مولانا سمیع الحق سپرد خاک،نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت،تحقیقات میں اہم پیش رفت 

198
نوشہرہ: مولانا سمیع الحق کی میت ایمبولینس کے ذریعے لائی جارہی ہے‘ چھوٹی تصویر میں شہید کا آخری دیدار کیا جارہا ہے
نوشہرہ: مولانا سمیع الحق کی میت ایمبولینس کے ذریعے لائی جارہی ہے‘ چھوٹی تصویر میں شہید کا آخری دیدار کیا جارہا ہے

نوشہرہ (خبر ایجنسیاں) جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ اکوڑہ خٹک کے خوشحال خان ڈگری کالج میں ان کے بیٹے حامد الحق نے پڑھائی جس کے بعد انہیں اپنے والد مولانا عبدالحق کے پہلو میں سپردخاک کیا گیا،مولانا کی نماز جنازہ میں ملک بھر سے سیاسی و مذہبی قائدین سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ میں گورنر اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، سابق گورنر اقبال ظفر جھگڑا، عوامی نیشنل پارٹی کے قائمقام صدر غلام بلور، مسلم لیگ (ن) کے رہنما ظفر الحق، امیر مقام، لیاقت بلوچ اور سینیٹر مشتاق احمد خان بھی شریک ہوئے۔دوسری جانب مولانا سمیع الحق کی رہائش گاہ اور اطراف میں بھی سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹ لگا دیے گئے ہیں اور رہائش گاہ کے اندر جانے والوں کی جامہ تلاشی لی جارہی تھی۔واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواکی ہدایت پر صوبے بھر میں ایک روزہ سوگ کے اعلان کے بعد تمام سرکاری عمارتوں پرپرچم سرنگوں رہا۔قبل ازیں دارالعلوم حقانیہ کے نئے مہتمم کا اعلان بھی کیا گیا۔ مولانا یوسف شاہ نے نماز جنازہ کے موقع پر اعلان کیا کہ دارالعلوم حقانیہ کے نئے مہتمم مولانا سمیع الحق کے بھائی مولانا انوارالحق ہوں گے جبکہ بیٹے حامد الحق نائب مہتمم ہوں گے۔دوسری جانب راولپنڈی کے تھانہ ائر پورٹ میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مولانا سمیع الحق کے قتل کا مقدمہ ان کے بیٹے حامد الحق حقانی کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمے میں قتل اور اقدام قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں، ایف آئی آر کے مطابق مولانا سمیع الحق پر حملہ شام ساڑھے 6 بجے کے قریب ہوا اور قاتل نے ان کے پیٹ، دل، ماتھے اور کان پر چھریوں کے 12 وار کیے۔مولانا سمیع الحق کے قتل کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے واقعے میں دہشت گردی کا عنصر رد کردیا ہے، تفتیش کاروں کے مطابق ابتدائی شواہد سے بظاہر معاملہ دشمنی یا دیرینہ عداوت کا لگتا ہے تاہم صورتحال تفصیلی تفتیش میں واضح ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے کمرے سے حاصل کیے گئے فنگر پرنٹس نادرا کو جبکہ کمرے سے حاصل کیے گئے خون کے نمونے کراس میچ کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے ہیں ، اس کے علاوہ مولانا سمیع الحق کے زیر استعمال موبائل فون کا ڈیٹا اور گھر کے قریب نصب کلوز سرکٹ کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کرلی گئی ہے۔ جیو فینسنگ کے لیے متعلقہ اداروں سے بھی معاونت طلب کرلی گئی ہے۔ادھرمولانا سمیع الحق کے قتل کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے ،زیر حراست لیے گئے ان کے 2 ملازمین کے ابتدائی بیان کی تفصیلات کے مطابق قتل کے وقت مولانا کے کمرے میں 2افراد موجود تھے ،دونوں افرادان کے جاننے والے تھے ،وہ اس سے قبل بھی ان کے پاس آتے جاتے تھے ۔ملازمین نے بیان میں کہا کہ دونوں افراد نے مولانا صاحب سے درخواست کی کہ آپ سے اکیلے میں بات کرنی ہے ،مولانا صاحب نے ہمیں بازار سے کھانے پینے کی اشیا لانے کے لیے بھیج دیا ،15منٹ بعد واپس آئے تو مولانا خون میں لت پت تھے اور وہ دونوں افراد موقع پر موجود نہیں تھے ۔ابتدائی بیان میں کہا گیا کہ مولانا کی سانس چل رہی تھی انہیں زخمی حالت میں نجی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ