بغیر کنکشن مدد کے منتظر افراد کی ’مددگار ایپ‘

52

اسپین کے سائنس دانوں نے ایک ایسی ایپ بنائی ہے جو زلزلے، طوفان، سیلاب یا کسی حادثے کے بعد متاثرین کی مدد اور نشاندہی کرسکتی ہے خواہ ان کے پاس انٹرنیٹ کنکشن یا موبائل فون کنکشن موجود ہو یا نہیں۔ اس طرح مدد کےلیے پھنسے افراد کی جان بچائی جاسکے گی۔
اسپین کی ایلی کانٹ یونیورسٹی کے پولی ٹیکنک اسکول میں شعبہ طبیعیات کے ماہرین ہوزے اینگل برنائی اور ان کے ساتھیوں نے ایک ایپ تیار کی ہے جو تمام اسمارٹ فون میں یکساں طور پر قابلِ عمل ہے اور کسی انٹرنیٹ کنکشن کے بغیر ایسے وائی فائی سگنل خارج کرتی ہے جنہیں کئی کلومیٹر دوری تک محسوس کیا جاسکتا ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ حادثے یا کسی آفت کے شکار ہونے والے افراد کے موبائل سے خارج ہونے والے سگنلز کے ذریعے ان کے محددات (کوآرڈنیٹس) معلوم کرکے ان کی موجودگی کی جگہ کا پتا بھی لگایا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں زخمی اور مدد کا ایک مختصر پیغام بھی بھیجا جاسکتا ہے۔
اسمارٹ فون سے خارج ہونے والے سگنلز کو وصول کرنے کےلیے ایک ریسیور بنایا گیا ہے جس کا وزن تقریباً ایک پاؤنڈ ہے ۔ اس پر ایک چھوٹا سا انٹینا نصب ہے جو مددگار رضاکاروں کے اسمارٹ فونز سے جڑا رہتا ہے۔ اب کسی حادثے یا آفت کی صورت میں یوزر کو صرف ایپ کھولنا ہوگی اور وہ فعال ہوتے ہی وائی فائی سگنل خارج کرتی ہے اور کئی گھنٹوں بلکہ کئی دن تک سگنل خارج کرتی رہتی ہے خواہ وہ دیر تک بے ہوش ہوں یا پھر کسی ملبے کے نیچے دبے ہوں۔
ٹیم نے اس کا عملی نمونہ 2016ء میں تیار کرلیا تھا اور اسے اسپین کی سول گارڈ ریسکیو ٹیم نے پہاڑوں پر اور بحریہ نے سمندروں میں کامیابی کے ساتھ آزمایا ہے۔ سمندر اور خشکی میں ایپ کے ذریعے فون سے خارج ہونے والے وائی فائی سگنل کی اچھی طرح سے جانچ کی جاچکی ہے۔ تجربے میں دو سے تین کلومیٹر دور کے سگنلوں کو بھی کامیابی سے تلاش کرلیا گیا ہے۔
اس پروجیکٹ کے مرکزی انجینئر ہوزے اینگل برنائی کہتے ہیں کہ اس وقت دشوار گزار علاقوں میں حادثات کے بعد لوگوں کو تلاش کرنے والے نظام بہت مہنگے اور وقت طلب ہیں۔ جب مدد کرنے والے ان تک پہنچتے ہیں تو کئی واقعات میں وہ چند گھنٹے قبل ہی زندگی ہار بیٹھتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ نظام نہایت منفرد اورمؤثر ہے۔
اگر اس ایپ کا حامل فون کسی عمارت کے نیچے دبا ہو تب بھی اس کے وائی فائی سگنل وصول ہوتے رہتے ہیں۔ ہوزے کے مطابق اس آلے کی قیمت 600 یورو یا 80 ہزار پاکستانی روپے ہے۔

181103-06-5
تھری ڈی پرنٹر سے بنایا گیا بس اسٹاپ
ٹیکنالوجی کے ماہرین اگلے چند برسوں کو تھری ڈی پرنٹرز کےلیے ہوشربا ترقی کے سال قرار دے رہے ہیں جن میں گھریلو اشیا سے لے کر گھر تک تھری ڈی پرنٹنگ مشین سے چھاپے جائیں گے۔
چینی کمپنی ون سن شیلٹر نے ایسا ہی ایک دلچسپ کام کیا ہے اور پورا بس اسٹاپ ہی تھری ڈی مشین پر تیار کرکے اسے سڑک کنارے نصب کردیا ہے۔ قبل ازیں تھری ڈی پرنٹر سے تیار کردہ دفاتر اور چھوٹے بڑے گھروں کی تصاویر اور خبریں بھی میڈیا کی زینت بن چکی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ گھر مکمل طور پر ری سائیکل ہونے والے سامان سے تیار کیا گیا ہے یعنی اس خام مال کو استعمال کیا گیا ہے جسے ہم فالتو سمجھ کر پھینک دیتے ہیں۔ اسے صرف ایک رات میں بنایا گیا ہے۔ اس کے بعد کمپنی نے اسے جنشان ضلع کے ایک قدیم شہر فینگ جنگ میں بھیجا جہاں ایک سڑک کے کنارے اسے نصب کردیا گیا ہے۔
تھری ڈی پرنٹر سے تیار کردہ اس بس اسٹاپ پر لوگوں کے کھڑے ہونے کی جگہ، ایک چھت اور بیٹھنے کی نشستیں بھی لگائی گئی ہیں۔ اس کے بعد یہاں ایک میز کا اضافہ بھی کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ون سن کمپنی چین میں تھری ڈی مکانات اور رہائشی یونٹ تعمیر کرنے والی سب سے بڑی اور جدید کمپنی ہے۔ اس کمپنی نے گزشتہ سال ایک رات میں 10 عدد مکانات تیار کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ اب یہ کمپنی تھری ڈی مشین سے بنے حصوں پر مشتمل بلڈنگ اور کثیرالمنزلہ عمارات بھی تیار کررہی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ