آسیہ مسیح کی رہائی سے متعلق حکوت اور عدلیہ سوچنا چھوڑ دے

88

ٹنڈو آدم (پ ر) مجلس تحفظ ختم نبوت کا اجلاس، ناموس رسالت قانون میں ترمیم، ملعونہ آسیہ کی ممکنہ رہائی، دینی مدارس کیساتھ معاندانہ رویہ، جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی کی مذمت، 9 نومبر کو ہونیوالی آل سندھ ختم نبوت کانفرنس کے لیے جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت سے رابطہ، اسداللہ بھٹو ایڈووکیٹ نے شرکت کی یقین دہانی کرادی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ایک اہم اجلاس دفتر ختم نبوت میں علامہ محمد راشد مدنی کی صدارت میں ہوا جس میں مفتی محمد طاہر مکی، جنرل سیکرٹری حافظ محمد فرقان انصاری، محمد ثاقب شیخ چاندا، حاجی محمد عمر جونیجو، محمد ہاشم بروہی اور دین محمد عباسی ودیگر اراکین نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ حکومت نے ایک طرف ناموس رسالت قانون میں ترامیم، دوسری طرف ملعونہ آسیہ کی رہائی کی کوششیں کرکے اپنے لیے گہرے گڑھے کھود لیے ہیں، دینی مدارس کیساتھ عمران خان حکومت کا معاندانہ رویہ نمایاں ہے، جبکہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی کسی بھی معاملے میں برطرفی ہو، ہم اسے اس طرح سے دیکھتے ہیں کہ اسے میدان سے ہٹا کر ملعونہ آسیہ مسیح کو ملک سے باعزت طور پر بیرون ملک بھجوانے کے لیے میدان صاف کیا گیا ہے۔ مفتی طاہر مکی نے کہا کہ عمران خان ماضی کی حکومتوں کے مقابلے کوئی طاقت نہیں رکھتے، لیکن ناموس رسالت کے مسئلے پر مسلم عوام نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا جو اس کے سامنے ہے، اس لیے ناموس رسالت قانون میں ترمیم اور ملعونہ آسیہ مسیح کی رہائی سے متعلق حکوت اور عدلیہ سوچنا چھوڑ دے، ان مسائل پر دوبارہ سے نئی روح پھونک کر ختم نبوت کے تحفظ کے لیے علما تحریک چلائیں گے، جس کا حکومت سوچ بھی نہیں سکتی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ