مولانا سمیع الحق کو راولپنڈی میں شہید کردیاگیا

270

راولپنڈی ( نمائندہ جسارت) دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ اورجمعیت علماء اسلام (س) کے امیرمولانا سمیع الحق کو راولپنڈی میں شہید کردیا گیا۔ مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے مولانا حامد الحق نے میڈیا کو بتایا کہ والد پر بحریہ ٹاؤن میں واقع ان کے گھر کے اندر خنجر سے حملہ کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ مولانا سمیع الحق عصر کے بعد اپنے گھر پر آرام کر رہے تھے ،ان کے ڈرائیور، محافظ اور گھریلو ملازم کچھ دیر کے لیے باہر گئے اور جب واپس آئے تو مولانا اپنے بستر پر خون میں لت پت پڑے تھے۔ انہیں شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔پولیس حکام کے مطابق مولانا سمیع الحق کے گن مین اور ڈرائیور کو شامل تفتیش کر لیا گیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ دونوں کسی کام سے باہر گئے تھے اورعمومی طور پر اکٹھے باہر نہیں جاتے۔ پولیس کے مطابق محافظ اور ڈرائیور کے باہر جانے کے بعد حملہ آور دیوار پھلانگ کر مکان میں داخل ہوا اور پہلے چھری کے وار کیے اور بعد میں گولی ماری۔ بعدازاں گھریلو ملازم کو بھی تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسپتال کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی جب کہ اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ۔ پارٹی ترجمان کے مطابق مولانا سمیع الحق کا جسد خاکی اکوڑہ خٹک پہنچادیا گیا ہے جہاں ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی اورپھرآبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔علاوہ ازیں مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے مولانا حامد الحق نے کہا ہے کہ افغان حکومت اور مختلف طاقتوں کی جانب سے والد کو خطرہ تھا کیوں کہ والد افغانستان کو امریکا کے تسلط سے آزاد کرانا چاہتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پولیس اور سیکورٹی اداروں کو دھمکیوں کے حوالے سے آگاہ کردیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسی قوتیں جو ملک میں اسلام کا غلبہ نہیں چاہتیں، جو جہاد مخالف ہیں، جو مدرسوں اور خانقاہوں کی مخالفت کرتے ہیں وہی طاقتیں اس قتل میں ملوث ہیں، مولانا سمیع الحق کے چاہنے والے کارکنان اور عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور دشمن قوتوں کو تنقید کا موقع نہ دیں۔دوسری جانب صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ عمران خان نے اپنے بیان میں کہا کہ مولانا سمیع الحق کی شہادت سے ملک جید عالم دین اور اہم سیاسی رہنما سے محروم ہو گیا، ان کی دینی اور سیاسی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچایاجائے گا،واقعے کی فوری تحقیقات اور ذمے داران کا تعین کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے آئی جی سے رپورٹ طلب کر لی۔مولانا فضل الرحمن نے مولانا سمیع الحق کی شہادت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں۔ سمیع الحق سے اختلاف کے باوجود ان کے ساتھ ایک محبت کا رشتہ قائم تھا اور ان کے خاندان کے ساتھ بھی یہ تعلق قائم رہے گا،غم میں ہم سب برابر کے شریک ہیں۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سمیع الحق کی شہادت نے سیکورٹی صورتحال کی قلعی کھول دی ہے،مولانا سمیع الحق بلا شبہ ایک مدبر سیاستدان اور عالم دین تھے، ان کی دینی اور سیاسی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی،حکومت مولانا سمیع الحق کو شہید کرنے والے دہشت گردوں کو فوری گرفتار کرے۔انہوں نے کہا کہ مولانا سمیع الحق کی شہادت کسی سازش کا شاخسانہ لگ رہی ہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف کاکہنا تھا کہ خبر سن کر بہت دکھ ہوا، دعا ہے کہ اللہ تعالی مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پاکستان پر رحم فرمائے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے بھی مولانا سمیع الحق کے قتل پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے بھی مولانا سمیع الحق کی حملے میں شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سمیع الحق پر پہلے بھی حملے ہو چکے ہیں، ان کا سیکورٹی لیپس کیسے ہوا، اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے غمزدہ خاندان سے اظہار افسوس و تعزیت کیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ