوں ہوش کی ٹھنڈک سے روشناس کرائیے اور عقل و دلیل کے چراغوں کو جذبات کے شعلوں سے روشن کیجیے۔ ہمیشہ متوازن طرز عمل اختیار کیجیے۔ نہ عقلیت پرستی کی رو میں بہہ کر برف کی سل بن جائیے اور نہ جذباتیت کے طوفان میں اڑ کر شعلہ جوالہ کی شکل اختیار کیجیے۔ تصورات کو حقائق و واقعات کی کسوٹی پر پرکھیے اور حقائق کو اپنی جدت خیال اور بلندی تخیل سے عام فہم اور سادہ انداز میں پیش کیجیے۔ کسی ایک جانب جھک کر دوسرے پہلو سے مکمل صرف نظر کی پالیسی کبھی نہ اپنائیے۔ قوانین فطرت سے ٹکرانے کا خیال بھی کبھی ذہن میں نہ لانا کیوں کہ یہ تباہی کا پیش خیمہ ہو گا۔ ہاں البتہ مظاہر قدرت پر غلبہ حاصل کیجیے، ان کی تسخیر کی قرآنی تعلیم کو عملی جامہ پہنائیے اور ان مظاہر کو خدمت انسانی کے لیے استعمال کیجیے۔ پوری تیاری اور جدوجہد کر چکو تو پھراللہ کی نصرت اور فتح کی راہ دیکھنا۔ یہ پھر زیادہ دور نہ ہو گی۔
ہوا و ہوس کے بندے ان وضاحتوں کے بعد بھی اخوان المسلمون پر بے ہودہ اتہام لگاتے ہیں۔ ہمیں ان کی پروا نہیں۔ ہم اللہ کے فضل سے ان سارے الزامات سے پاک اور بری ہیں جو ہم پر لگائے جاتے ہیں۔
(۱) (نوٹ: جان بچانے کی خاطر قرآن میں بحالت اضطرار کلمہ کفر کی رخصت دی گئی ہے۔ اگرچہ عظمت تو یہی ہے کہ عزیمت اختیار کی جائے۔ بہرحال ہر شخص کی ہمت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ مجھ جیسے کمزور ایمان اور ضعیف دل لوگوں کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنے کمال رحم سے ربّ العزت نے اس رخصت کی گنجائش رکھی۔ سورہ النحل کی آیت میں ارشاد فرمایا: ’’جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور دل اس کا ایمان پر مطمئن ہو (تب تو خیر) مگر جس نے دل کی رضامندی سے کفر کو قبول کر لیا اس پر اللہ کا غضب ہے اور ایسے سب لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔ (مترجم)
(یادوں کی امانت از سید عمر تلمسانی مرشدِ عام سوم اخوان المسلمون، ترجمہ: حافظ محمد ادریس: صفحہ ۱۸۹ تا ۲۰۷)