دس ارب کی ٹرانزکشن، ایف آئی اے نے 30 بے نامی اکاؤنٹس کا پتہ لگالیا

186

وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) نے 30 بے نامی اکاؤنٹس کا پتہ چلا لیا جن کے ذریعے تقریبا 10 ارب روپے کی ٹرانزکشن کی گئی تھی۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے خیبرپختونخوا طارق پرویز کے مطابق 12سے 15ہزار روپے ماہوار پر کام کرنے والے 8گھریلو ملازمین کے نام پر بے نامی اکاؤنٹس ہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کے مطابق بے نامی اکانٹس سے تقریبا 10 ارب روپے کی ٹرانزکشن ہوئی ہے اور یہ اکانٹس منی لانڈرنگ میں استعمال ہورہے تھے جب کہ ان اکانٹس کے ذریعے صوبے کے بیشتر اضلاع میں ٹرانزکشن کی گئی۔

طارق پرویز کا کہنا ہے کہ بونیر، سوات ، کالام اور بشام کے بینکوں میں بھی بے نامی اکاؤنٹس ہیں، مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے ملوث افراد کے شناختی کارڈ اسٹیٹ بینک کو ارسال کر دیے گئے ہیں۔ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کے مطابق بے نامی دار اکانٹس رکھنے والے افراد کی منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔

یادر ہے کہ سپریم کورٹ میں جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس زیر سماعت ہے اور اب تک کئی ایسے افراد کے اکانٹس میں اربوں یا کروڑوں روپے کی موجودگی پکڑی جاچکی ہے جنہیں پیسوں کی آمد کا پتہ ہی نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ