عدالتی فیصلہ یا غلامی کا؟

248

پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے ملعونہ آسیہ بی بی کی رہائی کا فیصلہ کر کے ہم مسلمانوں کے دلوں پر جو گہرا زخم لگایا ہے، وہ شاید بآسانی سے مندمل نہ ہو سکے گا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں محبوب رسول ممتاز قادری ؒ کو پھانسی دی جا چکی اور اب ’’نیا پاکستان‘‘ اور ’’نئے مدینہ‘‘ میں ملعونہ شاتم رسول کو رہائی مل چکی ہے۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جس وقت وزیر اعظم، سپہ سالار اعلیٰ، اور منصف اعلیٰ کے مابین مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اور قوم کو یہ تاثر دیا جا چکا ہے کہ ہم ’’بیرونی دباوُ‘‘ قبول نہیں کرتے اور ہم پاکستان کو ’’مدینہ‘‘ بنا رہے ہیں۔ اور قوم کی ایک متعد بہ تعداد خصوصاً نوجوان اور بیرون ملک مقیم ہم ’’دانا‘‘ اور خوش گمان لوگ اس پر یقین بھی رکھتے ہیں۔ لوگ عدالتی فیصلے پر تبصرہ کر رہے ہیں۔ اور بہت سارے لوگ خصوصاً لبرل اور سیکولر آسیہ بی بی کی رہائی کے لیے جج صاحبان کے اٹھائے گئے ’’تکنیکی نکات‘‘ کی دہائیاں دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جن دو عدالتوں سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ نے جو آسیہ کے لیے پھانسی کا فیصلہ سنایا تھا وہ عدالت عظمیٰ کے مذکورہ تین جج صاحبان سے کم قابل نہ تھے۔ سابقہ فیصلہ عدالتی تھا، جب کہ موجودہ فیصلہ بظاہر غلامی کا معلوم ہوتا ہے، اور یہی پاکستان کا نمبر ایک مسئلہ ہے۔ 1947 میں آزادی کے بعد برطانیہ کی غلامی سے نکل کر پاکستان امریکا کی بلواسطہ غلامی میں آیا اور مغربی نظام تعلیم اور مغربی نظام معیشت کے ذریعے مغربی تہذیب و تمدن کو جاری رکھنے کا عہد ہوا۔ اسلامی دستور اور جمہوریت کا ڈول صرف بھولے مسلمانوں کی تسلی کی خاطر تھا، اور اسی نظام کا تسلسل آج تک قائم ہے۔ ڈمی حکومت کا جب ایک مہرہ پٹ جاتا ہے تو اسلام کا غازہ لگا کر ایک نیا مہرہ آگے کر دیا جاتا ہے۔ قوم کو باتوں، وعدوں، اور تقریروں کے سحر میں مبتلا رکھا جاتا ہے، سول، ملٹری بیوروکریسی، اور عدالت کا مغربی قانون اس نظام کو قائم رکھتا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے بہت سے فیصلے ماضی قریب اور بعید کے ایسے ہیں جو عدالتی نہیں، سیاسی تھے۔ اور ان میں کئی زمینی اور ’’خلائی‘‘ مخلوقات کا عمل دخل رہا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے کئی سابقہ ججوں نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے اور ان کی اپنی گواہیاں موجود ہیں۔ محترم پروفیسر خالد جامعی نے اس سال کی ابتدا کی ایک خبر کا خلاصہ بھیجا ہے: 2جنوری 2018 کو یورپی یونین کا ایک اہم وفد پاکستان آتا ہے۔ اس وفد کے انچارج جان فیگل نے واضح طور پر کہا کہ ہمارے پاکستان آنے کا صرف ایک ون پوائنٹ ایجنڈا ہے اور وہ ہے ’’آسیہ بی بی کے کیس میں مثبت پیش رفت۔ اگر حکومت پاکستان چاہتی ہے کہ اس کا GSP Plus اسٹیٹس (درجہ) کی تجدید کی جائے اور اس کی مستقبل میں مالی امداد بھی کی جائے تو وہ اسے آسیہ بی بی کے کیس کے ساتھ مشروط سمجھے۔ یورپی یونین کے تمام ارکان ممالک کے لیے آسیہ بی بی کا کیس انتہائی اہمیت کا حامل ہے خاص طور پر اٹلی کے لیے کہ جو یہ سمجھتا ہے کہ عدالت عظمیٰ اسے جان بوجھ کر اسے ملتوی کر رہی ہے۔ پاکستانی حکومت اس کیس کا مثبت فیصلہ کرے بدلے میں اسے تجارت کے معاملے خاص رعایت ملے گی۔ لیکن اس سہولت کا تعلق آسیہ بی بی سے ہے۔ (جان فیگل)۔ پاکستان میں چوں کہ ’’انسانی حقوق‘‘ کا خیال نہیں رکھا جاتا اور یہاں مذہبی آزادی نہیں لہٰذا یہ درجہ مطلوبہ نتائج آنے تک ہرگز بحال نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں یہ بھی کہا کہ یورپی یونین آسیہ بی بی کو ابھی تک نہیں بھولی۔‘‘
ظاہر ہے کہ موجودہ فیصلہ یورپین یونین کی خواہشات کی تکمیل تھی اور یہ عدالتی فیصلہ نہیں سیاسی اور غلامی کا فیصلہ تھا۔ اور عدالت کے سیاسی فیصلہ میں پاکستانی مقتدرہ کا عمل دخل لازمی ہوتا ہے۔ مزید برآں ملعونہ کو آزاد کرنے کا فیصلہ 31اکتوبر کو منصوبہ بند طریقہ سے کیا گیا۔ کیوں کہ اسی دن شاتم رسول راج پال کا غازی 21 سالہ نوجوان علم الدین کو انگریزی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تھی (31 اکتوبر 1929) اس مقدمہ کی پیروی بیرسٹر محمد علی جناح نے کی جو بعد میں برصغیر کے مسلمانوں کے قائد اعظم بنے۔ اور اسی موت (شہادت) پر علامہ اقبال ؒ نے رشک کیا تھا۔ ہندوستان کے تمام جید علماء اور مسلمانوں کی تقریباً تمام قیادت علم الدین شہید کے پشت پر تھی۔ 31 اکتوبر کو ملعونہ آسیہ کو رہا کرنے کا مقصد یہ واضح اعلان تھا کہ یہ وہی برطانوی عدالت ہے اور اس کے وہی جج صاحبان ہیں جنہوں نے 89 سال قبل علم الدین کو پھانسی سنائی تھی۔ یہ گویا اس بات کا اعلان تھا کہ تم اپنی یہ غلط فہمی دور کر لو اور سانولے رنگ والے مسلم جیسے ناموں سے کہ تم کو یہ گمان نہ ہو کہ تم آزاد ہو۔
ایسا نہیں ہے کہ اس سیاسی، غلامانہ، فیصلہ کے عوامی ردعمل کے نتائج سے حکومت ناواقف ہو۔ پہلے ہی دن عمران خاں نے ٹی وی پر آکر دھمکیاں دی ہیں اور لوگوں کو ریاست سے ٹکرانے کا انجام بتادیا ہے۔ انہیں خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ اس کا عوامی ردعمل کتنا شدید ہوگا۔ لیکن وہ بہت زیادہ ’’پر اعتماد‘‘ ہیں۔ یہ اعتماد کہاں سے آرہا ہے؟
اس کیس میں اب تک تین جانیں جا چکی ہیں اور اب اس فیصلے کے بعد نہ جانے کتنی جانیں اور ضائع ہوں گی اس کا اندازہ مشکل ہے۔ ساری دنیا میں مسلمانوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے اور پاکستان میں بھی یہی حال ہے۔ ملعونہ آسیہ کو بچا لیا گیا لیکن اس کو بچانے کی کوشش اور شاتم رسول کا حامی اور قانون توہین رسالت کا ناقد سلمان تاثیر جہنم رسید ہو چکا ہے۔ غازی ممتاز قادری شہادت کا مرتبہ پا چکے ہیں اور شہباز مسیح مارا جا چکا ہے۔ توہین رسالت کی سزا کا قانون انسانی جانوں کو بچانے کے لیے تھا لیکن حکومت اور عدالت نے عملاً اس کو بے معنی کر دیا ہے۔ آج تک ایک مجرم کو بھی سزا نہیں ہوئی ہے۔ کیا محبوب رسول غازی ممتاز قادری کی پھانسی اور شاتم رسول آسیہ بی بی کی آزادی، کی عطا کردہ توہین کو قومی حافظے سے محوکیا جا سکے گا؟ اب کتنے علماء ہیں جو اب یہ علی الاعلان کہ رہے ہیں کہ شاتم رسول کی ایف آئی آر کرانے کی ضرورت نہیں، اس کو پہلے ہی خود ہی سزا دی جائے۔ یہ واقعہ پاکستان میں کسی بڑی تبدیلی کا نقطہ آغاز بھی ہو سکتا ہے، اور تباہی کا پیش خیمہ بھی۔
عمران خاں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ملک و ملت کی خاطر قربانی کے لیے مسٹر سیکولرون و مسٹر لبرلون کبھی آگے نہیں آئے گا۔ اس کے لیے ہمیشہ علماء کا ہی طبقہ آگے آئے گا۔ تاہم عمران خان کو ہوش کا ناخن لینا کون سکھائے گا؟

Print Friendly, PDF & Email
حصہ