گورنرراج لگایا تو اسے اڑانے میں ایک منٹ لگے گا،سپریم کورٹ

215

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے واضح کیا ہے کہ سندھ میں گور نر راج لگایا تو اسے اڑانے میں ایک منٹ لگے گا۔

سپریم کورٹ میں جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس میں کہا کہ 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے سارے معاملے پر حیرت ہوئی کہ کیسے نام ای سی ایل میں ڈالے گئے اور وفاقی حکومت اس کی کیسے وضاحت دے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے جواب گزاروں کو جے آئی ٹی رپورٹ پر جواب داخل کرنے کا کہا اور حکومت نے ان کے نام ای سی ایل میں ڈال دئیے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جے آئی ٹی نے ایک چٹھی لکھ دی تو کسی نے اس پر ذہن استعمال نہیں کیا، جے آئی ٹی کوئی صحیفہ آسمانی نہیں، گورنر راج لگا تو اس آئین کے تحت لگے گا اور کسی نے گورنر راج لگایا تو اسے اڑانے میں ایک منٹ لگے گا۔

عدالت کے طلب کیے جانے پر وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی عدالت کے روبرو پیش ہوئے جنہیں مخاطب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہاکہ خبردار کسی نے آئین سے باہر ایک بھی قدم اٹھایا، مسٹر وزیر داخلہ، جا کر اپنے بڑوں کو بتادیں ملک صرف آئین کے تحت چلے گا، ہم نے تو اس وقت بھی جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیا جب تھریٹس تھیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی کابینہ کے ارکان ٹی وی پر بیٹھ کر گورنر راج کی باتیں کررہے ہیں، 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے معاملے کو کابینہ میں لے جا کر نظرثانی کریں چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ کی تاحال توثیق نہیں کی اور ساری کابینہ اور وکلا جے آئی ٹی رپورٹ پر تبصرے کررہے ہیں، ان کا اس سارے معاملے سے کیا تعلق ہے، رپورٹ کی بنیاد پر حکومت گرانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ وزراء رات کو ٹی وی پر بیٹھ کر اپنی کارکردگی بتارہے ہوتے ہیں، تمام سیاستدان سن لیں، ہم نے قانون بنا کر اسمبلی کو بھجوائے ہیں۔