سندھ میں جرائم بڑھ گئے جیلوں کی صورتحال ابتر ہے،حکومت کا اعتراف

47

کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر جیل خانہ جات سید ناصر حسین شاہ نے اعتراف کیا ہے کہ صوبے میں جرائم، قیدیوں اور جیلوں کی صورتحال ابتر ہے، جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی موجود ہیں جبکہ انتہائی خطرناک قیدیوں کے لیے ہائی سیکورٹی جیل کی تعمیر التوا کا شکار ہے۔ جبکہ مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی پریس کلب میں گزشتہ شب ہونے والی کارروائی غلط فہمی کی بنیاد پر تھی، لوکیٹر فریکوئنسی خراب ہونے سے غلط لوکیشن ظاہر ہوئی، حکومت معاملے کی تحقیقات کرے گی۔تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر جیل خانہ جات سید ناصر حسین شاہ نے جمعہ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران مختلف تحریری اور ضمنی سوالات کا جواب دیتے ہوئے اس امر کا اعتراف کیا کہ سندھ میں جرائم،قیدیوں اور جیلوں کی ابتر صورتحال ہے جس کا سبب انہوں معاشرے میں مجرمانہ سرگرمیوں کے رجحان کا بڑھنا بیان کیا۔انہوں نے کہا کہ ہرسال جیلوں میں قیدیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔سینٹرل جیل کراچی کی گنجائش 2400کی ہے جبکہ وہاں4ہزار846قید موجود ہیں۔ملیر جیل میں گنجائش سے 3 ہزار449قیدی زیادہ ہیں۔کراچی کے ہرضلع میں ڈسڑکٹ جیل کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ انتہائی خطرناک قیدیوں کے لیے ہائی سیکورٹی جیل کی تعمیر التوا کا شکارہے ایک ہزار انتہائی خطرناک قیدیوں کو رکھنے کے لیے ہائی سیکورٹی جیل کے لیے زمین نہیں ملی۔محکمہ داخلہ نے ہائی سیکورٹی جیل کے لیے تین سو ایکڑزمین کی درخواست 2017میں دی تھی۔بورڈ آف ریونیو نے متعلقہ زمین ہائی سیکورٹی جیل کے لیے منتقل نہیں کی۔حکومت سندھ صوبے کے مختلف اضلاع میں جیلوں کی نئی بیرکس بنارہی ہے جس میں ملیر جیل میں ایک ہزار قیدیوں کے لیے نئی بیرک کا منصوبہ بھی شامل ہے اسی طرح حیدرآباد بے نظیرآباد اور ٹھٹھہ میں بھی نئی جیلوں کی تعمیر کا کام جاری ہے۔صوبے کی جیلوں میں نئی بیرکس کی تعمیرسے پانچ ہزار قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش بڑھ جائیگی۔ علاوہ ازیں وزیر ٹرانسپورٹ سندھ سیداویس قادر شاہ نے اجلاس کے دوران اپنے ایک نکتہ اعتراض پر ایوان کو آگاہ کیا کہ گزشتہ روزسندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے سندھ سیکرٹریٹ کا بغیر بتائے اچانک دورہ کیا اور ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے دفتر میں افسران اور عملے کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ کی۔انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف سمیت تمام ارکان کو قواعد پڑھنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی سرکاری دفتر کے دورے سے قبل متعلقہ حکام کو آگاہ کرناضروری ہوتاہے ،سرکاری دفاتر انہیں وضاحت دینے کے پابند نہیں ہیں۔ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے تین نو منتخب اراکین نے سندھ اسمبلی رکنیت کا حلف لے لیا ۔جمعہ کو اجلاس میں اسپیکر آغا سراج درانی نے تینوں ارکان سے انکی اسمبلی رکنیت کا حلف لیا حلف لینے والوں میں پیپلزپارٹی کے ساجد جوکھیو، احمد رضا جیلانی اور پی ٹی آئی کے شہزاد قریشی شامل تھے۔ ایوان میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کو خراج عقیدت پیش کرنے اور رویت ہلال کمیٹی سے متعلق دو علیحدہ علیحدہ قراردادمتفقہ طور پرمنظورکرلی گئیں۔اراکین نے جے یو آئی س کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے بہیمانہ قتل پر اظہار افسوس کیا اور انکے ایصال ثواب و درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ ایوان میں سابق وزیر داخلہ سندھ اور رکن پیپلزپارٹی سہیل انور سیال کے والد کیانتقال پر اظہار تعزیت کیا۔ بعد ایوان کی کارروائی پیر کی صبح دس بجے تک ملتوی کردی گئی۔مزید برآں مشیر اطلاعات ، قانون اور اینٹی کرپشن سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے جمعہ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پریس کلب میں گزشتہ شب کارروائی غلط فہمی کی بنیاد پر تھی ابتدائی تحقیقات کے مطابق جی ایس ایم لوکیٹر کی فریکوئنسی خراب ہونے سے غلط لوکیشن ظاہر ہوئی یہ تمام معاملہ غلط فہمی کی بنیاد پر تھا تاہم اسکے باوجود حکومت اس معاملے کی تحقیقات کریگی، حکومت صحافیوں کے ساتھ کھڑی ہے، صحافیوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدر میں تجاوزات کے خلاف کارروائی شفاف ہے، کسی کو نشانہ نہیں بنایا جارہا حزب اختلاف صدر میں جاری آپریشن پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کرے۔ انہو ں نے مزید کہا کہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس کیخلاف کارروائی کررہے ہیں، شہریوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرینگے صفورا گوٹھ میں قائم ہائیڈرنٹ کے خلاف بھی کارروائی کرینگے ۔مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پانی کے 91ء کے معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے کی بات تسلیم کرنا سندھ حکومت کے موقف کی تائید ہے لہٰذا وفاق فوری طور پر پانی کے معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.