وزیراعظم کی چینی صدر سے ملاقات 7 ارب ڈالر کے منصوبے اور قرض ملنے کا امکان

101

بیجنگ (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان اور چین کے صدر شی جن پنگ کی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے سی پیک پر پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے اس کی کامیابیوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور پاکستان کے لیے زیادہ سے زیادہ فوائد کے لیے اس کی جلد تکمیل کا عزم کیاہے، دونوں رہنماؤں نے پاک۔چین دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا ، باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور بڑھتے ہوئے سیاسی و اقتصادی بے یقینی حالات پر قابو پانے کے حوالے سے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔دونوں رہنماؤں کی ملاقات جمعہ کو یہاں پیپلز گریٹ ہال میں ہوئی۔اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان باہمی مفادات کے تحفظ، مشترکہ تصورات اور کثیر الجہتی نظام کے فروغ کے لیے چین کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، تخفیف غربت اور انسداد بدعنوانی کے شعبوں میں
چین کے تجربات سے سیکھنے کے خواہاں ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے پرجوش جذبات کے اظہار پر چینی صدر، چین کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ صدر شی جن پنگ کا ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ کا وژن اور اس کا فلیگ شپ منصوبہ سی پیک خطہ اور اس سے باہر سب کے لیے سودمند مشترکہ خوشحالی کی شکل اختیار کرے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان باہمی مفادات، مشترکہ تصورات اور کثیر الجہتی نظام کے فروغ کے تحفظ میں چین کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ وزیراعظم نے شاندار مہمان نوازی پر چینی صدر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک چین کی ترقی سے بہت متاثر ہے، چین نے مؤثر انداز میں غربت اور بدعنوانی پر قابو پایا ہے، پاکستان تخفیف غربت اور انسداد بدعنوانی کے شعبوں میں چین کے تجربات سے سیکھنے کا خواہاں ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے لیے پاک۔چین تزویراتی معاون شراکت داری کو تقویت دینے کے پختہ عزم کو اجاگر کرتے ہوئے بنیادی مفاد کے تمام ایشوز پر پاکستان کے لیے چین کی مصمم حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ چینی صدر نے کہا کہ پاک چین تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہو رہے ہیں، یہ تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے مفید ہیں۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے چینی صدرشی جن پنگ کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کرلی۔ ،ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے دورے کے دوران پاکستان کو چین سے سی پیک منصوبوں کے لیے 6 ارب ڈالرز کا پیکج جبکہ ڈیڑھ ارب ڈالرز قرضہ ملنے کا امکان ہے اور چین سے ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالرز اسٹیٹ بینک میں جمع کرائے جائیں گے۔دونوں وفود کے درمیان درآمدات اور برآمدات کے حجم کو برابر کرنے پر بات چیت کی گئی۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایشین انفراسٹرکچر انوسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کے ایک بانی رکن کی حیثیت سے پاکستان بینک کے مشن کی بھرپور حمایت کرتا ہے، بینک کے ساتھ اپنے تعاون کو تقویت دینے کے خواہاں ہیں، موجودہ حکومت نے اقتصادی بحالی اور ادارہ جاتی اصلاحات کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے یہ بات ایشین انفراسٹرکچر انوسٹمنٹ بینک کے صدر جن لی چن سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جنہوں نے جمعہ کو یہاں ان سے ملاقات کی۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے عوام کے درمیان جذبہ خیرسگالی مشترکہ مستقبل کے لیے پاک چین سدا بہار تذویراتی معاون شراکت داری کے لیے پختہ بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بات کیمونسٹ پارٹی آف چائنہ کے انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ (آئی ڈی سی پی سی) کے وزیر سونگ تاؤ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جنہوں نے جمعہ کو یہاں ان سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے یاد دلایا کہ سانگ تاؤ کے اکتوبر میں دورہ پاکستان نے دوطرفہ تعلقات کو تقویت اور وسیع تر باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور ہمہ جہت تعاون بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ دوسری جانب پاکستان اور چین نے سی پیک منصوبوں کو جلد از جلد عملی جامہ پہنانے سے متعلق مکمل افہام و تفہیم کا اعادہ کرتے ہوئے علاقاقی و بین الاقوامی اہمیت کے حامل معاملات سے متعلق اسٹریٹجک کمیونیکیشن جاری رکھنے پر اتفاق کیاہے۔یہ اتفاق رائے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے چینی ہم منصب وانگ ئی کے درمیان جمعہ کوگریٹ ہال بیجنگ میں ملاقات کے دوران پایا گیا۔ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ٹویٹ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نئے دور میں بہتر مستقبل کے لیے پاک چین سدا بہار ا سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ