پی ڈبلیو سی پروگرام کی جھلکیا

94

PWC اور FES کے زیر اہتمام پروگرام کا آغاز مزدور رہنما سرزمین افغانی نے تلاوت کلام پاک سے کیا اور کانکنوں میں حادثات سے انتقال کرنے والے مزدوروں کے لیے دعائے مغفرت کی۔ مزدور رہنما قموس گل خٹک نے کہا کہ جرمنی عالمی جنگ میں تباہ و برباد ہوگیا تھا لیکن جرمن قوم نے سخت محنت کرکے ملک کو ترقی دی۔ مزدور رہنما ظہور اعوان اور قموس گل خٹک نے جسارت کے صفحہ محنت کے کردار کے حوالے سے زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ مزدور رہنما شوکت علی چودھری نے دنیا کے پانچ ممالک کے کانکنوں کے حالات کا تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مائنز مالکان منافع میں مزدور کو حصہ نہیں دیتے۔ ایک کان میں حادثہ کے بعد بڑی جدوجہد سے 70 دن کے بعد مزدور کو کان سے نکالا۔ کوئلہ باہر سے آنے سے مقامی کوئلہ کی مانگ کم ہورہی ہے جس سے بیروزگاری بڑھے گی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مزدور رہنما ظہور اعوان نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ پروگرام کے آخری دن شرکاء کو تین گروپ میں تقسیم کرکے مسائل پر رپورٹ بنانے کے لیے کہا گیا۔ مائنز میں مزدور مسائل کیا ہیں؟ پیشہ ورانہ صحت و سلامتی کی صورتحال کیا ہے؟ مائنز میں حادثات کو کس طرح روکا جاسکتا؟ حادثات کو روکنے میں حکومت، مالکان اور مزدور کیا کرسکتے ہیں؟۔ کانکنوں کی ملک گیر تنظیم بنانے کے لیے ہر صوبے اور فاٹا سے تین تین مزدور رہنماؤں کو شامل کیا گیا ہے۔ پروگرام میں جسارت کے قاضی سراج نے صفحہ محنت شرکاء میں تقسیم کیے جس کو مزدور رہنماؤں نے بہت پسند کیا۔