وزیر خارجہ کا خطاب امریکی ایجنڈے کا حصہ تھا

168

 

 

وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی نے گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے 73 ویں جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جو کچھ کہا اُس کی رپورٹنگ 30 ستمبر 2018ء کے اخبارات میں موجود ہے۔ بلاشبہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا خطاب ایک حد تک مناسب خیال کیا جاسکتا ہے تاہم جو لوگ عالمی سیاست کے کھیل کو سمجھتے ہیں، تقریر کے متن اور خارجہ پالیسی کے راز و نیاز سے واقف ہوتے ہیں، جو موقع محل سے قومی مفاد حاصل کرنے کی مہارت سے آگاہ ہوتے ہیں، جنہیں عالمی فورموں پر مقدمہ پیش کرنے کا علم ہوتا ہے، جو عالمی سامراجی قوتوں کے درمیان کھڑے ہو کر غلطیوں کی نشاندہی اور ناانصافیوں کا انکشاف کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ اِن کے نزدیک ایسے کسی خطاب کی کوئی اہمیت نہیں جس میں عالمی برادری کے سامنے پاکستان کے نقطہ نظر سے درپیش چیلنجوں اور خطے سمیت عالمی امن کو لاحق خطرات پر کوئی واضح موقف یا لائحہ عمل نہ بتایا جاسکا ہو۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خطاب کو اس حوالے سے بھی ضرور دیکھنا چاہیے کہ جنرل اسمبلی کے مذکورہ اجلاس میں جہاں 193 ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود موجود تھے، عالمی لیڈر خطاب کررہے تھے اور بین الاقوامی میڈیا بھرپور کوریج دے رہا تھا ایسے ماحول اور موقع پر وزیر خارجہ کا خطاب اس قدر موثر اور بامقصد ہونا چاہیے تھا جس سے پاکستان کے دوستوں کو مزید خوشی اور اطمینان ہوتا، جب کہ پاکستان کے مخالفین کو شرمندگی ہوتی اور وہ اپنی پالیسیوں پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور ہوتے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاک بھارت کشیدگی اور مسئلہ کشمیر پر جتنی اچھی گفتگو کی، جو بھرپور دلائل دیے، جتنے اعداد و شمار پیش کیے، جس قدر افسوس اور مذمت کی، یا یہ کہ بھارتی جارحیت کی صورت میں منہ توڑ جواب دینے کی جو باتیں کیں اُن تمام کی اہمیت اور وزن اُس وقت ختم ہوگیا جب بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار رہنے کی بات کی گئی، حالاں کہ وزیر خارجہ صاحب کو مختصر اور صاف الفاظ میں کہنا چاہیے تھا کہ اگر اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہوا تو جنوبی ایشیا میں امن کی ضمانت نہیں دی جاسکتی اور مزید یہ کہ ’’مسئلہ کشمیر‘‘ پر 70 برس میں 100 سے بھی زاید مرتبہ اعلیٰ سطح کے مذاکرات کو بھارت اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے بے نتیجہ بنا چکا ہے، لہٰذا اب بھارت کے ساتھ براہ راست اور غیر مشروط مذاکرات نہیں ہوں گے بلکہ اقوام متحدہ کے نمائندے کی موجودگی میں ’’مسئلہ کشمیر‘‘ کے ون پوائنٹ ایجنڈے ہی پر مشروط مذاکرات ممکن ہوسکتے ہیں۔
’’افغان بحران‘‘ پر بھی ادھوری اور نامکمل بات کی گئی، افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں، سوال یہ ہے کہ جب افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور 17 سال سے جاری افغان جنگ مسلسل ناکامی سے دوچار ہے تو اُس کے بعد عالمی برادری کو یہ سچ کیوں نہیں بتایا گیا کہ خطے کے امن و استحکام کے لیے تمام غیر ملکی فوجوں کا افغانستان سے انخلا انتہائی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی وزیر خارجہ صاحب کو وزیراعظم عمران خان کے اس موقف کو بھی دہرانا چاہیے تھا کہ اب ہم دوسروں کی جنگ نہیں لڑیں گے۔ 2 لاکھ فوج کی مدد سے دنیا کا سب سے بڑا آپریشن کرنے کا ذکر تو کیا گیا مگر ایسی نوبت کیوں آئی اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔ وزیر خارجہ صاحب نے افغانستان کے ساتھ مل کر ایکشن پلان پر عمل درآمد کا بھی ذکر کیا اور ساتھ ہی افغانستان میں ’’داعش‘‘ کی موجودگی کی بات بھی کی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے مسلسل تعاون اور قربانیوں کے باوجود جب افغان کٹھ پتلی حکومت کا رویہ بھی بھارت سے کم نقصان دہ نہیں تو جس طرح سے بھارت پر تنقید کی جاتی ہے اُسی طرح سے افغان حکومت پر تنقید کیوں نہیں کی گئی، اگر بھارت پاکستان کے اندر دہشت گردی کرانے میں ملوث ہے تو کیا افغان حکومت پاکستان کے اندر علیحدگی پسندوں اور دہشت گردوں کی مدد و مالی معاونت نہیں کررہی، بھارت کے بارڈر پر زیادہ تر سویلین لوگ شہید ہورہے ہیں جب کہ افغانستان کے بارڈر پر پاکستان کے فوجی جوانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، پاکستان کے داخلی امن کو خودکش بمباروں اور ڈرون حملوں سے جو نقصان پہنچا ہے کیا اُس میں افغانستان کی سرزمین استعمال نہیں ہوئی اور مزید یہ کہ پاکستان سے فراری، امن دشمن اور علیحدگی پسند اس وقت کس کی
میزبانی میں انگور اور اخروٹ کھارہے ہیں، افغانستان کی خفیہ تنظیم ’’این ڈی ایس‘‘ کی میزبانی میں ’’را، موساد، ایم آئی 6 اور سی آئی اے‘‘ نے دہشت گردی کا جو نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے اُس کا ذِکر کیوں نہیں کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ داعش افغانستان میں پاؤں جما رہی ہے یا پاؤں نکال رہی ہے اس سے پاکستان کے وزیر خارجہ کا کیا تعلق؟ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب افغانستان اور بھارت کی امریکا سفارتی اور فوجی محاذوں پر بھرپور معاونت اور حوصلہ افزائی کررہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اور مقبوضہ افغانستان میں امریکی فوجیں موجود ہیں جس کے نتیجے میں خطے کے امن اور آبادی کی سلامتی کو انتہائی بھیانک صورت حال کا سامنا ہے اور مزید یہ کہ جس طرح واشنگٹن، کابل اور نیو دہلی پاکستان کو دباؤ میں رکھنے کے لیے گٹھ جوڑ کرچکے ہیں اِس کا حقیقت پسندانہ تجزیہ جنرل اسمبلی کے سامنے پیش کیوں نہیں کیا گیا؟؟۔
مشرقی وسطیٰ کے امن کے لیے جہاں مسئلہ فلسطین کے حل کا ذکر ہوا وہیں پر مقبوضہ بیت المقدس کو آزاد کرنے کا بھی علیحدہ سے ذکر ہونا چاہیے تھا، امریکا سمیت تمام دنیا کو یہ بات کیوں یاد نہیں دلائی گئی کہ مقبوضہ بیت المقدس آزاد فلسطین کا دارالحکومت ہے لہٰذا امریکا سمیت کوئی بھی ملک مقبوضہ بیت المقدس میں سفارت خانہ نہ کھولے، بصورت دیگر یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لی جانی چاہیے کہ مشرقی وسطیٰ کے امن کی کنجی مسجد اقصیٰ کے امام کے پاس ہے۔ شام، یمن، لیبیا اور عراق کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے یہ کہنا چاہیے تھا کہ افغانستان کی طرح اِن ممالک کا بھی کوئی فوجی حل نہیں،
بہتر ہوگا کہ دُنیا کی امن پسند قوتیں اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر خانہ جنگی اور بیرونی جارحیت کے شکار عوام کو ظلم و درندگی سے نجات دلائیں اور اقوام متحدہ بھی اپنی ذمے داریوں کا احساس کرے۔ دُنیا کے بڑے اور طاقتور ممالک میں سے بعض ’’عالمی امن‘‘ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ کمزور اور محکوم عوام کو سہارا دینا اقوام متحدہ کی بنیادی ذمے داری ہے، طاقتور فوجوں کا نہتی آبادیوں پر حملوں کی وجہ سے ہجرت اور قتل کا جو انسانی بحران پیدا ہوچکا ہے وہ بہت تشویشناک ہے، عالمی عدالت اور عالمی قوانین کو زیادہ سے زیادہ فعال بنانے کی ضرورت ہے، بے لاگ انصاف کو یقینی بنانے کے لیے گوانتاناموبے جیسے قیدخانوں اور خفیہ جیلوں کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے، جو ریاستیں اپنے شہریوں کو لاپتا کرنے میں ملوث ہیں ان کے حق حکمرانی کو ناپسندیدہ قرار دیا جائے، عالمی تنازعات کو حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ ویٹو پاور کے حامل ممالک کے کسی دباؤ میں نہ آئے اور نہ ہی کسی بھی طرح کی جانبداری سے کام لیا جائے۔ عالمی تجارت کے لیے راستے اور مواقعے کھلے رہنے چاہئیں، وسائل پر قبضہ کرنے کے رجحان کا خاتمہ ہونا چاہیے، مذہبی تعصب کی بنیاد پر جن اقلیتوں کو تشدد اور تکلیف کا سامنا ہے اُس پر اقوام متحدہ کو سختی سے نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کرنی چاہیے، عالمی بھائی چارے، امن اور ہم آہنگی کے لیے نبی پاکؐ کے خطبہ حجتہ الوداع کا حوالہ دیا جانا چاہیے تھا، امریکا کے اُس عالمی کردار پر بھی مختصر الفاظ میں ضرور روشنی ڈالی جانی چاہیے تھی جس کی وجہ سے مشرقی وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک کا امن متاثر ہورہا ہے، سی پیک کے مخالفین کے ارادوں پر بھی ضرور تبصرہ ہونا چاہیے تھا۔
بہرحال ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کیا جانے والا مذکورہ خطاب جارح اور قابض قوتوں کو شرمندہ کرنے میں ناکام رہا، مشرقی وسطیٰ سمیت جنوبی ایشیا کے امن کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل یا واضح تجاویز پیش نہ کی جاسکیں، امریکا نے مقبوضہ کشمیر، مقبوضہ افغانستان اور مقبوضہ بیت المقدس میں جو خنجر جہاں لگایا تھا اُس کو وہیں رہنے دیا گیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مذکورہ خطاب امریکی ایجنڈے ہی کا ایک حصہ تھا جس میں بھارت کے خلاف ایک حد تک تنقید کرنے کی اجازت تو تھی مگر مجموعی پالیسی وہی رکھی گئی جس کا ڈرافٹ ہمیشہ امریکی سفارت خانے نے تیار کیا اور پاکستان کی وزارت خارجہ امریکا کی گائیڈ لائن ہی کو اپنے لیے ’’ریڈ لائن‘‘ سمجھتی رہی کہ خبردار اس سے آگے یا پیچھے نہیں جانا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں خطاب کے دوران جو موقع ضائع کیا اُس پر سوائے افسوس کے اور کچھ نہیں کیا جاسکتا۔

Print Friendly, PDF & Email