کوٹری، قابضین کو ایس ڈی اے کے نوٹس، آپریشن کی تیاریاں شروع

52

کوٹری (نمائندہ جسارت) سہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے عدالت عظمیٰ کے حکم پر 100 ایکڑ سرکاری اراضی واگزار کرانے کے لیے قابضین کو نوٹسز جاری کردیے، تجازوات کیخلاف آپریشن کی تیاریاں شروع، ہیوی مشینری سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے کی معاونت بھی طلب کرلی گئی۔ عدالت عظمیٰ کے حکم پر سہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی 640 ایکڑ اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کرانے کے لیے آپریشن سخت عوامی ردعمل اور سیاسی دباؤ پرہنوز مکمل نہیں ہوسکا ہے۔ ٹوئن سٹی ایکشن کمیٹی جامشورو اور حیدرآباد کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں 2012ء میں انسانی حقوق کی درخواست پر عدالت عظمیٰ نے سہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو سرکاری اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کرنے کے احکامات دیے تھے جس پر متعدد بار کارروائیوں اور آپریشن کے بعد صرف ادارہ 300 ایکڑ سرکاری زمین واگزار کرانے میں کامیاب ہوسکا تھا جبکہ کارروائیوں کے دوران سخت عوامی ردعمل اور احتجاج پر کارروائیوں کو روکنا پڑا تھا۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے سرکاری اراضی کو واگزار کرنے میں ناکامی پر سخت برہمی کا اظہار بھی کیا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ کے جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس فیصل عارب اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل بینج نے یکم ستمبر کو اپنے حکم نامے میں ڈی جی رینجرز سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سرکاری زمین واگزار کرنے میں ایس ڈی اے کو مکمل معاونت کرنے اور سیکورٹی فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے جبکہ ڈی جی ایس ڈی اے بدر جمیل کو 6 ہفتوں میں زمین واگزار کراکر رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی دی تھی۔ عدالت عظمیٰ کے حکم پر سہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر انکروچمنٹ سیل شبیر احمد سومرو نے بتایا کہ اتھارٹی کی 100 ایکڑ سرکاری اراضی پر قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے تقریباً 300 گھروں کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں جنہیں فوری مکانات خالی کرنے اور تجاوزات خود ختم کرنے کا کہا گیا ہے۔ قابضین کی جانب سے سرکاری اراضی واگزار کرانے کے لیے رینجرز سمیت ہیوی مشینری کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیر کے روز آپریشن کا آغاز کیا جائے گا، قابضین کو سیاسی اور مقامی انتظامیہ کی معاونت حاصل ہے، جس کی وجہ سے انکروچمنٹ سیل کا عملہ متعدد بار کارروائیوں کے بعد بھی قابضین سے اراضی واگزار نہیں کراسکا ہے۔ دوسری جانب متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ عرصہ دراز سے یہاں سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں اور انہوں نے جگہ خرید کر حاصل کی ہے۔ اگرکوئی کارروائی کرنی ہے کہ سرکاری اراضی فروخت کرنے والوں کیخلاف کی جائے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ سے اپیل کی کہ انہیں انصاف فراہم کرتے ہوئے آپریشن کو روکا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ