ایک اور پنڈورا بکس

164

اور اب ایک نیا تنازع ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور شہزاد سلیم کے ٹی وی انٹرویو نے کھڑا کردیا ہے۔ ان کا یہ انٹرویو 5ٹی وی چینلوں پر چلا ہے جس پر شدید تنقید کی جارہی ہے اور یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ جن افراد پر مقدمات چل رہے ہیں ان کے بارے میں ڈی جی نیب کا مذکورہ انٹرویو ان کا میڈیاٹرائل ہے۔ اس مسئلے پر گزشتہ جمعہ کو قومی اسمبلی میں بھی اپوزیشن اور حکومت میں شدید جھڑپ ہوئی ہے۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے الزام لگایا ہے کہ یہ سب کچھ چیئرمین نیب کی ہدایت پر ہوا ہے جس سے ارکان پارلیمان کا استحقاق مجروح ہوا ہے چنانچہ تحریک استحقاق پیش کردی گئی ہے۔ حسب توقع حکومت کے ترجمان فواد چودھری ڈائریکٹر جنرل نیب کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ اسپیکر کو ڈکٹیٹ نہ کریں، معاملے کی شروعات اپوزیشن لیڈر ( شہباز شریف) نے کی۔ انہوں نے 3گھنٹے بات کی جس کو براہ راست دکھایا گیا، تحریک استحقاق کے ذریعے نیب کی تفتیش پر اثر انداز ہونا ہے۔ لیکن ایک سیاست دان اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور کسی تحقیقاتی ایجنسی کے افسر میں بڑا واضح فرق ہے جو فواد چودھری سمجھ نہیں پائے۔ انہیں یہ بھی یاد نہیں رہا کہ عمران خان حلف اٹھانے سے پہلے نیب کو گھٹیا ادارہ کہتے تھے۔ چیئرمین نیب نے ڈی جی لاہور کے انٹرویوز کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے اور وہ یہ دیکھیں گے کہ کیا حقائق کے خلاف کوئی بات کہی گئی اور کیا ارکان اسمبلی کا استحقاق مجرو ح ہوا ہے۔ لیکن بنیادی بات تو یہ ہے کہ جن افراد پر مقدمہ چل رہا ہے کیا ان کے خلاف کسی تحقیقاتی افسر کو الزامات کی حمایت میں بولنا چاہیے؟ یہ معاملہ تو عدالت میں زیر بحث آسکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.