تبدیلی کا خواب۔۔۔؟

140

تبدیلی بھی ایک خواب بنتی نظر آرہی ہے۔ ایسا طویل خواب جس کی کوئی تعبیر نہیں۔ یہ خواب دکھانے والے مختلف نعروں اور انداز سے اس قوم کے سامنے آتے رہے۔ کسی نے حقوق کا نعرہ لگایا، کسی نے روشن خیالی کا، کوئی روٹی کپڑا اور مکان دینے کا دعویٰ کرنے لگا، اور کوئی تبدیلی کی چٹان پر چڑھ گیا، قوم نے ہمیشہ ان وعدوں پر یقین کیا اور ہمیشہ مزید ذلت و پستی اس کا مقدر ٹھیری۔ کیا ہم کبھی غور کریں گے کہ بحیثیت قوم ہم کب تک ان اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارا یہ بھٹکنا بھی بنی اسرائیل کے بھٹکنے کی طرح ہم پر اللہ کا عذاب ہی ہو؟؟۔
اس قوم کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار کی راہداریوں میں قدم رکھنے والوں نے ہمیشہ اس قوم سے قربانیاں مانگی اور ساتھ ہی جہالت، عدم برداشت، انتہا پسندی، فرقہ واریت اور تعصب کے الزامات بھی اسی قوم پر لگائے۔ آئیے ذرا ان الزامات کی حقیقت پر غور کریں۔ مانا کہ ہماری قوم کی اکثریت اَن پڑھ ہے۔ آزادی کے 72 برسوں میں ہماری تعلیمی شرح 58 فی صد ہے۔ (جس میں صرف اپنا نام لکھنے اور پڑھنے والے بھی شامل ہیں) جب کہ تیسری دنیا کا ایک چھوٹا سا ملک سری لنکا جس کی تعلیم کی شرح 92 فی صد ہے۔ خود وزیراعظم کے بقول 2 کروڑ سے زائد بچے اسکول جانے سے محروم ہیں تو سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کا ذمے دار کون ہے؟؟ حکمرانوں کی اس سے بڑی نااہلی کیا ہوگی کہ 7 دہائیوں میں بھی یکساں نظام تعلیم نافذ نہیں کرسکے۔ نصاب کے لیے غیر ملکی ماہرین سے مدد لی جاتی جیسے کہ ہمارے اپنے ملک میں ماہرین تعلیم ناپید ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہمارے حکمران قوم کو اس کی تہذیبی جڑوں سے کانٹنے کے لیے ہر ذریعہ اور ہر طریقہ اختیار کررہے ہیں۔ اگر حکمران خود یکسو ہو کر قوم کو ایک ایسا نظام تعلیم دیتے جو ہمیں اپنی تہذیبی شناخت کے ساتھ ساتھ دنیا کے علوم و فنون سے آگاہی فراہم کرتا تو کیا اس قوم کی ذہنی و علمی پسماندگی کا یہ عالم ہوتا؟؟
کیا چائنا اور جاپان نے ترقی کے لیے اپنے تہذیبی ورثے سے تعلق توڑا یا مزید مضبوط کیا؟؟
مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ہوں یا مارشل لا کی پیداوار حکمران عصبیت سب کا من پسند کھیل رہا ہے۔ قوم کو ٹکڑوں میں بانٹ کر اِن پر حکمرانی کرکے پھر قوم پر ہی متعصب کا لیبل لگادو۔ محرومیوں کو ہوا دو، ناانصافی عام کرو اور پھر حقوق کے نام پر تنظیمیں کھڑی کردو، انہیں مسلح کرو، قوم کو ان کے ہاتھوں یرغمال بنتے دیکھو، روزانہ لاشیں، لوٹ مار لیکن حکومتی رٹ ندارد!!! کیا حکمران ملک میں یکساں مواقع فراہم کرنے سے قاصر ہیں؟؟ میرٹ پر فیصلے کرنے میں کیا قباحت ہے؟؟ محرومیاں دور کرنا حکمرانوں کی ذمے داری نہیں؟؟ یہ قوم متعصب نہیں یہ کتنی ’’ایک‘‘ ہے اس کا مظاہرہ دنیا نے 1965ء میں بھی دیکھا اور 2005 کے زلزلے میں بھی۔
عدم برداشت اور فرقہ واریت کا لیبل بھی غیر تو غیر اپنے بھی ہم پر لگاتے ہیں اور اپنی ہی قوم پر یہ الزام لگا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ حالیہ بحران ہی لیجیے۔ ناموسِ رسالت کی حفاظت پر تمام مسلمان ایک تھے، ایک ہیں اور ایک رہیں گے لیکن اس معاملے میں بھی حکمرانوں نے دیوبندی اور بریلوی فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کی۔ بیرونی عوامل ایک طرف لیکن حکمران طبقے کو تو ہوش مندی سے کام لینا چاہیے۔ کیا عجب تھا اگر حکمران ایک میٹنگ علما سے بھی کرلیتے (جس طرح عیسائیوں کے وفد سے ملاقات کی ویڈیو وائرل ہوئی)۔ تمام صورت حال پر ملک کے سب اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی جاتی۔ شریعت کا فیصلہ جاننے کی کوشش ہوتی۔ لیکن ایسا ہوتا تو ملک میں یگانگت کی فضا پروان چڑھتی جو مطلوب نہیں ہے۔ پھر مذہب اور مذہبی طبقات کا مذاق اڑانے کا سنہری موقع ہاتھ سے چلا جاتا۔
اس سارے منظر میں جو بات سب سے اہم ہے وہ یہ کہ 72 برس سے ملک پر سیکولر اور لبرلز حکمران رہے۔ لوٹ مار کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے، آج بھی اربوں روپے اِدھر سے اُدھر ہورہے ہیں لیکن اس نظام کی ناکامی یہ ہے کہ کوئی قانون، عدلیہ، حکمران، فوج سب یہ روکنے سے قاصر ہیں۔ ملک اتنا گروی ہوگیا کہ ہم اپنی دینی حمیت اور قومی وقار کے سودے کررہے ہیں۔
اس ملک میں سانحہ بارہ مئی ہوگیا، سانحہ بلدیہ ٹاؤن ہوا، سانحہ جامعہ حفصہ ہوا، سانحہ آرمی پبلک اسکول ہوا، سب سے بڑھ کر ملک دولخت ہوا، عدالتِ عالیہ نے کس کو سزا سنائی اور کس کی سزا پر عملدرآمد ہوا؟؟ کون سا قاتل تختہ دار تک پہنچا؟؟۔ ملک کا سب کچھ آپ کے ہاتھ میں پھر بھی زیر عتاب مذہبی طبقہ؟؟ طعنے طنز، تحقیر اسلام پسندوں کا مقدر؟؟ آخر کیوں سارا زور صرف اسلام کے خلاف صرف کیا جارہا ہے؟؟
اگر حکمران طبقہ چاہتا تو قوم کو صرف میڈیا کے ذریعے ہی تعلیم، یکجہتی، یگانگت اور بھائی چارہ کو فروغ دے سکتی تھی لیکن یہی اہم ذریعہ اس وقت اسلام دشمنی میں سب سے آگے ہے۔ یہ خصوصیات ناچ گانے اور اختلاطِ مرد وزن کے عریاں مظاہروں سے حاصل نہیں ہوسکتیں بلکہ اس طرح تو آپ اس قوم کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی ختم کررہے ہیں۔
عمران خان صاحب! پاپیادہ مدینہ منورہ کی سرزمین پر چلنے سے عشق کے تقاضے پورے نہیں ہوتے اگر اس ملک کو مدینہ جیسی اسلامی ریاست بنانا ہے تو اس کے ہر ذرّہ کو اسلام کے رنگ میں رنگنا ہوگا۔ ایسا انصاف فراہم کرنا ہوگا جس کا تختہ دار عاشقانِ رسول کے خون سے سُرخ نہ ہو، جہاں کوئی عافیہ کسی جرنیل کی ڈالروں کی بھوک مٹانے کے لیے دشمنوں کے حوالے نہ کی جائے۔ جہاں شاتمینِ رسول کے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہو۔
اگر حکمران لوٹ مار بند کردیں تو پھر کسی کیلے والے کے ٹھیلے سے ایک کیلا بھی غائب نہ ہو، لہٰذا اسلام دشمنی چھوڑ کر اپنی اصل، اپنی تہذیب کی طرف پلٹ آئیں تا کہ قوم حقیقی تبدیلی دیکھ سکے۔ ان حالات میں ہم دینی و مذہبی جماعتوں سے بھی گزارش کریں گے کہ وہ حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے ہر مکتبہ فکر کے علما کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں اور قوم کو پے در پے آنے والی آزمائشوں سے نکالنے کے لیے متفقہ لائحہ عمل ترتیب دیں اور اس پر عمل درآمد کے لیے اپنی قوتیں صرف کریں۔ اللہ اس ملک کی حفاظت کرے اور یہاں اسلام کا کلمہ بلند ہو۔ (آمین)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ