بجلی کی نَینوموٹرقاضی مظہرالدین طارق

77

ایک زندہ سَیل (خَلیے) میں اس کی بھی تقریباً سَیل ممبرین کی موٹائی سے چھوٹی ایک بجلی کی موٹر فِٹ ہے۔ یہ موٹر اسی طرح چلتی ہے جیسے ایک بجلی کی موٹر چلتی ہے۔یہ ایک ’راڈ ‘کو گھماتی ہے،راڈ کے آگے ایک آکڑا (ہُک) بنا ہوا ہے جوآگے لگے ہوئے بال(سیلیا) کو کوڑے کی طرح گھماتا ہے۔اگر یہ واحد خَلوی جرثومہ ہے تو گھومتے ہوئے بال کی تونائی سے پانی میں تیرتا ہے۔ یہی بال ہماری ہوا کی نالی کے اربوں سَیلز میں موجود ہیں ،جو ایک ساتھ ایک مخصوص حرکت کرکے ہماری ہوا کی نالی کو بلغم وغیرہ سے صاف کرتی ہے۔
اس موٹر اور خَلوی غشّا(سَیل ممبرین )کو ہم ’ایلَیکٹرون مائیکروسکوپ ‘ کی ایجاد سے پہلے دیکھ بھی نہ سکے تھے، اندازہ کیجیے کہ یہ موٹر کتنی چھوٹی ہے۔ ایک میٹر کو ایک ارب (ایک بلیّن) حصوں میں تقسیم کر دیا جائے، تواس کے ایک حصے کو ایک نَینو میٹر (این ایم) کہا جاتا ہے اورموٹر کا قطرصرف 45 نَینو میٹر ہے۔
پوری کائنات تو ایک طرف، صرف اس موٹر اور اس کے کام کو دیکھنے کے بعد کوئی اِنتہائی ہَٹ دھرم ہی ہوگا جو یہ کہے کہ یہ کائنات کسی خالق کے بغیر آپ سے آپ خود بخود ایک حادثے سے بن گئی ہوگی۔
واہ! مولا تو،ہر روز نئی شان نئی آن سے ظاہر ہوتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ