کرشمہ ہائے طریقت

174

 

عنایت علی خان

وزیراعظم عمران خان ماقبل تجرباتِ زناں کے بعد جس طرح موجودہ خاتونِ اوّل کی ارادت مندی تک پہنچے اس پر یہ شعر صادق آتا ہے۔
میکدے سے جو اُٹھے، باغ جناں تک پہنچے
لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے کہاں تک پہنچے
لوگوں نے ٹی وی پر اُنہیں مدینہ منورہ میں جوتوں کے بغیر موزے پہنے چلتے دیکھا تو شاید انہیں یہ شعر بھی یاد آیا ہو۔
کیا ہے کس نے طریقِ سلوک سے آگاہ
مرید کس کا ہے پیر مغاں نہیں معلوم
ناواقفِ طریقت لوگوں کو انہیں اس طرح جوتے اُتار کے چلتے دیکھ کر شاید یہ بھی خیال دامن گیر ہوا ہو کہ اگر شہر نبیؐ کے احترام کا یہی اسلوب معتبر ہوتا تو صحابہ کرام جو آج کے کسی بھی دعوے دار محبت و عقیدت سے سوا عقیدت رکھتے تھے اور اس عقیدت میں جان تک سے گزر جاتے تھے وہ بھی دیارِ نبی میں جوتے پہننے کی جرأت نہ کرتے۔ امام ابنِ تیمیہؒ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ لوگوں نے کب سے نماز جوتے اُتار کر پڑھنی شروع کردی جب کہ نبی اکرمؐ اور صحابہ کرامؓ نعلین کے ساتھ نماز ادا کرتے تھے۔ ایک حدیث میں بھی اس امر کی تصدیق ہوتی ہے جو یہ ہے کہ ایک مرتبہ آپؐ نے نماز کے دوران جب نعلین مبارک اُتار دیں تو صحابہؓ نے بھی آپؐ کی تقلید میں اپنی نعلین اُتار دیں۔ تکمیل نماز کے بعد آپؐ نے صحابہ سے دریافت کیا، آپ لوگوں نے کیوں نعلین اُتار دیں۔ عرض کیا گیا ہم سمجھے دوران نماز آپؐ پر وحی نازل ہوئی ہوگی جس کے تحت آپؐ نے نعلین اُتار دیں، توہم نے بھی آپؐ کے اتباع میں اُتار دیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: مجھے تو جبرئیلؑ نے بتلایا تھا کہ میرے بائیں پیر کی جوتی کی ایڑی میں غلاظت لگی ہوئی ہے اس لیے میں نے نعلین اُتار دی تھیں۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ صحابی حاضر خدمت ہوئے اور آپؐ سے عرض کی کہ میں جس راستے سے آتا ہوں وہاں پانی پڑا ہوتا ہے تو میرے جوتے بھر جاتے ہیں اور ناپاک ہوجاتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اس کے بعد تم خشک زمین پر بھی چلتے ہو گے وہاں جوتے رگڑ کر پاک ہوجاتے ہیں (یعنی اُن میں نماز ادا کرسکتے ہو)۔
اسلام دین فطرت ہے اور اس کی شریعت کا ہر جزو عقل و خرد کی کسوٹی پر پورا اُترتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا جوتا پہن کر چلنے والے کی مثال سوار کی ہوتی ہے۔ یعنی جس طرح سوار راستے کی ہر تکلیف دینے والی شے سے محفوظ رہتا ہے اُسی طرح جوتے پہننے والا بھی محفوظ رہتا ہے۔
لیکن مندرجہ بالا باتیں تو سنت اور شریعت کی تھیں اور معتبر اہل طریقت شریعت سے سرِ مو (بال برابر) انحراف نہیں کرتے تھے بلکہ ان کا کہنا تو یہ تھا کہ شریعت کی درجہ کمال تک پیری ہی دراصل طریقت ہے لیکن بعد کے ادوار میں جب طریقت پیری مریدی کی شکل اختیار کر گئی تو پیر نے اپنی ذاتی کیفیات کے تحت قربِ الٰہی کے جو طریقے اختیار کیے مریدین نے دیگر معاملات میں اُن کے زہدو ریاضت کو دیکھ کر شریعت کی کسوٹی پر پرکھے بغیر وہ طریقے اختیار کرلیے اور جب ننگے پیر چلنے جیسی باتوں کو صحابہ کرامؓ کے طریقوں سے ہٹا ہوا پانے پر اعتراض کیا گیا تو جواز یہ پیش کیا گیا کہ درجہ صحابیت پر فائز ہونے کے سبب اُن کے تو درجات ویسے ہی بلند تھے انہیں اس قسم کی ریاضتوں اور محنت کی ضرورت نہیں تھی ہم گنہگار لوگوں کے لیے قربِ الٰہی کے حصول کے لیے یہ راہ (سلوک) اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
جہاں تک مدینہ منورہ کی تقدیس کا تعلق ہے تو اس سے کون کافر انکار کرے گا لیکن اس کے تقدس کے اثبات کے نت نئے طریقے اختیار کرنا خواہ کتنے ہی خلوص نیت سے ہوں وہ راہِ صواب سے گریزاں ہی متصور ہوں گے۔
تقدیس مدینہ منورہ کے حوالے سے بعض صاحبان علم و دانش کا غُلو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ اس وقت ایک ایسی شخصیت کے غُلو کی مثال یاد آرہی ہے اور وہ شخصیت کوئی اور نہیں مصنفِ شہاب نامے کی ہے جس میں موصوف رقم طراز ہیں کہ انہوں نے بھی فرطِ عقیدت میں سواری پر مدینہ منورہ میں داخل ہونا گوارہ نہیں کیا اور نہ برسرِ راہ کے علاوہ کہیں قیام کیا۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر سرمۂ عقیدت کے طور پر راستے کی خاک آنکھوں میں ڈال لی جو انتہائی شدید اذیت کا سبب بنی۔ اب شریعت بلکہ خود نبی اکرمؐ کے ارشادات گرامی کی رُو سے ایک مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے جسم کو اذیت سے بچائے لیکن طریقت میں دم مارنے کی گنجائش کہاں ہے۔ بقول خاتونِ اوّل یہ تو مدینہ منورہ کی راہیں ہیں میں تو پاک پتن میں بھی ننگے پیر ہی جاتی ہوں۔ لیکن طریقت کی کرشمہ سازیاں تو یہاں تک ہیں کہ،
بمے سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گوید
کہ سالک بے خبر نبود زراہ و رسمِ منزلہا
اگر پیر مغاں یعنی پیر طریقت حکم دے تو اپنے سجادے (جاے نماز) کو شراب میں ڈبو کر رنگ لو۔ کہ سالک یعنی راہِ طریقت کا رہنما اس راہ کے امور سے بے خبر نہیں با خبر ہے۔
لیکن ان کرشمہ سازیوں کے مقابلے میں نبی اکرمؐ سے عقیدت کے حوالے سے ایک مشہور حدیث یاد آرہی ہے جو اس طرح ہے کہ ایک بار آپؐ وضو فرما رہے تھے تو صحابہ کرام کمال عقیدت سے آپؐ کے جسمِ اطہر سے مس ہونے والا پانی زمین پر نہیں گرنے دیتے تھے بلکہ جھپٹ کر ہاتھوں میں لیتے اور چہروں پر ملتے۔ آپؐ نے اس پر اُن سے سوال کیا کہ آپ لوگ ایسا کیوں کررہے ہیں۔ جواب تھا اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں۔ لوہا گرم دیکھ کر کیا چوٹ لگائی۔ فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرے اور نتیجے اللہ اور اس کے رسول کا محبوب بن جائے وہ تین کام کرے، بولے تو سچ بولے، وعدہ کرے تو پورا کرے، امانت دی جائے تو اس کی پاسداری کرے۔ آپ نے دیکھا آپؐ نے اپنی محبت کے حقیقی تقاضے جو آپؐ کی بعثت کا جواز بھی تھے، کس خوبی سے صحابہؓ کے ذہن نشین کرائے۔ اگر کوئی شخص ان فرمودات سے ہٹ کر اظہار عقیدت کے کوئی اور انداز اختیار کرتا ہے تو وہ اس کی بھول ہے۔
بظاہر عمران خان خوش قسمت ہیں کہ ایک نیک خاتون کی صحبت سے فیضیاب ہونے کا موقع میسر آیا ہے اور خاتون بھی خوش قسمت ہیں کہ اُن کی منکوحہ بن کر انہیں قابل رشک منصب میسر آیا لیکن اگر وہ طریقت کے ساتھ ہی شریعت کے تقاضے بھی ملحوظ رکھیں اور اپنی تلقین میں مزاروں کو بوسے دلوانے اور مدینہ طیبہ میں ازراہ عقیدت ننگے پیر گھمانے کے ساتھ ساتھ نبی اکرمؐ کی محبت بلکہ تلقین کے تحت انہیں اپنے چہرے کو سنتِ رسول سے مزین کرنے کا بھی مشورہ دیتیں۔ (مزین کے حوالے سے یاد آیا کہ سندھی زبان میں ڈاڑھی کو ’’سونھاری‘‘ یعنی زینت کہا جاتا ہے) یہ حقیقت ہے کہ جس طرح باطن کا اثر انسان کے ظاہر پر پڑتا ہے اسی طرح اس سے نسبتاً کم سہی لیکن ظاہر کا اثر انسان کے باطن پر بھی پڑتا ہے۔ اپنے چہرے کو شریعت کے مطابق پردے میں رکھنے والی اگر شریعت کا مذکورہ تقاضا بھی پورا کرسکیں تو اس طرح وہ لارڈ کرزن (وائسرائے ہند) کے اس دشمنِ شریعت کا ازالہ کرکے ایک سنت کے احیا کا ثواب حاصل کرسکیں گی جس کے بارے میں اکبر الٰہ آبادی نے کہا تھا:۔
کردیا کرزنِ نے زن مردوں کی صورت دیکھیے
آبرو چہرے کی سب فیشن بنا کر پونچھ لی
واہ ری تہذیب مغرب واہ کیا کہنا ترا
ابتدا ڈاڑھی سے کی اور انتہا میں مونچھ لی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ