پاکستان اور چین کی تجارت میں عدم مساوات

153

وزیراعظم عمران خان چین کا دورہ کرکے واپس آچکے ہیں، جانے سے پہلے تین ارب، چار ارب اور چھ ارب کے پیکیج ملنے کی خبریں گردش کررہی تھیں اب جب کہ عمران خان اپنے وزرا اور دوسرے سرکاری افسران کے ساتھ واپس آگئے ہیں تو ایسے کسی پیکیج کا اعلان پاکستانی قوم نے نہیں سنا جس کا بے چینی سے انتظار تھا۔ البتہ اسد عمر صاحب نے یہ اعلان ضرور کیا ہے کہ ادائیگیوں کے توازن (Balance of Payment) کا بحران ختم ہوگیا جس کے لیے 12 ارب ڈالر کی شدید ضرورت تھی، یہ رقم اسد عمر کے بقول 6 ارب سعودی عرب اور باقی چین کے تعاون سے حاصل ہوگئی ہے لیکن چین کے تجارتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے برآمدات میں اضافہ ضروری ہے، اس کے علاوہ تجارتی اور اسٹرٹیجک معاملات پر 15 معاہدے ہوئے ہیں جب کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اس بات پر اعتراض تھا کہ یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ اس دورے میں کیا ملا؟۔ ایک اہم پیش رفت جو اس دورے میں سامنے آئی ہے وہ یہ کہ پاکستان اور چین کے درمیان آئندہ تجارت امریکی ڈالر کے بجائے اپنی اپنی کرنسیوں میں ہوگی، اس طرح پاکستان پر جو امریکی ڈالر کا دباؤ تھا اس میں کسی حد تک کمی آجائے گی جب کہ صنعت و تجارت کے وفاقی وزیر عبدالرزاق داؤد نے یہ انکشاف بھی کیا کہ چین پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 2 ارب ڈالر جمع کرائے گا اور پاکستان سے اپنی درآمدات میں تین گنا اضافہ کرے گا۔ جب کہ شاہ محمود قریشی کا کہنا یہ ہے کہ چین کے تعاون سے برآمدات دوگنی ہوسکتی ہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان متعین طور پر کن کن امور میں تعاون اور سمجھوتے ہوسکتے ہیں اس سلسلے میں 9 نومبر کو ایک اعلیٰ سطحی وفد جس میں گورنر اسٹیٹ بینک، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری تجارت اور سیکرٹری منصوبہ بندی شامل ہیں دوبارہ بیجنگ جائے گا اور معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی۔
لیکن اِن تمام بیانات، اعلانات اور خطابات میں جس کا سب سے زیادہ ذکر ہوا وہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارت ہے۔ سال 2017-18 میں چین کی پاکستان کو برآمدات ساڑھے 11 ارب ڈالر کی تھیں جب کہ پاکستان سے چین کو برآمدات کا حجم صرف پونے 2 ارب ڈالر رہا، یعنی پاکستان کو چین سے تقریباً 10 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ رہا۔ اور یہ تجارتی خسارہ صرف اسی طرح ختم ہوسکتا ہے کہ پاکستان اپنی برآمدات میں چین کے لیے اضافہ کرے۔ چین کی آبادی اس وقت 1.41 ارب ہے یعنی دنیا کی آبادی کا 18 فی صد اور اس آبادی کو خوراک کی فراہمی چینی حکومت کی بڑی ذمے داری ہے۔ اس لیے چین اشیائے خوراک کا پوری دنیا سے بہت بڑا خریدار ہے۔ مثلاً چین گندم کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے اسی طرح ڈیری اشیا اور گوشت کا دوسرا، پولٹری کا آٹھواں جب کہ چاول کا پہلا بڑا خریدار ہے اور یہ تمام اشیا زیادہ تر برازیل، آسٹریلیا، ویت نام اور بنگلادیش سے درآمد کرتا ہے، جب کہ پاکستان کا نمبر آخر میں کہیں آتا ہے جب کہ ایک دوسری حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان گندم اور چاول کی پیداوار میں اس کے علاوہ دودھ، گوشت، آم، کینو اور کھجور کی پیداوار میں دنیا بھر میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ پھر پاکستان چین کے ساتھ برآمد میں اتنا پیچھے کیوں ہے۔ تقریروں میں تو یہ کہا جاتا ہے کہ چین کے ساتھ دوستی ہمالیہ سے اُونچی اور سمندروں سے گہری ہے۔ چین پاکستان کا لازوال دوست ہے، پاکستان کے پڑوسیوں میں سب سے زیادہ خیرخواہ اور ہمدرد پڑوسی چین ہے، کئی سال سے چین پاکستان اقتصادی راہ داری کی باتیں بھی ہورہی ہیں۔ گزشتہ 5 سال میں چین کے ساتھ دوسرے ممالک کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے مگر ہم 2 ارب ڈالر تک بھی نہیں پہنچ سکے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے کچھ چین سے تعلق رکھتی ہیں اور دیگر کا تعلق پاکستان سے ہے۔
مثلاً چین اپنے ملک میں آنے والی وہ درآمدات جو آسیان (ASEAN) ممالک، بنگلا دیش اور ویت نام سے آتی ہیں ان کو درآمدی ڈیوٹی میں رعایت دیتا ہے اس طرح اُن اشیا کی قیمت چین میں کم ہوجاتی ہے جب کہ پاکستان سے آنے والی درآمدات پر یہ رعایت نہیں ہے، اس لیے پاکستانی اشیا چین میں مہنگی ہوجاتی ہیں۔ چناں چہ چین کی کاروباری کمپنیاں پاکستانی اشیا کو ترجیح نہیں دیتیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان سے چین کا آزادانہ تجارت کا معاہدہ ہے اس کے باوجود پاکستان نے اب تک اس معاملے کو چینی اعلیٰ حکام کے سامنے پوری تیاری سے نہیں اُٹھایا۔ عمران خان صاحب کے اس دورے میں اس معاملے پر کیا بات ہوئی ہے یہ وقت آنے پر ہی پتا چلے گا۔ دوسری اہم وجہ پاکستانی اشیا کا معیار ہے، پاکستانی برآمدات برازیل، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور بنگلا دیش کے مقابلے میں کم معیار کی ہوتی ہیں، یہ ذمے داری پاکستانی صنعتکاروں اور برآمدکنندگان کی ہے کہ معیار کو بڑھائیں۔ یہ معاملہ اس دورے میں بھی زیر بحث آیا اور چینی حکام نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ برآمدات کا معیار بڑھائے بغیر ان میں اضافہ نہیں ہوسکتا۔ یہ ذمے داری وزارت تجارت، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور دوسرے سرکاری اداروں کی ہے کہ وہ اس مسئلے پر توجہ دیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں پیداواری لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ بجلی، گیس اور آئل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، اس سلسلے میں موجودہ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی پانچ برآمدی صنعتوں پر ٹیکسوں میں کمی کی جائے گی اور پیداواری لاگت میں کمی کی جائے گی مگر ابھی تک صنعتکاروں اور تاجروں کے احتجاج پر صرف گیس کی قیمتوں میں کمی کی گئی۔ اب جب کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے مذاکرات شروع کردیے ہیں تو قرضہ لینے کی صورت میں بجلی، گیس اور آئل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ ٹیکس کی شرح میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ کیا اس طرح چین کو برآمدات دوگنی ہوسکیں گی یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email