امام حسن البناؒ کے جانشین عمر تلمسانیؒ کی یادداشتیں!

116

عظمت رفتہ کی بازیابی:
اسلامی حکومت دور نبوی اور دور خلافت راشدہ میں نہایت مضبوط بنیادوں پر قائم تھی۔ اسے پوری دنیا میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور دشمنوں کے دل اس کی ہیبت سے لرزاں رہتے تھے۔ پھر دور انحطاط شروع ہوا اور آہستہ آہستہ امت مسلمہ پر کمزوری اور غفلت مسلط ہو گئی۔ زمانہ نے پھر وہ ایام بھی دکھائے جب ہمارا کوئی وزن اور کوئی قیمت اقوام عالم کے درمیان نہ رہی تھی۔ آج ہم اپنے اسلاف کی عظیم امانت اور ورثے کو اٹھانے کی بھی سکت نہیں رکھتے۔ ہم پراگندہ حال ہیں اور صلیبی، صہیونی اور کمیونسٹ ہمارے درمیان دندناتے پھرتے ہیں۔ اس دور انحطاط میں اللہ تعالیٰ نے شہید حسن البناؒ کو توفیق عطا فرمائی کہ وہ امت کو منظم کریں۔ آپ نے اخوان المسلمون کی بنیاد رکھی اور یہ تنظیم غیر اسلامی قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کمر بستہ ہو گئی۔ اخوان نے فیصلہ کر لیا کہ ہر مہلک نظریے کا قلع قمع کر کے رہیں گے اور امت مسلمہ کی کھوئی ہوئی عظمت بحال کی جائے گی۔
بنیادی اور عمومی مقاصد:
اس دعوت کے ذریعے امام شہید نے دو بنیادی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اول یہ کہ ملت اسلامیہ کو ہر بیرونی استعمار سے آزاد کرا کر آزادی کے حقیقی تصور سے روشناس کرایا جائے۔ دوم یہ کہ آزاد اسلامی ریاست قائم کی جائے جو مکمل طور پر تعلیمات قرآن پر مبنی ہو۔ ان دو بنیادی مقاصد کے علاوہ ہمارے اور بھی کئی عمومی مقاصد اور اہداف ہیں مثلاً: ہم ناخواندگی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں، غربت و افلاس اور جہالت و امراض سے لوگوں کو نجات دلانا چاہتے ہیں۔ ہمارے مقاصد کا نقطۂ عروج یہ ہے کہ ہم ایسا مسلم معاشرہ وجود میں لائیں جس میں ہر فردِ امت عزت و احترام کا مستحق گردانا جائے اور معاشرہ بحیثیت مجموعی رفعت و جلال کا مظہر ہو۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر ہم نے جو طریق کار اپنایا ہے، اسے مختصر لفظوں میں ہم مندرجہ ذیل تین نکات میں پیش کر سکتے ہیں۔
۱۔ ایمان محکم ۲۔ مضبوط تنظیم ۳۔ پیہم جدوجہد
اخوان کی دعوت کے کچھ اضافی اصول بھی ہیں مگر یہ کتنے دکھ کی بات ہے کہ جن لوگوں کی جانب سے اخوان کی امداد کی توقع تھی وہی اخوان کی مخالفت اور دشمنی پر اتر آئے ہیں۔ اخوان کی دعوت آخر ہے کیا؟ یہی کہ ہر مسلمان کو اس کا کھویا ہوا مقام اور عزت واپس مل جائے۔ پھر بھی کئی مسلمان اور اہل علم ہماری راہ میں کانٹے بچھاتے اور روڑے اٹکاتے ہیں۔ اس کے باوجود ہمیں کسی کی مخالفت کی پروا نہیں اور کسی رکاوٹ سے ہمارے قدم نہیں رک سکتے۔ اس دعوت کی نصرت کے لیے اللہ کافی ہے اور وہ ہر معاملے پر پورا غلبہ اور قدرت رکھتا ہے۔ ہمارا کوئی ذاتی مقصد اور نفسانی لالچ اس تحریک اور دعوت سے وابستہ نہیں۔ دین کی تجارت کرنے والے اور آیات اللہ کو بیچنے والے جو جی چاہے کہتے رہیں مگر ہم ان کے ہر الزام سے بحمدللہ بری اور پاک ہیں۔
فراست مومنانہ:
امام حسن البنا کی فراست مومنانہ اور دور اندیشی کا اندازہ لگائیے۔ جس دور میں اخوان کی دعوت بڑے زور شور سے پھیل رہی تھی اور روزانہ بے شمار افراد اس تنظیم سے وابستہ ہوتے چلے جا رہے تھے، آزمائش کی بظاہر دور دور تک پرچھائیں بھی نظر نہ آتی تھی اسی زمانے میں آپ نے اخوان کو وصیت فرمائی کہ:
’’مشکل گھاٹیاں تمہارے انتظار میں ہیں اور امتحان کی گھڑیاں آنے والی ہیں۔ تم اخوان کوئی عام سیاسی جماعت یا فلاحی تنظیم نہیں ہو۔ تمہارا وجود باطل کی آنکھوں میں کھٹکے گا۔ تم ایک روح جدید ہو جو قرآن کے پیغامِ حیات بخش کو امت کے جسدِ مردہ میں ڈالنا چاہتے ہو۔ تم ایک روشنئ نو ہو جس کی چمک دمک معرفت الٰہی سے فیض یاب ہے۔ ظمت کا سینہ اس نور سے چھلنی ہو رہا ہے اور امید کی کرنیں نظر آ رہی ہیں۔ تم ایک صدائے نو بہار ہو جو رسول اللہ ؐ کی دعوت کا احیا کرتی ہے تم نے ایک بھاری ذمے داری کو قبول کیا ہے۔ جب کہ باقی لوگوں نے اس سے روگردانی کر لی تھی۔ تم پر عن قریب سخت وقت آنے والا ہے جب تم سے پوچھا جائے کہ تمہاری دعوت کیا ہے؟ تو جواب دینا کہ ہماری دعوت دین اسلام ہے جس کو لے کر محمد رسول اللہ ؐ تشریف لائے تھے اور حکومت اس دین کے اجزا میں سے ایک فریضہ ہے۔ اس پر اگر تم سے کہا جائے کہ یہ تو سیاست ہے تو جواب دینا کہ یہ اسلام ہے، اس میں دورنگی اور تقسیم جسم و روح کا تصور ناپید ہے۔ تم سے اگر کہا جائے کہ تم انقلاب کے نقیب ہو تو جواب میں کہنا کہ ہم تو سچائی اور سلامتی کے علمبردار ہیں۔ اس سچائی پر ہمارا ایمان ہے اور اسی کے اندر ہماری عزت! واضح طور پر باطل پرستوں کو بتا دینا کہ اگر تم ہمارے اوپر ہاتھ اٹھاؤ گے اور ہماری راہ روکو گے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے اور اپنی دعوت کے دفاع کا حق بخشا ہے۔ اگر کوئی بزرجمہر یہ دور کی کوڑی لائے کہ تم مختلف اشخاص اور اداروں سے مدد مانگتے ہو تو کہہ دینا ’’ہم ایک اللہ پر ایمان لائے ہیں اور اس کے ساتھ جس کسی کو بھی ہم نے غلطی اور جہالت سے شریک بنا لیا تھا اس کا کھلم کھلا انکار کرتے ہیں۔‘‘ اگر ظالم کسی بات پر کان نہ دھریں اور اندھی دشمنی پر اتر آئیں تو انہیں کہہ دینا سلام ہے تمہیں، ہم جاہلین سے جھگڑا نہیں کرنا چاہتے۔‘‘