جلاو گھیراؤ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے کیا،قانون ہاتھ میں لینے والے کو عبرت کانشان بنادینگے،وزیر مملکت داخلہ

164

اسلام آباد(اے پی پی) وزیر مملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی نے تحریک لبیک کو کلین چٹ دے دی اور کہا کہ جلاؤ گھیراؤ پارلیمنٹ میں بیٹھی ان سیاسی جماعتوں کے ورکرز نے کیا جن کے رہنما ایوان میں بیٹھ کر امن کی بات کر رہے تھے،قانون ہاتھ میں لینے والوں کو عبرت کا نشان بنا دیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مہذب اقوام کے لیے سکیورٹی اور امن بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ پارلیمانی سیاسی جماعتوں نے دھرنا دینے والوں کے خلاف طاقت استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا، سیاسی پوائنٹ ا سکورنگ سے ملک کا نقصان نہیں کرنا چاہیے۔ قانون توڑنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی، جو قانون توڑے گا اور ریاست کی عمل داری کو چیلنج کرے گا اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی چاہے وہ لوگ کابینہ یا پارلیمنٹ کے ارکان ہی کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو ایوان بالا کے اجلاس میں کیا۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کو شاید اس وقت تک کامیاب نہیں سمجھا جاتا جب تک کوئی جانی نقصان نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک نے پہلے بھی ایک مرتبہ احتجاج کیا تھا لیکن وزیراعظم اور پاکستان کی حکومت نے ہالینڈ میں خاکوں کا مسئلہ حل کرایا جس کو تحریک لبیک کی قیادت نے بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آسیہ کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تو ریاستی اداروں کو ہم سب نے اور اس ایوان نے مل کر عزت دینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون بنانے والے تو موجود ہیں، اگر عدالتی نظام میں سقم ہو تو فوجی عدالتیں ہی قائم کرنا پڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تحریک لبیک کے ساتھ پرامن مذاکرا ت کیے اور انہوں نے معذرت بھی کی۔ وزیراعظم اور متعلقہ فریقین کا یہ موقف تھا کہ طاقت کا استعمال نہ ہو۔ نئے پاکستان میں ہم کسی پر گولی چلانے کے حق میں نہیں ہیں، یہ ماضی میں وتیرہ رہا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ طے پایا ہے کہ جو بھی متاثرہ شخص ہے وہ اس کے خلاف درخواست دے سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔شہریارآفریدی نے بتایا کہ جب جلاؤ گھیراؤ کی ویڈیوز تحریک لبیک کو دکھائی گئیں تو انہوں نے شرپسندوں سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔ پتوکی پنجاب اور رشکئی انٹرچینج میں ہونے والے واقعات میں بعض ایسی سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی ملوث تھے جو ہمیں ایوان میں مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کو ہم مثال بنائیں گے۔ تمام ریکارڈ لیا جا چکا ہے، گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں قوانین بنائے جاتے تھے لیکن اپنے مفاد کے لیے ان پر عمل نہیں کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب وزیراعظم کا یہ واضح اعلان ہے کہ قانون توڑنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی، جو قانون توڑے گا اور ریاست کی عمل داری کو چیلنج کرے گا اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی چاہے وہ لوگ کابینہ یا پارلیمنٹ کے ارکان ہی کیوں نہ ہوں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ