خاشق جی کا قتل سیاست کی بھینٹ چڑھا یا جارہا ہے، روس

38
لندن: ایمنسٹی انٹرنیشنل کے کارکن سعودی سفارت خانے کے سامنے کی سڑک کو مقتول صحافی جمال خاشق جی سے منسوب کرنے کا بورڈ لگا رہے ہیں
لندن: ایمنسٹی انٹرنیشنل کے کارکن سعودی سفارت خانے کے سامنے کی سڑک کو مقتول صحافی جمال خاشق جی سے منسوب کرنے کا بورڈ لگا رہے ہیں

ماسکو ؍ صوفیا ؍ ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) روسی وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا ہے کہ ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں ہلاک ہونیوالے صحافی جمال خاشق جی کے قتل کے معاملے کوبڑھا چڑھا کر بعض ممالک سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ترجمان روسی وزارت خارجہ ماریا زاخاروفا نے ماسکو میں پریس کانفرنس میں کہا کہ جمال خاشق جی کے قتل کیس میں سیاسی چالیں کھیلی جا رہی ہیں اور اس کیس کے ساتھ بہت سی افواہیں منسلک ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ روس پہلے دن سے خاشق جی کیس کی شفاف اور جامع تحقیق کا مطالبہ کرتا رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے ترکی کو خاشق جی کیس کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بلغاریہ میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ خاشق جی کا واقعہ قابل مذمت ہے تاہم اس سے زیادہ بڑا مسئلہ ایران ہے۔ اُدھر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ان کے نزدیک قتل کیے گئے صحافی جمال خاشق جی ایک خطرناک شدت پسند تھے۔ بین الاقوامی ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد نے وائٹ ہاؤس فون کرکے ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، نیشنل سیکورٹی کے مشیر جان بولٹن سے بات کی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ جمال خاشق جی شدت پسند تنظیم اخوان المسلمون کے رکن تھے۔ واضح ہے کہ صحافی کے خاندان نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ ٹیلیفون کال 9 اکتوبر کو کی گئی تھی۔ اُدھر جمال خاشق جی سمیت تمام صحافیوں کے قتل کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ایفل ٹاور کے سامنے صحافیوں کی عالمی تنظیم نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور قتل کے مکمل حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران ایفل ٹاور کی لائٹیں بجھادی گئی تھیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ