’’کَریم‘‘ ٹیکسی سروس مختلف طریقوں سے سواریوں کو لوٹنے لگی

53

کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) آن لائن کریم ٹیکسی سروس شہریوں کو لوٹنے لگی، ڈرائیور حضرات کی من مانیوں کی وجہ سے شہری دیگر ٹرانسپورٹ ذرائع کو ترجیح دینے لگے، آرام دہ سفر کے لیے سہولت سمجھی جانے والی آن لائن ٹیکسی سروس مختلف طریقوں سے عوام کو لوٹنے لگی، سواریوں سے مختلف حیلوں بہانوں سے زیادہ کرائے بٹورنے کی شکایات سامنے آنے لگی ہیں جبکہ کریم کے بیشتر ڈرائیور کراچی شہر کے راستوں سے ناواقف ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ملٹی نیشنل ٹرانسپورٹیشن نیٹ ورک کمپنی کریم (جو دنیا کے 13 ممالک کے 80 شہروں میں ٹرانسپورٹ خدمات سرانجام دے رہی ہے) کی کراچی میں ٹیکسی سروس کی کارگردگی کے حوالے سے مختلف شکایات سامنے آنے لگی ہیں اور کمپنی نے شہریوں کا اعتماد کھو دیا ہے۔ گلستان جوہر کے رہائشی ایک شہری نے جسارت سے گفتگو کرتے ہو ئے بتایا کہ میں نے گزشتہ روز گھر جانے کے لیے کریم کی ایپ کے ذریعے ٹیکسی بک کرائی، ڈرائیور محمد قاسم قریشی (گاڑی نمبر BJN-474) نے 8 منٹ میں پہنچنے کو کہا، لیکن مجھے آدھا گھنٹہ انتظار کرنا پڑا، اس دوران ڈرائیور کو متعدد کالز کرکے ریگل چوک پہنچے کو کہا اس کے باوجود وہ ریگل چوک کے بجائے اگلے سگنل پر پہنچ گیا، کریم کے ڈرائیور کا رویہ انتہائی خراب تھا، اس سے کہا گیا کہ تم غلط جگہ کھڑے ہو یہ ریگل چوک نہیں ہے تو ڈرائیور نے کہا کہ میں آپ کی الٹی سیدھی باتیں سننے کے لیے نہیں ہوں اور رائڈ کینسل کررہا ہوں۔ میں نے اس کی شکایت کریم کی شکایتی سروس پر کردی اور دوسری ٹیکسی منگوائی جس کے ڈرائیور نے اپنی مرضی کا راستہ اختیا ر کیا اور جو رائڈ 300 سے 350 کی بننی تھی وہ 464 روپے کی پڑگئی، جس سے ڈرائیور کے پو ائنٹس بھی بن گئے اور کریم کو بھی فائدہ ہوگیا۔ دوسری جانب ڈرائیوروں کے حوالے سے یہ بھی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ بکنگ کرانے کے لیے ہر بار 3، 4 ڈرائیوروں کو کال کرنا پڑتی ہے تب جاکر کوئی ڈرائیور دستیاب ہوتا ہے کیونکہ وہ باآسانی مطلوبہ منزل پر پہنچنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور اکثر اوقات منزل کے قریب اپنی مرضی کا مقام بتاکر کہتے ہیں کہ اگر اس جگہ اتریں گے تو آپ کو لے جاسکتے ہیں ورنہ نہیں۔ اس عمل میں سواریوں کا کافی وقت ضائع ہوجاتا ہے۔ یونیورسٹی سے ڈولمین جانے والی خواتین مسافروں نے بتایا کہ کریم کا ڈرائیور گاڑی چلاتے ہوئے مسلسل کسی سے فون پر گفتگو میں مصروف رہا اور لوکیشن اور ہماری گفتگو کے بارے میں اسے بتاتا رہا کہ ہم کیا باتیں کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض ڈرائیور کم رفتار کا استعمال کرکے زیادہ وقت صرف کرتے ہیں تاکہ ویٹنگ اور ٹریفک آپشن میں زیادہ کرایہ بنے، یہ سروس پیک آورکے بہانے بھی اکثر اوقات 2 سے 3 گنا کرایے وصول کرتے ہیں۔ ایک اور شہری کا کہنا تھا کہ کریم ٹیکسی کی رائڈ کینسل کرنے کے باوجود مجھے کریم ایپ پر نوٹیفکیشن موصول ہوا جس میں کریم سروس استعمال کرنے پر میرا شکریہ ادا کیا گیا اور 150 روپے کرایہ ادا کرنے کا کہا گیا اور پھر ای میل کے ذریعے کرایے کا بل موصول ہوگیا۔ جو ظاہر ہے مجھ سے اگلی ٹرپ کے دوران وصول کرلیا جائے گا۔ میں نے شکایتی سروس پر اپنی شکایت بھی درج کرائی ہے لیکن کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ عمران علی کا کہنا تھا کہ میں نے گلستان جوہر سے لیاقت آباد کیلیے کریم کی ٹیکسی بک کرائی اور جب سفر پر روانہ ہوئے تو انکشاف ہوا کہ گاڑی کی ایک سیٹ ٹوٹی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمیں کافی تکلیف اٹھانا پڑی۔ یاد رہے کہ کریم سروس اور اس کے ڈرائیوروں کے خراب رویے کی خبریں میڈیا میں آتی رہی ہیں اس حوالے سے موقف جا نے کے لیے جسارت نے کریم کے منیجنگ ڈائریکٹر جنید اقبال سے ان کے نمبر 03212431621 پر متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.