حکومت پسپا ،مزاکرات کی کوشش ،عاشقان رسول ڈٹ گئے 

291
اسلام آباد: تحریک لبیک کے کارکنان فیض آباد پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں ‘ چھوٹی تصویر میں خادم رضوی لاہور میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کررہے ہیں
اسلام آباد: تحریک لبیک کے کارکنان فیض آباد پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں ‘ چھوٹی تصویر میں خادم رضوی لاہور میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کررہے ہیں

کراچی/لاہور/ اسلام آباد/پشاور (اسٹاف رپورٹر +نمائندگان جسارت) آسیہ مسیح کی رہائی کے خلاف کراچی ، اسلام آباد ، لاہور اور پشاور سمیت ملک بھرمیں 200سے زائد مقامات پر دوسرے روز بھی دھرنے جاری رہے۔ اسلام آباد میں سڑک خالی کرانے کے لیے پولیس نے آپریشن کیا اور اس دوران ربرکی گولیاں چلائی گئیں جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔مشتعل افراد نے جوابی پتھراؤ کیا جس سے کئی اہلکار بھی زخمی ہوئے ۔ بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات بھی زخمیوں
میں شامل ہیں۔ مظاہرین نے متعدد گاڑیاں توڑڈالیں اور ایک کار اور2موٹر سائیکلوں کو آگ لگائی۔سیکورٹی اہلکاروں نے پکڑ دھکڑ شروع کرتے ہوئے بعض مظاہرین کو موقع سے گرفتار کرلیا۔مذہبی جماعتوں ، تاجر تنظیموں ، وکلا ، اساتذہ اور کلرکوں سمیت تمام مکاتب فکر اور شہریوں کی جانب سے احتجاج ریکارڈ کرایا جا رہا ہے،اہم شہروں میں جمعرات کو بھی تمام کاروباری و تجارتی مراکز ،مارکیٹوں ، بازاروں میں مکمل شٹر ڈاؤن رہا۔جڑواں شہروں کے درمیان میٹرو بس سرو س سمیت دیگر ٹرانسپورٹ اور موبائل فون سروس بھی معطل رہی،تعلیمی ادارے بند رہے ، دفاتر میں بھی حاضری معمول سے انتہائی کم رہی۔جہازوں اور ریلوے کا شیڈول بھی بری طرح متاثر رہا‘لاہور میں پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کرنے پر مشتعل افراد نے آئی جی پولیس کے دفتر پر ہی حملہ کردیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں موبائل فون سروس معطل کردی گئی۔ رینجرز کے اہلکاروں نے رات گئے ٹاؤن ہال ،لاہور ہائیکورٹ،اسٹیٹ بینک ،الفلاح بلڈنگ ،پنجاب اسمبلی ،واپڈا ہاؤس ،گورنر ہاؤس سمیت دیگر اہم عمارتوں کی سیکورٹی سنبھال لی ہے ۔دوسری جانب کشیدگی کو کنٹرول کرنے کے لیے پالیسی تبدیل کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مذاکرت کے لیے 2کمیٹیاں قائم کی گئیں ہیں،پہلی کمیٹی میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری اور شہریارآفریدی جبکہ دوسری کمیٹی میں وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری شامل ہیں۔بتایا گیا ہے کہ کمیٹیوں کی نگرانی وزیراعظم خود کریں گے ۔وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی اور وزیراطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے تصدیق کی ہے کہ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ قوم کو جلد خوشخبری ملے گی۔قومی اسمبلی میں امن و امان کی صورتحال پر جاری بحث کے دوران شہریار آفریدی نے بتایا کہ تمام صوبوں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ طویل مشاورت ہوئی ہے اور یہ فیصلہ ہوا ہے کہ احتجاج کے خاتمے کے لیے طاقت کا استعمال نہ کیا جائے بلکہ ان سے بات کی جائے۔وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنے پر بیٹھے تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی اورمعاملہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے تاہم خادم رضوی نے حکومتی پیش کش کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ملاقات سے بھی انکار کردیا ۔خادم حسین رضوی نے موقف اختیار کیا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار کے استعفے اور آسیہ ملعونہ کی پھانسی سے پہلے کسی صورت دھرنے ختم نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جس عدالت عظمیٰ نے ممتاز قادری جیسے عاشق رسول کو پھانسی پر چڑھایا اور آسیہ ملعونہ جیسی گستاخ رسول کو بری کیا اس عدالت عظمیٰ میں فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کرنا بذات خود توہین رسالت ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ میں فیصلے پرنظرثانی کی درخواست دائر کرنے یا آسیہ ملعونہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ ہم نے پہلے کیا اور نہ ہی آئندہ ایسے بیوقوفانہ مطالبے کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر میری وڈیو دکھا کر کہا جائے کہ دیکھو مولوی خادم نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے تب بھی اس بات پر یقین نہ کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ