چوہڑ جمالی، لاکھوں روپے کی ادویات کچرے میں پھینک دی گئیں

39

چوہڑ جمالی (نمائندہ جسارت) محکمہ صحت کی نااہلی انتہا کو پہنچ گئی۔ دیہی صحت مرکز کی لاکھوں روپے کی ادویات غریب مریضوں کو دینے کے بجائے کچرے میں پھینک دی گئیں۔ پھینکی گئی ادویات میں ملیریا، ڈائریا، بخار سمیت پیٹ کی تکالیف، او آر ایس، زنک سیرپ، اینٹی بائیوٹک سیرپ، ٹیبلیٹ جن پر 2019ء اور 2021ء کی ایکسپائری ڈیٹ لکی ہوئی تھی، سب پھینک دی گئی ہیں۔ این جی او مرف نے اپنے دو سال کے دورانیے میں غریب مریضوں کو کوئی ریلیف نہیں دیا۔ سندھ کی ساحلی تحصیل شاہ بندر کے مرکزی دیہی صحت مرکز چوہڑ جمالی جو مقامی مریضوں کے لیے پہلے سے ہی ریفر سینٹر بنا ہوا ہے، جہاں آئے مریض کو سجاول یا ٹھٹھہ ریفر کیا جاتا ہے۔ مریضوں کو کوئی ادویات نہیں دی جاتی، بعض اوقات وہ ہی ادویات شہر کے مختلف نجی میڈیکل اسٹوروں پر فروخت کردی جاتی ہیں۔ گزشتہ روز دیہی صحت مرکز چوہڑ جمالی کے اسٹاف نے مریضوں کے لیے آنے والی ادویات یہ کہہ کر کچرے میں پھینک دیں کہ ادویات کی مدت میعاد ختم ہوگئی ہے، جب صحافیوں کی ٹیم پہنچی اور جائزہ لیا تو پھینکی جانے والی ادویات پر 2019ء سے 2021ء کی تاریخ درج تھی۔ سیاسی، سماجی شخصیات اور عوامی حلقوں نے اسپتال عملے کے اس رویے پر سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرف این جی او نے مقامی لوگوں کو صحت کے حوالے سے کوئی ریلیف نہیں دیا جبکہ مریضوں کے نام پر آنے والی ادویات کو فروخت کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ دیہی صحت مرکز چوہڑ جمالی کے اسٹاف کیخلاف کارروائی کی جائے اور اسپتال کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ