امام حسن البناؒ کے جانشین عمر تلمسانیؒ کی یادداشتیں!

147

شہادت گاہ الفت:
اخوان کی فکر خالصتاً اسلامی اصولوں اور عقائد پر مبنی ہے۔ ہمیں غیر اسلامی نظریات سے ہرگز کوئی سروکار نہیں۔ امام شہید نے اپنی دعوت کا خلاصہ یوں بیان فرمایا۔ ’’اخوان کی دعوت لوگوں کو اسلام کی علمی و عملی روایات سے روشناس کرانے کی کوشش ہے۔‘‘
مسلمانوں کے تنزل و ادبار اور محکومی و محرومی کی حالت کو دیکھ کر نہ صرف امام تڑپ اٹھے تھے بلکہ ہر وہ شخص جسے اسلام اور اہل اسلام کے معاملات سے ذرا بھی دلچسپی تھی، وہ اس حالت پر روئے بغیر نہ رہ سکا۔ آپ نے اکابرین قوم و وطن کے پاس جا جا کر انہیں صورت حال کی سنگینی کا احساس دلایا۔ مصر کی خاک آپ نے چھان ماری اور ہر دروازے پر دستک دی۔ اس جدوجہد کے دوران آپ کو ہر قسم کے لوگوں سے سابقہ پیش آیا۔ کچھ لوگوں نے آپ کی بری طرح سے حوصلہ شکنی کی اور کچھ نے آپ کو اس کام کے خطرات سے ڈرا کر محتاط روش اختیار کرنے کی نصیحت فرمائی مگر راہ حق کے راہی بھلا کبھی حوصلہ ہارتے ہیں یا اس عظیم کام کو سہل انگاری کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔
ابتدائی دور میں لوگوں سے رابطے کا یہ سلسلہ بڑا ایمان افروز اور دلچسپ تھا۔ اکابر میں سے احمد تیمور پاشا مرحوم سے جب امام ملے اور اپنا پروگرام پیش کیا تو انہوں نے اس پروگرام کو بہت سراہا اور بڑی رغبت سے تعاون کرتے رہے۔ امام کے اپنے حلقہ اثر اور دوستوں میں سے فوری طور پر دعوت حق قبول کرنے والوں میں استاذ احمد السکری، شیخ حامد عسکر مرحوم اور شیخ احمد عبدالحمید خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے امام کے ساتھ عہد کیا اور حلف اٹھایا کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں زندگی کے ہر پہلو اور معاشرے کے جملہ افراد کو مکمل طور پر اسلام کے رنگ میں رنگ دیں گے۔ یہ سب لوگ اسماعیلیہ میں امام کے قریبی دوست تھے۔
بنیادی اصول اور طریق کار:
پھر گردش ایام نے ان چاروں دوستوں کو الگ الگ کر دیا اور حالات سے مجبور ہو کر ہر ایک تلاش معاش میں اسماعیلیہ سے نقل مکانی کر گیا۔ تحریک اسلامی کا اولین بیج اسماعیلیہ میں ذوالعقدہ ۱۳۴۷ھ (1928ء) میں ڈالا گیا تھا۔ یہ تحریک اپنی مضبوط بنیادوں پر اسی شہر میں قائم ہوئی۔ پس ہر شخص کو یہ جان لینا چاہیے کہ اخوان المسلمون کی تحریک۔۔۔
۱۔ اسلاف کے نقش قدم پر اور کتاب و سنت کی روشنی میں کام کرتی ہے۔
۲۔ اس کا طریق کار خالصتاً سنت رسول اللہ ؐ کے مطابق ہے اور آپؐ کے عمل اور حدیث کے خلاف کبھی کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔
۳۔ اس کے نزدیک تصوف کا مفہوم تزکیہ نفس اور اعمال اسلامیہ کی پابندی نیز خلق سے بے نیازی اور اللہ پر بھروسا ہے۔ کسی مخلوق سے نہ خوف اور نہ امید وابستہ کی جائے یہ ہے ہمارا تصوف۔
۴۔ یہ ایک سیاسی تنظیم ہے جس کا مقصد نظام حکومت کی اصلاح اور امت مسلمہ کی عزت و شرف کی حفاظت نیز امت مسلمہ کے دیگر اقوام کے ساتھ عدل و مساوات کی بنیاد پر باہمی تعلقات کا اہتمام ہے۔
۵۔ تحریک کے اندر روحانی تربیت کے ساتھ جسمانی ورزش اور تربیت کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔
۶۔ علمی اور ثقافتی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی اور اہتمام۔
۷۔ اقتصادی اور معاشی منصوبہ بندی۔
۸۔ معاشرے کی بیماریوں کا علاج کرنے کے لیے ایک عمرانی و معاشرتی تنظیم۔ اس کے علاوہ اس دعوت کے امتیازی اوصاف اور خصوصیات مندرجہ ذیل بھی ہیں۔
الف۔ اختلافی امور سے مکمل اجتناب۔
ب۔ اکابر پرستی سے احتیاط۔
ج۔ پارٹی بازی اور تفرقے سے احتراز۔
د۔ دعوتی کام میں منظم منصوبہ بندی اور تدریجی طرز عمل۔
ھ۔ عملی کاموں کو تقاریر و اعلانات پر ترجیح دینا۔
و۔ نوجوانوں کے اندر دعوت کی قبولیت کے لیے بے پناہ شوق پیدا کرنا۔
ز۔ دیہات اور شہروں میں تیزی سے دعوت کا پھیلاؤ۔
ابتداء میں ان امور پر پوری توجہ مرکوز کی گئی جو اوپر بیان ہوئے ہیں۔ اس کے بعد وہ مرحلہ آیا جس میں دعوت کے تقاضوں کوپیش نظر رکھ کر پیغام کو عوام الناس تک پہنچانا، دعوت کے مددگاروں کا انتخاب، دعوتی لشکروں کی تیاری اور صف بندی کی طرف خصوصی توجہ دی گئی۔ اب ہم نے دوسرا قدم اٹھایا اور اس مرحلہ پر مندرجہ ذیل منصوبوں پر عمل کیا گیا۔
۱۔ مدارس کا قیام۔ ان کے ذریعے باہمی تعارف اور تعلیم و تربیت کا انتظام اور کارکنان کے لیے تعلق باللہ کو پروان چڑھانے کا اہتمام کیا گیا۔
۲۔ اسکاؤٹنگ اور کھیلوں کی تنظیم۔ اس کے ذریعے جسمانی تربیت، نظم و ضبط اور اطاعت امر کا نظام عملاً راسخ کیا گیا۔
۳۔ حلقہ ہائے درس۔ اخوان کے مدارس اور کلبوں میں باقاعدہ اسلامی موضوعات پر درس کے حلقے قائم کیے گئے۔
(جاری ہے)