پانی پر صوبوں کے اختلافات ختم کرنے کیلئے آبی کونسل کا اجلاس بلانے کا فیصلہ

83

اسلام آباد(آ ن لائن)حکومت نے پانی کے حوالے سے صوبوں کے درمیان تنازعات دور کرنے اور ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دینے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں ’’قومی آبی کونسل‘‘ کا پہلا اجلاس بلارواں ماہ کے آخر میں بلانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق رواں برس اپریل میں سی سی آئی پانی کے مسائل حل کرنے اور ذخائر کی تعمیر کے لیے ’قومی آبی کونسل‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا۔وزیر اعظم کی سربراہی میں قائم آبی کونسل کے دیگر اراکین میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وفاقی وزیر برائے آبی ذخائر، خزانہ، توانائی اور وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی شامل ہیں۔ نجی شعبے کے5 آبی ماہرین، وزیر اعظم آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ بھی کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس میں کراچی کے لیے 12 سو کیوسک پانی مختص کرنے کے ساتھ آبی شعبے کے مسائل اور مستقبل کے چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس سے قبل مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے کراچی کے 12 کیوسک پانی کی فراہمی کا معاملہ اٹھایا گیا تھا تو زیادہ تر اراکین خاص کر دیگر 3 صوبوں کے نمائندوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کونسل کو آگاہ کیا تھا کہ ماضی میں سندھ نے وفاقی دارالحکومت کی پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اس سمجھوتے کے تحت اشتراک کرنے پر اتفاق کیا تھا کہ کراچی کی پانی کی ضرورت دیگر صوبے مل کر پوری کریں گے۔تاہم نمائندہ پنجاب حکومت کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بات ریکارڈ پر موجود نہیں جو اس دعوے کو ثابت کر سکے۔بلوچستان اور خیبر پختونخوا نے بھی اپنے حصے میں سے کراچی کو پانی دینے کی تجویز کی مخالفت کی تھی، اس تمام تنازع پر وزیر برائے صوبائی رابطہ فہمیدہ مرزا نے یہ مسئلہ قومی آبی کونسل کے سپرد کردیا تھا۔آبی کونسل کے اجلاس میں پانی کے شعبے کے مسائل اور چیلنجز کے ساتھ پانی سے متعلق صوبائی تنازعات کے حل کے بارے میں غور کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کی جائے گی۔خیال رہے کہ قومی آبی پالیسی کے مطابق ملک میں تقریباً 46 ملین ایکٹر فٹ پانی ضائع ہوجاتا ہے، جسے نہروں اور ابی ذخائر کی مدد سے سال 2030 ء تک کم از کم 33 فیصد کم کرنا ہے۔اس کے علاوہ آبپاشی میں ڈرپ اور چھڑکاؤ کی جدید اور بہتر ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے 2030 تک پانی استعمال کرنے کی صلاحیت میں 30 فیصد اضافہ اور استعمال کے مطابق اس کی قیمت مقرر کی جائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ