ڈاکٹروں کی قلت کا مسئلہ حل کیا جائے 

325

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سنیچر کو کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں تقریب تقسیم اسناد کے موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں درست توجہ دلائی ہے کہ خواتین ڈاکٹر ڈگری کے حصول کے بعد گھر بیٹھنے کے بجائے اپنے حصے کا کام کریں ۔ یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے کہ خواتین کی اکثریت ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد گھر بیٹھ جاتی ہے اور اس طرح ملک میں ڈاکٹروں کی قلت مسلسل برقرار ہے ۔ یہ اہم نکتہ ہے کہ تمام میڈیکل کالجوں میں طالبات کی اکثریت ہے ۔ اکثر میڈیکل کالجوں میں طالبات کا تناسب 80 فیصد سے بھی زایدہے ۔ تاہم جب عملی زندگی میں کام کرنے کی باری آتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ فارغ التحصیل طالبات کا 80 فیصد حصہ گھر بیٹھ چکا ہے ۔ پہلے میڈیکل کالجوں میں طلبہ و طالبات کا کوٹہ مقرر تھا تاہم بعد میں اسے میرٹ سے مشروط کردیا گیا ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عملی طور پر ملک میں ڈاکٹروں کی قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ پاکستان میں پہلے ہی طب کے شعبے میں دیگر ممالک کے مقابلے میں تنخواہیں اور مراعات انتہائی کم ہیں ۔ جیسے ہی یہ یہ ڈاکٹر تھوڑے سے تجربہ کار ہوتے ہیں اور اپنے شعبے میں مہارت حاصل کرتے ہیں ، یہ بیرون ملک اچھے مستقبل کے لیے پرواز کرجاتے ہیں ۔اور اگر کوئی خدمت کے لیے آ جائے تو اسے بے عزت کیا جاتا ہے کہ اتنی تنخواہ تمہیں کیسے مل رہی ہے اس طرح ملک میں عملی طور پر موجود ڈاکٹروں کی بیرون ملک منتقلی کی وجہ سے پاکستان مسلسل ڈاکٹروں کی قلت کا شکار ہے ۔ اس مسئلے کے حل کے لیے تقریبا پانچ برس قبل پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ایک مرتبہ پھر میڈیکل کالجوں میں طلبہ اور طالبات کا کوٹہ مقرر کردیا تھا تاہم اسے عدالت عظمیٰ نے ختم کردیا ۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی اور فارغ التحصیل ڈاکٹروں کا 80 فیصد بجائے عملی میدان میں اترنے کے چولہا ہانڈی سنبھالتا رہا تو پھر ملک میں صحت کا یہی حال رہے گا۔ خواتین کی ویسے بھی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ بچوں کی پیدائش کے فوری بعد انہیں لازمی چھٹی درکار ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ بھی رات کے اوقات میںیا امن و امان اور قدرتی آفات کی صورت میں ان خواتین ڈاکٹروں کی دستیابی مشکل ہی ہوتی ہے ۔ شہر کے نواحی علاقوںیا دیہی علاقوں میں ان کی تعیناتی تقریبا ناممکن ہی ہے ۔ ایسی صورت میں مرد ڈاکٹروں کی ضرورت پڑتی ہے مگر وہ دستیاب ہی نہیں ہیں ۔ اب جبکہ صدر مملکت خود اس اہم مسئلے کو سمجھتے ہیں اور انہوں نے اس کا اظہار بھی کیا ہے تو حکومت کو چاہیے کہ وہ اس پر خود عدالت میں جائے اور عدالت کو زمینی حقائق سے آگاہ کرے ۔ سند یافتہ اور تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے باعث مریض مجبورا اتائی ڈاکٹروں کا شکار ہوتے ہیں اور مناسب علاج نہ ہونے کے باعث اپنی جان سے بھی جاتے ہیں ۔