ملک گیر ہڑتال دھرنے اور مظاہرے ،حکومت نے گھٹنے ٹیک دیئے،آسیہ کا نام ای سی ایل میں ڈالیں گے،وزیر مذہبی امور

199

کراچی /اسلام آباد/لاہور/پشاور/کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر +نمائندگان جسارت) آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف مذہبی جماعتوں کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال کی گئی۔ اس موقع پر تمام شہروں میں مکمل شٹرڈاؤن اور پہیہ جام رہا، احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور بڑی ریلیاں بھی نکالی گئیں،اندرون و بیرون ملک زمینی و فضائی راستے معطل ہوگئیجب کہ جمعہ کو بھی ملک بھر میں دھرنے جاری رہے۔ کئی شہروں میں صبح سے ہی موبائل فون سروس معطل کردی گئی تھی ۔بعد ازاں حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے جس میں 5 نکاتی معاہدہ طے پاگیا جس کے بعد مرکزی رہنماؤں نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک لبیک پاکستان کے رہنما خادم رضوی نے کہا کہ پورے پاکستان میں جہاں جہاں لوگ دھرنا دیے بیٹھے ہیں وہ پر امن طور پر منتشر ہوجائیں اور آئندہ کے لائحہ عمل کا انتظار کریں۔وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور تحریک لبیک کے معاہدے پر حکومتی ٹیم اور تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے دو، دو نمائندوں کے دستخط موجود ہیں۔ حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور صاحبزادہ ڈاکٹر نور الحق اور صوبائی وزیر قانون پنجاب راجا بشارت جب کہ تحریک لبیک کی جانب سے تنظیم کے سرپرست اعلیٰ پیر افضل قادری اور مرکزی ناظم اعلیٰ محمد وحید نور نے دستخط کیے ہیں۔ معاہدے طے کیا گیا ہے کہ آسیہ مسیحکانام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے قانونی کارروائی کی جائے گی۔مقدمے میں نظرثانی کی اپیل مدعا علیہان کا قانونی حق و اختیار ہے جس پر حکومت معترض نہ ہو گی۔ آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف تحریک میں اگر کوئی شہادتیں ہوئی ہیں ان کے بارے میں فوری قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔آسیہ کی بریت کیخلاف 30 اکتوبر اور اس کے بعد گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے گا۔اس واقعے کے دوران جس کسی کی بلاجواز دل آزاری یا تکلیف ہوئی ہو تو تحریک لبیک معذرت خواہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ