سیتر نبی ﷺ کے درخشدہ پہلو

87

حافظ عبد الرحمن سلفی

سیرت النبیؐ کے درخشندہ پہلو نمایاں کرنا انتہائی عبث ہے کیونکہ اگر ہم روشن پہلوؤں کا تذکرہ کریں تو گویا معاذ اللہ سرور دو عالمؐ کی سیرت طیبہ کا کوئی تاریک پہلو بھی ہو سکتا ہے۔ حاشا وکلا ایسا تصور بھی دولت ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے مترادف ہے۔ بلکہ سرکار رسالت مآبؐ کی حیات مبارکہ کا ہر پہلو درخشندہ و تاباں ہے اور اپنی نورانی کرنوں سے تاقیامت اہل ایمان و محبت کے دلوں کو منور کرتا رہے گا اور زندگی کا کوئی شعبہ بھی ایسا نہیں ہے جہاں امام کائنات علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی پاکیزہ سیرت کا روشن ورخشاں نیر تاباں سامان ہدایت موجود نہ ہو۔ آپؐ کی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو آج امت کی نگاہوں سے اوجھل ہو کیونکہ ذات والاصفات ختمی مرتبتؐ کے بارے میں قرآن مجید کی واضح دلیل موجود ہے۔ ’’تمہارے لیے رسول اللہؐ کی زندگی بہترین نمونہ ہے‘‘ یعنی نمونہ اسی کو قرار دیا جا سکتا ہے جو ظاہر وباہر ہو اور کامل و اکمل ہو۔ گویا ذات رسالت مآبؐ رشد وہدایت کا مظہر اتم ہیں اور کائنات کا کوئی بھی انسان زندگی کے کسی بھی مرحلے میں ہو وہ محبو ب رب العالمینؐ کی پاکیزہ سیرت کو مشعل راہ بناکر دنیاوی و اخروی فوز و فلاح سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن میں واضح ارشاد فرمایا کہ اے محبوبؐ ہم نے آپ کو گواہ بنا کر بھیجا یعنی انسانیت پر حجت تمام ہوگئی کہ اللہ کی توحید کو اختیار کریں اور شرک کی نجاست سے اپنے دامن آلودہ نہ کریں۔ آگے فرمایا کہ ہم نے آپؐ کو بشیر یعنی خوشخبریاں دینے والا بنا کر بھیجا یعنی جو اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق عقیدہ و عمل اختیار کرے گا، اسے تو جنت کی خوشخبری سنا دیجیے اور آگے فرمایا کہ ہم نے تمہیں ڈرانے والا بھی بنا کر بھیجا کہ جو شخص بھی آپؐ کی دعوت سے اعراض کرے گا اور توحید و رسالت کے دامن سے وابستگی اختیار کرنے سے انکار کر ے گا، ایسے لوگوں کو جہنم کے درد ناک عذاب کی وعید بھی سنا دیجیے کہ ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم کی ہولناکیاں ہیں، جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ مزید فرمایا کہ اے محبوبؐ ہم نے آپ کو روشن چراغ بنا کر بھیجا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے آپ کو جو روشن چراغ بنا کر بھیجا، گویا وہ تمام امور آپ نے عملی مظاہرے کے ذریعے انسانیت کے سامنے پیش فرما دیے جو جنت کی بشارتوں کے حصول کا ذریعہ ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح وہ تمام امور بھی انسانیت کے سامنے پیش کر دیے جن کی وجہ سے انسان جہنم کا ایندھن بن سکتا ہے۔ گویا آپ روشن چراغ اس معنیٰ میں کہ حق و باطل سچ جھوٹ توحید باری تعالیٰ اور شرک کی لعنت اور اس کی تباہ کاریاں سب کی سب واضح طور پر پیش کر دی گئی ہیں۔ یہاں پر لطیف پہلو یہ بھی ہے کہ آپؐ کو روشن چراغ کیوں قرار دیا گیا حالانکہ اس سے قبل اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو و شاہد و مبشر و نذیر کے القابات سے نواز دیا تھا تو پھر سراج منیر کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کا سادہ جواب یہی ہے کہ اگر کہیں گھپ اندھیرا ہو، ہر سو تاریکی ہی تاریکی ہو، ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا ہو اور ایسے میں دکھیارے درماندہ بھٹکے ہوئے لوگوں کی راہنمائی کے لیے ایک دیا روشن کر دیا جائے تو آپ جانتے ہیں، اس دیے کی روشنی سے اندھیرے کافور ہوجائیں گے۔ ظلمت کی جگہ نور ہوگا اور ہر چیز منور ہو جائے گی اور اس روشنی میں مایوس و نامراد اپنی منزل کی صحیح سمت روانہ ہوجائیں گے اور زندگی کی رونقیں جو ظلمتوں کی وجہ سے ماند پڑ گئی تھیں، پھر سے لوٹ آئیں گی اور جب روشنی ہوتی ہے تو ہر جانب ضو فشانی کرتی ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ محض سامنے کی جانب اجالا ہو رہا ہو بلکہ دیا اپنے اطراف و اکناف کی ہر سمت میں روشنی پھیلاتا ہے اور ہر زاویے اور سمت کا رہنے والا اس کی کرنوں سے اندھیرے کو دور کر لیتا ہے۔ اسی لیے آپؐ کو روشن چراغ قرار دیا گیا کہ جب دنیاوی چراغوں کی یہ تابناکیاں ہیں تو پھر جب آفتاب نبوت کا مہر تمام طلوع ہوا تو کیسے ممکن ہے کہ وہ پوری کائنات کو اپنی نورانی کرنوں سے فیض یاب نہ کرے۔ یہ وہ مہر منور ہے کہ جس کی ضیا باریوں سے تاقیامت پوری انسانیت ہی نہیں بلکہ ہر مخلوق منور ہوتی رہے گی۔ گویا جہاں تک اللہ رب العالمین ہے وہاں وہاں تک آپؐ رحمۃ للعالمین ہیں۔ آپؐ دنیا کے لیے اللہ کا آخری نظام حیات لے کر تشریف لائے تو لازماً اللہ رب العالمین نے آپؐ کو کامل و اکمل بنا کر بھیجا۔
محسن انسانیتؐ کی پیدائش سے لے کر رب سے ملاقات کے وقت تک کوئی لمحہ بھی ایسا نہیں کہ جسے بدترین دشمن بھی آپؐ کی شان اقدس میں ہرزہ سرائی کے لیے بطور مثال پیش کر سکے۔ اگر آپؐ کے بچپن کو دیکھیں تو مثالی۔۔۔ دائی حلیمہ بیان کرتی ہیں کہ آپؐ نے کبھی بھی دونوں چھاتیوں سے دودھ نہیں پیا بلکہ ایک حصہ اپنے رضاعی بھائی کے لے چھوڑا اسی طرح لڑکپن دیکھیں تو کس قدر پاکیزہ تھا کہ ایک مرتبہ عکاز کے میلے میں شرکت کا ارادہ فرمایا تو اللہ نے آپؐ پر نیند کو غالب کر کے آپ کو لہو و لعب سے محفوظ فرما دیا۔ عنفوان شباب کا مرحلہ آیا تو وہ بھی پاکیزہ ترین گزارا، ہم تو کہتے ہیں کہ جوانی دیوانی ہوتی ہے مگر امام کائناتؐ کی جوانی بھی ہر طرح کی لغزش سے پاک و مطہر کہ جس عمر کے لوگ ہر طرح کے اشغال میں ملوث ہوتے ہیں مگر ہادی انس وجاں تھوڑے سے ستو اور پانی کے ہمراہ بستی سے دور غار حرا میں جا گزیں ہو کر اپنے رب کی حمد و ثنا میں مشغول ہے، جب ادھیڑ عمر شروع ہوتی ہے یعنی 40 برس کے ہو جاتے ہیں تو ایسے میں جب انسان کے اعضا مضمحل ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور عزائم کمزور پڑنے لگ جاتے ہیں لیکن اس موقع پر سیرت مبارکہ کا سب سے تابناک پہلو نمایاں ہوتا ہے اور جس نے توانائی سے بھرپور جوانی چھپ چھپ کر یاد الٰہی میں گزاری لیکن بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی میدان عمل میں نکل پڑتا ہے اور ایسا نکلتا ہے کہ پوری دنیا کو چیلنج دے دیتا ہے کہ اے لوگو! اس بات کا اقرار کر لو کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں یعنی کوئی داتا، دستگیر، حاجت روا، مشکل کشا، بیٹے بیٹیاں دینے والا، بیماری سے صحت اور بگڑے کام سنوارنے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے تم فلاح پاجاؤ گے اور یہی نہیں کہ آخرت کی کامیابی تمہارا مقدر ہوگی بلکہ اس دعوت توحید و رسالت کی قبولیت کی بدولت اللہ تعالیٰ تمہیں عرب و عجم کی بادشاہی بھی عطا فرما دے گا اور پھر چشم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ وہ عرب جن پر کوئی قوم حکومت کرنا پسند نہیں کرتی تھی دنیا کے امام بن گئے۔
سیرت طیبہ کا یہ پہلو کس قدر تابناک ہے کہ رسول مکرمؐ نے خالق اور مخلوق کے درمیان شرک وکفر کی ضلالتوں کے حائل کردہ دبیز پردے ہٹا دیے اور بندے اور رب کا تعلق براہ راست استوار فرما دیا۔ اور پھر وحشی اور جنگجوؤں کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا کہ جو معمولی معمولی باتوں پر کشت و خون کے بازار گرم کر دیا کرتے تھے، حلقہ بگوش اسلام ہونے اور شمع رسالت کے پروانے بننے کے بعد ایک دوسرے پرجان نچھاور کرنے لگے۔ عزتوں کے لٹیرے غیروں کی بھی ناموس کے پاسبان بن گئے۔ سیرت مصطفیؐ کے مثبت اثرات عرب معاشرے پر اس قدر گہرے اور پائیدار مرتب ہوئے کہ بیٹیاں جو عار سمجھی جاتی تھیں اب باعث افتخار بن گئیں اور عورتیں اور غلام جن کی معاشرے میں کوئی وقعت نہیں تھی وہ باوقار ہوگئے اور بلال حبشیؓ کی جوتیوں کی آواز آپؐ کو جنت میں سنائی گئی۔ صہیب رومیؓ، سلمان فارسیؓ، خباب بن ارث، آل یاسر، زید بن حارثہؓ اور ایسے ہی لاتعداد لوگ غلامئ رسول میں آ کر بڑے سے بڑے بادشاہوں اور حکمرانوں سے بھی عظیم المرتبت ہوگئے۔
سیرت مبارکہ کا ہر پہلو روشن وتابناک ہے۔ یہ ہمارا ظرف ہے کہ ہم کس قدر فیض حاصل کرتے ہیں وگرنہ تو ہادی عالم مرشد اعظم نیر تاباں ماہ درخشاں کی سیرت طیبہ تو ہر متلاشی حق کے لیے منار نور ہے۔ آپؐ کی سیرت پاک کے گن مسلم ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی گاتے ہیں اور کیوں نہ گائیں کہ آپؐ کی سیرت پاک سراسر ہدایت ہی ہدایت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ