قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ ﷺ

100

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جنگ کرو ان متکبرین حق سے جو تمہارے پاس ہیں۔ اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں، اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔ جب کوئی نئی صورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض لوگ (مذاق کے طور پر مسلمانوں سے) پوچھتے ہیں کہ ’’کہو، تم میں سے کس کے ایمان میں اس سے اضافہ ہوا‘‘ ؟ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کے ایمان میں فی الواقع (ہر نازل ہونے والی سورت نے) اضافہ ہی کیا ہے اور وہ اس سے دل شاد ہیں، البتہ جن لوگوں کے دلوں کو (نِفاق کا) روگ لگا ہوا تھا ان کی سابق نجاست پر (ہر نئی سورت نے) ایک اور نجاست کا اضافہ کردیا اور وہ مرتے دم تک کفر میں مبتلا رہے۔
(سورۃ التوبہ: آیت 123 تا 125)

سیدنا عمرؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ؐ نے فرمایا: جب مؤذن اللہ اکبر، اللہ اکبر کہے تم بھی اللہ اکبر، اللہ اکبر کہو اور جب اشہد ان لا لٰہ الا اللہ کہے تو تم بھی اشہد ان لا لٰہ الا اللہ کہو اور جب اشہد ان محمداً رسول اللہ کہے تو تم بھی اشہد ان محمداً رسول اللہ کہو اور جب حی علی الصلوٰۃ کہے اور تم لاحول ولاقوۃ الا باللہ کہو اور جب وہ حی علی الفلاح کہے تو تم لاحول ولاقوۃ الا باللہ کہو اور جب وہ اللہ اکبر، اللہ اکبر کہے اور تم بھی اللہ اکبر، اللہ اکبر کہو، اور جب لا الٰہ اِلَّا اللہ کہے اور تم بھی لا الٰہ اِلَّا اللہ صدقِ دل سے کہو تو تم سیدھے جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ (مسلم) سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے، کہ جب مؤذن اذن دے دے اور تم اسے سننے کے بعد اشہد ان لا الٰہ الا اللہ واشہد ان محمداً عبدہٗ ورسولہ رضیت باللہ ربًا وبالاسلام دینا و بمحمد نبیا ورسولًا کہو تو تمہارے سارے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ (مسلم)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.