وعدے پورے کرنا عمران خان کے بس کی بات نہیں،خورشید شاہ

131

سانگھڑ (نمائندہ جسارت) پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وعدے پورے کرنا عمران خان کے بس کی بات نہیں‘ پی ٹی آئی رویہ آج بھی کنٹینر والا ہے‘ ڈیڑھ ماہ میں قرضے بڑھ کر36 ہزار بلین ہوگئے‘ ڈیموں کی تعمیر کے لیے سنجیدہ رویے کی ضرورت ہے‘ فاروق ستار کی اب کوئی سیاسی حیثیت نہیں‘حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے سے پہلے ہی گیس پر 143فیصد ٹیکس بڑھا دیا۔ وہ چیئرمن ضلع کونسل سانگھڑ کے چیئرمین خادم حسین رند کی رہائش گاہ پر ان کے والد مرحوم الطاف حسین رند کی وفات پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی حالات خطرناک ہیں ‘سابق حکومت کی کارکردگی بھی اتنی اچھی نہیں تھی‘ ڈیڑھ ماہ میں28 ہزار بلین قرضے 36 ہزار بلین ہوگئے ‘خودکشی کی باتیں کرنے والے آئی ایم ایف کے پاس جا رہے ہیں ‘ پی ٹی آئی رویہ آج بھی کنٹینر والا ہے‘ یہ گالم گلوچ و دھمکیوں والا رویہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم سمیت دیگر ڈیمز بننے چاہئیں‘ بھاشا ڈیم کی تعمیر کا خرچ 14 بلین ڈالر ہے ریکوری اور چندے سے فقط 0.3 فی صد ملا ہے ‘ڈیم ایسے نہیں بنتے‘اس سلسلے میں چیف صاحب پی ایس ڈی پی کا 15 فی صد مختص کرنے کے لیے ڈائریکشن دیں۔ خورشید شاہ نے کہا کہ سندھ چشمہ کینال کے معاملے پر ہر سطح پر احتجاج کا حق رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے بہت ساری باتیں کرلی ہیں جن کو اب پورا کرنا‘ ان کے بس کی بات نہیں ‘ عمران خان آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بجائے خودکشی کی باتیں کرتے تھے‘ موجودہ حکمران اتنے اچھے ہیں کہ انہوں نے آئی ایم ایف کے پاس جانے سے پہلے ہی ٹیکس لگادیے ہیں‘ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اتنا بھی ٹیکس لگ سکتا ہے‘143فیصد گیس پر ٹیکس بڑھا دیا ہے جس کا اثر تمام تر عام آدمی پر پڑا ہے‘ پہلی مرتبہ دنیا میں پیٹرول کے مقابلے میں گیس کے ریٹ زیادہ ہیں ‘ حکومت کا رویہ پہلے دن ہی سے غیر پارلیمانی ہے‘ شہباز شریف اپوزیشن لیڈر ہیں‘ ہم نے شہباز شریف کی گرفتاری کی مذمت بھی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اب ختم ہوچکی ہے ‘وہ اب اپنی بقا کی بات کرتے ہیں‘ فاروق ستار کی اب کوئی حیثیت نہیں ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ