آسیہ مسیح کی رہائی۔ معاملہ کیا ہے؟ 

254

پاکستان میں آسیہ مسیح کی بریت۔ دیکھنے میں ایک سیدھا سادا سا کیس ہے۔ ایک خاتون نے اہانت رسول کی اور ملک کے قانون کے مطابق اسے سزا دے دی گئی۔ اگر اس خاتون کو غلط سزا دی گئی ہے تو یہ عوام کا معاملہ نہیں ہے بلکہ عدالتی نظام کی خرابی ہے۔ آسیہ بی بی کی تفتیش کسی عام پولیس کانسٹیبل یا اے ایس آئی نے نہیں کی بلکہ اُس وقت کے زیر تربیت ایس پی رینک کے افسر نے کی۔ اس پر پہلا فیصلہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ننکانہ صاحب نے دیا۔ اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ نے برقرار رکھا۔ اگر یہ کیس غلط تھا تو یقیناًیہ تینوں کردار سب سے بڑے مجرم ہیں جنہوں نے ایک بے گناہ شخصیت کو 9 برس تک قید رکھا۔ یہی تینوں کردار نہ صرف سلمان تاثیر اور ممتاز قادری کے قاتل ہیں بلکہ ان افراد کے بھی قاتل ہیں جو اب تک اس تحریک میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اگر یہ تینوں کردار عدالت عظمیٰ کی نظر میں بے گناہ آسیہ بی بی کو جرم بے گناہی میں قید نہ رکھتے تو نہ خادم رضوی کی قیادت منظر عام پر آتی اور نہ ہی اربوں روپے کی املاک تباہ ہوتیں۔ اب جب کہ جناب ثاقب نثار نے ایک بے گناہ کو رہائی دی ہے تو نہ صرف انہیں بلکہ بقیہ دو ججوں کو بھی واجب القتل قرار دے دیا گیا۔ فوج کو بغاوت کا حکم جاری کردیا گیا ہے تو اس کے ذمے دار بھی یہی تینوں کردار ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ان تینوں کرداروں کا کہیں پر ذکر نہیں ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے جج جنہوں نے یہ فیصلہ دیا تھا اس وقت لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں اور عن قریب عدالت عظمیٰ کے جج بننے والے ہیں۔ اسی طرح اس وقت کا زیر تربیت ایس پی اب ایس ایس پی بن چکا ہے۔ ایک لمحے کو تو سوچیں کہ یہ نااہل افراد اب تک کیا کچھ گل نہ کھلا چکے ہوں گے؟ مگر ان سب کے خلاف کوئی کارروائی نہیں؟ آخر کیوں؟ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ عدالت عالیہ کے فیصلے کے بالکل برخلاف ہے۔ ذرا عدالت عالیہ کے فیصلے کو تو پڑھیں۔
ایک بات یہ سمجھیں کہ بات اب آسیہ کی نہیں رہی ہے بلکہ یہ دومائنڈ سیٹ کا معاملہ بن گیا ہے۔ کتنے ہی مسیحی افراد جیلوں میں ہیں مگر پہلے دن سے آسیہ مسیح میں بین الاقوامی دلچسپی ہے۔ یہ سب تو تمہید تھی۔ آتے ہیں تیسرے نقطے پر۔
آخر اسی وقت آسیہ کی بریت کا اعلان کیوں کیا گیا؟ کہا جارہا ہے کہ یہ عدلیہ کا فیصلہ ہے۔ اگر یہ صرف عدلیہ کا فیصلہ ہوتا تو حکومت کا نمائندہ اٹارنی جنرل یہ نہ کہتا کہ اسے اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ رہائی کے حکم کے بعد کوئی مصدقہ خبر نہیں ہے کہ آسیہ اس وقت کہاں ہے؟ حکومت کے اس فیصلے میں شمولیت کو اس امر سے بھی تقویت ملتی ہے کہ فیصلے سے ایک روز قبل ہی حکومت نے ہائی
الرٹ جاری کردیا تھا۔ فیصلے کے اعلان کے ساتھ ہی طے شدہ منصوبے کے تحت پنجاب اور کراچی میں دھرنے شروع کردیے گئے۔ کراچی میں دھرنے میں سب سے زیادہ تعداد نمائش اور ٹاور کے مقامات پر تھی اور ایک وقت میں دھرنے میں شامل افراد کی تعداد کبھی بھی ڈیڑھ سو سے زاید نہیں رہی۔ تین تلوار، نارتھ کراچی میں 4K چورنگی پر تو ان مظاہرین کی تعداد تیس سے بھی آگے نہیں بڑھی۔ ہر جگہ پر رینجرز اور پولیس ان دھرنے والوں کو مکمل تحفظ دیتی رہی۔ سڑکیں پولیس موبائلوں نے خود بند کر رکھی تھیں۔ ان مظاہرین کی تعداد تو اتنی بھی نہیں تھی کہ سڑک کا ایک ٹریک بلاک کرسکیں چہ جائیکہ کسی چورنگی کو بلاک کرنے کے لیے آٹھ ٹریک بند کرنا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان دھرنوں کو سرکار کی پوری پوری آشیر باد حاصل رہی۔ ان دھرنوں سے پورے ملک میں انارکی پھیل گئی ۔
اب آتے ہیں اصل بات پر کہ آخر آسیہ کیس کی بریت سے مطلوب کیا ہے؟ آسیہ کیس میں بریت کا فیصلہ آتے ہی پاکستان مستقل طور پر ایک ایسی ریاست میں تبدیل ہوچکا ہے جہاں پر احتجاج اور ہڑتالیں روز کا معمول بن جائیں گی۔ اب ان تینوں نکات کو جوڑ کر دیکھتے ہیں کہ تصویر کیا بنتی ہے اور پھر اس تصویر سے نتائج اخذ کرتے ہیں۔ پہلا نکتہ تھا استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں خاشق جی کا قتل اور پھر اس کے بعد سعودی عرب کے گرد تنگ ہوتا ہوا گھیرا۔ دوسرا نکتہ تھا اسرائیلی سربراہ کا عمان کا دورہ اور تیسرا نکتہ تھا پاکستان میں آسیہ کی بریت اور پھر احتجاجی سلسلہ۔ ان تینوں نکتوں کو جوڑنے سے پہلے یہ سمجھنے کی بات ہے کہ یہ تینوں واقعات اچانک ہی رونما نہیں ہوگئے بلکہ ان سب کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ جس طرح خاشق جی کا اچانک قتل نہیں ہوگیا بالکل اسی طرح نیتن یاہو نے مسقط کا اچانک دورہ نہیں کرلیا۔ نیتن یاہو کے دورے سے کئی ماہ قبل رابطے شروع ہوئے۔ معاملات طے کیے گئے اور سب سے آخر میں سربراہ ملاقات ہوئی جس میں معاملات کو نافذ العمل کرنے کے لیے دونوں سربراہوں نے حتمی طور پر دستخط کیے۔ اسی طرح پاکستان میں بھی آسیہ کیس کو اچانک ہی پر لگ گئے۔ ان تینوں کی ٹائمنگ دیکھیں۔ نیتن یاہو کے دورے کی تیاری میں تقریباً دو ماہ کا عرصہ لگا۔ یعنی ستمبر کے شروع سے کام شروع ہوگیا۔ خاشق جی کے قتل پر ستمبر کے آخر میں کام شروع ہوا۔ اسی طرح آسیہ کیس کو پر بھی تقریباً اسی عرصے میں لگے۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ تینوں واقعات جن کا بظاہر کوئی تعلق نہیں ہے، ان تینوں واقعات کے مقامات بھی علیحدہ علیحدہ ہیں تو پھر ان تینوں کا آپس میں ربط کیا ہے۔
اس پر گفتگو آئندہ آرٹیکل میں ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے۔ ہشیار باش۔
(گوکہ ہم گھٹنے سے نہیں لکھتے لیکن دوسری قسط میں تاخیر کا سبب ہمارا گھٹنہ ہی ہے جو حادثے میں چور چور ہوگیا)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.