آسیہ مسیح کی رہائی۔ معاملہ کیا ہے؟

161

 

آخری حصہ

یہ گزشتہ ستمبر ہی کی بات ہے کہ اسرائیل میں Tempe Institute نے اعلان کیا کہ وہ سرخ رنگ کے بچھڑے کو پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو ہیکل سلیمانی کی از سرنو تعمیر کے لیے ایک لازمی شرط تھا۔ ابھی اس بچھڑے کی پرورش جاری ہے جس کے بعد اس کی قربانی کی تقریب ہوگی اور پھر ہیکل سلیمانی کی تعمیر شروع ہوجائے گی۔ اس تعمیر کے ساتھ ہی دنیا پر نیو ورلڈ آرڈر یا شیطانی غلبے کا حتمی مرحلہ شروع ہوگا۔ ہیکل سلیمانی کی تعمیر شروع ہونے میں تقریباً دو سال کا عرصہ ہے۔ اس عرصے میں بقیہ کام کرنے مطلوب ہیں جن میں اس خطے کے جس میں عرب ممالک شامل ہیں، حصے بخرے کرنا ہیں۔ چوں کہ تیسری عالمی جنگ ہے ہی مسلمانوں کے خلاف، اس لیے اس کا نشانہ بھی اسلامی ممالک ہی ہیں۔
اسلامی ممالک پر باقاعدہ یلغار کا آغاز 1979 میں افغانستان پر روسی حملے سے ہوا تھا۔ نائن الیون کے بعد اس میں تیزی آگئی اور اب یہ حملہ آخری مراحل میں ہے۔ تمام تر مضبوط اسلامی ممالک ڈھیر ہوچکے ہیں۔ سب سے اہم مرحلہ سعودی عرب کی ٹوٹ پھوٹ ہے۔ سعودی عرب میں مقامات مقدسہ ہونے کی وجہ سے مسلمانان عالم کا سعودی عرب سے تعلق اور ہی ہے۔ اس کے لیے منصوبہ تیار کیا گیا کہ لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے۔ اس لیے سعودی عرب کی بربادی مسلمانوں ہی کے ہاتھوں عمل میں لائی جائے۔ اب اگر سعودی عرب کے شاہی خاندان میں بغاوت ہوجاتی ہے اور اس کے نتیجے میں سعودی عرب کو نقصان پہنچتا ہے تو یہی کہا جائے گا کہ یہ تو تخت کی لڑائی ہے۔
اب سارے نکتوں کو ازسرنو دیکھتے ہیں۔ خاشق جی کے قتل کا بہانہ کرکے سعودی عرب کے خلاف ویسا ہی ماحول تیار کیا جارہا ہے جس طرح کا ماحول نائن الیون کے بعد افغانستان اور عراق کے خلاف بنایا گیا تھا۔ نائن الیون کے بعد ہونے والے حملوں میں بھی اسلامی ممالک کا کردار شرمناک تھا۔ کچھ تو باقاعدہ اس میں معاون تھے جب کہ بقیہ کا کردار خاموش تماشائی کا تھا۔ اس کھیل کے نئے منظر میں بھی کچھ یہی صورت حال ہے کہ کچھ تو معاون ہوں گے اور بقیہ خاموش تماشائی۔ اس سارے کھیل میں ترکی کا کردار اہم ترین ہے۔ ترکی نشاۃ ثانیہ کے خمار میں ہے اور اس کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔ کسی بھی ناپسندیدہ صورت میں سعودی عرب کا مقاطعہ تیار ہے۔ اس کے ایک جانب جبوتی میں تو دوسرے کونے پر پورٹ آف سوڈان میں ترکی کی فوجیں موجود ہیں۔ بالکل برابر میں قطر میں بھی ترکی کی فوج موجود ہے۔ اب سعودی عرب کا محاصرہ مکمل ہونے میں صرف اور صرف ایک راستہ بچتا ہے اور یہ ہے آبنائے عمان کا۔ عمان کا دارالحکومت مسقط پاکستان کے گوادر کے بالکل
سامنے ہے۔ یہاں پر نیتن یاہو نہ صرف پہنچ چکے ہیں بلکہ انہوں نے عمان کے سلطان قابوس بن سعید سے قریبی تعلقات بھی استوار کرلیے ہیں۔
پاکستان میں اس وقت انارکی پھیلادی گئی ہے۔ سعودی عرب پر حملے کی صورت میں پاکستان سے شدید ردعمل سامنے آسکتا ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستانی حکومتوں سے ان سازش کاروں کو کبھی بھی خطرات لاحق نہیں رہے۔ پرویز مشرف بھی ان کے لیے انتہائی پسندیدہ تھا، شوکت عزیز تو باقاعدہ سٹی بینک کا ملازم تھا، نواز شریف اور زرداری بھی کوئی باہر کی چیز نہیں تھے۔ مسئلہ پاکستانی عوام کا ہے، سو اس لیے پاکستانی عوام کو نان ایشوز میں پھنسا دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے مہنگائی کا طوفان برپا کیا گیا جس کے نتیجے میں بے روزگاری بھی بڑھ گئی۔ اس کے بعد بھی مزید حفاظتی قدم کے طور پر آسیہ کا کیس اٹھالیا گیا۔ اب پاکستانی عوام اور ان کے لیڈران کے سینگ اسی میں پھنسے رہیں گے۔
آسیہ کیس میں ہی احتجاج کو دیکھیں تو پتا چل جاتا ہے کہ کس طرح پاکستانی عوام کو بے وقوف بنایا گیا۔ اب تک کسی کو سرکاری طور پر اس کا علم ہی نہیں ہے کہ آسیہ ہے کہاں؟۔ کسی نے زحمت ہی نہیں کی کہ معلوم کرتا کہ آسیہ بی بی کے ریلیز آرڈر جاری ہوئے کہ نہیں۔ ابھی تک وہ جیل میں ہے یا پاکستان سے باہر جاچکی ہے۔ اس کی زحمت ان لوگوں نے بھی نہیں کی جو اس احتجاج کی قیادت کررہے تھے۔ اس کی زحمت انہوں نے بھی نہیں کی جو حرمت رسول تحریک کا آغاز کرچکے ہیں۔ میڈیا مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔ سب کا صرف ایک ہی مشن ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستانی عوام کے جذبات سے کھیلا جائے اور انہیں اس وقت تک مشتعل رکھا جائے جب تک کہ اوپر سے تھمنے کا اشارہ نہ آجائے۔
سمجھ لیجیے کہ جنگی حکمت عملی میں دھول اڑا کر اس کی آڑ میں کام دکھانے کی حکمت عملی معروف ہے۔ یہ سب کچھ جو بھی ہورہا ہے، یہ کہیں سے بھی مطلوب نہیں ہے۔ جو کچھ مطلوب ہے وہ آئندہ چند ماہ میں سامنے آجائے گا۔ سعودی عرب میں کھچڑی تیزی سے پک رہی ہے۔ خانوادہ عبدالعزیز کے آخری فرزند احمد بن عبد العزیز اپنی خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے دوبارہ ریاض پہنچ چکے ہیں اور انہوں نے سعودی عرب سے باہر اور سعودی عرب کے اندر بھی تیزی کے ساتھ حرکت شروع کردی ہے۔ موجودہ ولی عہد اور عملاً حکمراں محمد بن سلمان کی مٹھی سے ریت تیزی کے ساتھ پھسل رہی ہے۔ حکومت برقرار رکھنے کے لیے وہ روز ایک نیا کام کرتے ہیں۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اب کی مرتبہ سعودی عرب میں ہونے والی بغاوت شاہ فیصل کی بغاوت کی طرح نہیں ہوگی جس میں بیرونی دنیا بھی ان کے ساتھ تھی اور شاہی خاندان بھی۔ اب کی مرتبہ تو میلہ سجایا ہی اس لیے گیا ہے کہ سعودی عرب کا شاہی خاندان بھی منتشر ہو اور خود سعودی عرب کے بھی حصے بخرے کیے جاسکیں۔
تو بات اب سمجھ میں آتی ہے کہ ؟؟؟
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے۔ ہشیار باش۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ