جمہوریت کا بنگلادیشی ماڈل

163

 

حصہ دومو آخر

 

حکمرانی کے کئی طرز ہیں۔ بادشاہت، کمیونزم، سوشلزم اور جمہوریت معروف ہیں۔ ان میں سے ہر طرز کے کئی ماڈل ہیں۔ سعودی عرب میں بادشاہت کے کچھ معنی ہیں تو اردن میں کچھ۔ جاپان، مناکو اور برطانیہ میں بادشاہت سعودی عرب کی بادشاہت سے بالکل مختلف ہے۔ روسی کمیونزم کا ماڈل چینی کمیونزم سے یکسر مختلف ہے۔ اسپین کی سوشلسٹ حکومت میں اور سوئیڈن کی سوشلسٹ حکومت میں واضح فرق ہے۔ اسی طرح جمہوریت کے بھی دنیا میں کئی ماڈل ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی جمہوریت اور ترقی پزیر ممالک کی جمہوریت میں قطبین کا فرق ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ہی میں امریکا اور فرانس کی جمہوریت میں فرق ہے۔ ترقی پزیر ممالک میں بھارتی جمہوریت اور ایرانی جمہوریت میں فرق دیکھا جاسکتا ہے۔ ترقی پزیر ممالک میں جمہوریت کے کئی ماڈل موجود ہیں۔ ان میں ایک ماڈل پاکستان کا ہے۔ اس ماڈل میں فوج جو معروف طریقے میں ریاست کے چاروں ستونوں میں شامل نہیں ہے، مگر کار سرکار میں شامل رہتی ہے۔ اس کی دیگر ستونوں سے کشمکش چلتی رہتی ہے۔ کبھی فوج غالب آجاتی ہے اور کبھی پس پردہ چلی جاتی ہے۔ ایک ماڈل ایران کا ہے جہاں پر ایک سپریم کونسل موجود ہے جو کھیل کے قوانین خود بناتی ہے اور اکثر ناپسندیدہ کھلاڑیوں کو میدان سے سرخ کارڈ دکھا کر باہر کردیتی ہے۔ ایک ماڈل بھارت کا ہے۔ یہاں پر فوج یا سپریم کونسل تو موجود نہیں ہے تاہم سیاسی خاندانوں کا ایک کلب ہے جس نے جمہوریت کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ یہ کلب کبھی تعصب کو ہوا دیتا ہے تو کبھی مذہبی جذبات کو۔ ایک ماڈل برما کا ہے جہاں پر فوج آئینی طور پر براہ راست حکومت میں شامل ہے۔ ایک ماڈل بنگلا دیش کا ہے جہاں پر اب فوج تو براہ راست برسر اقتدار نہیں ہے مگر سیاسی بساط پر وہ قابض ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر سیاسی بساط پر کوئی مہرہ حرکت کرنا تو درکنار بساط ہی پر نہیں رہ سکتا۔ بنگلا دیشی ماڈل کی سب سے خطرناک بات یہ ہے مقتدر قوت اپنے فیصلے کے نفاذ کے لیے عدلیہ کو استعمال کرتی ہے۔
ایک پرانا لطیفہ ہے مگر برمحل ہے اس لیے پیش خدمت ہے۔ کسی کمپنی میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے لیے انٹرویو ہو رہے تھے۔ کئی ممالک کے شہری اس انٹرویو کے لیے موجود تھے۔ انٹرویو لینے والا سب سے ایک ہی سوال دو جمع دو کا جواب پوچھتا۔ سب نے اس کے جواب میں چار کہا اور نااہل ہوکر باہر ہوگئے۔ جب پاکستانی کی باری آئی تو اس سے بھی یہی سوال کیا گیا۔ اس نے کہا، کیا جواب لکھوں سر؟ اور وہ بھرتی کرلیا گیا۔ کچھ یہی حال بنگلا دیش کی عدلیہ کا ہے۔ جب کوئی مقدمہ آتا ہے تو عدلیہ مقتدر قوت فوج کی طرف دیکھتی ہے اور پوچھتی ہے کہ کیا فیصلہ لکھوں سر؟ جو حکم ملتا ہے، وہی فیصلہ دے دیا جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی ماڈل مصر میں موجود ہے تاہم یہ ماڈل بنگلادیش سے ذرا سا مختلف ان معنوں میں ہے کہ مصر میں فوج براہ راست اقتدار پر قابض ہے۔
بنگلادیش کی جمہوریت کا ماڈل کچھ نیا بھی نہیں ہے۔ برسوں یہی ماڈل ترکی میں بھی رہا ہے جہاں پر فوج اور عدلیہ ایک پیج پر تھے اور ہر ناپسندیدہ اور معتوب عنصر کو سزا دینے کے لیے عدالت ہی کا استعمال کیا جاتا۔ جب کوئی اس کے خلاف آواز بلند کرتا تو کہا جاتا کہ ہر ایک قانون کے کٹہرے میں آئے گا۔ بنگلادیش اور مصر کے عدالتی نظام کے لیے وہ محاورہ بالکل درست ہے کہ قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں کمزور پھنس جاتا ہے اور طاقتور توڑ کر باہر آجاتا ہے۔ ان ممالک میں اور جہاں جہاں پر جمہوریت کا یہ ماڈل نافذ ہے وہاں پر عدلیہ پس پردہ قوت فوج یا اس کے ایجنٹوں کے ہاتھ میں ایک ربر اسٹیمپ ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں بھی بنگلادیشی جمہوری ماڈل آچکا ہے۔ گزشتہ دو عشروں کے عدالتی فیصلوں پر خصوصاً پرویز مشرف کے برسر اقتدار آنے کے بعد عدالتی فیصلوں پر ایک نگاہ ڈالیں۔ ججوں کے ریمارکس اور ان کے فیصلے بہ نظر غائر دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ پاکستان خاموشی اور انتہائی سرعت سے بنگلادیشی جمہوری ماڈل اختیار کرچکا ہے۔ یہ کچھ دن پہلے ہی کی بات ہے کہ ایک سرکاری ادارے کے اعلیٰ افسر بتارہے تھے کہ ان کی ہیومین ریسورس کی خاتون سربراہ نے وفاقی سیکرٹری سے شکایت کی کہ یونین اور ایسوسی ایشن والے انہیں بہت تنگ کررہے ہیں تو وفاقی سیکرٹری نے جواب دیا کہ بتائیں کہ کون لوگ ہیں، انہیں عدالت کے ذریعے درست کروا دیتے ہیں۔ اس ایک واقعے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کس نہج پر پہنچ چکا ہے۔
اسی نہج پر کچھ عرصہ قبل تک ترکی بھی تھا تاہم وہاں کی سیاسی جماعتوں اور عوام نے آزاد ہونے کا تہیہ کرلیا اور آج وہاں فوج بھی آئینی فریم ورک میں ہے اور عدلیہ بھی۔ مقننہ اپنا کام کررہی ہے اور انتظامیہ اپنا۔ عدلیہ آزاد ہے اور ذرائع ابلاغ ذمے دار۔ اس کا ثمر سب کے سامنے ہے۔ ترکی کا ماڈل پاکستان میں سب کے لیے ہی انتہائی پرکشش ہے مگر اس کا حصول کم از کم اس وقت تو پاکستان میں ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ سیاسی جماعتوں کا کردار ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ تمام ہی سیاسی پارٹیاں پس پردہ قوتوں کی خوشنودی چاہتی ہیں۔ حتیٰ کہ وہ پارٹیاں بھی جو ترکی کو رول ماڈل قرار دیتی ہیں۔ ایسے میں اگر اہل پاکستان مایوسی کا شکار ہیں تو کچھ غلط بھی نہیں۔
بنگلا دیش کے جمہوری ماڈل کو اختیار کرنے والوں کو بنگلادیش کی صورت حال سے سبق حاصل کرلینا چاہیے اور سمجھ لینا چاہیے کہ ترکی نے اسی وقت ترقی کی راہ پر قدم بڑھائے جب اس نے بنگلادیشی طرز حکومت کو خیر باد کہا۔ اگر باعزت طریقے سے جینا ہے، معاشی و تعلیمی میدان میں ترقی کرنا ہے تو ترکی کے رول ماڈل کی طرف قدم بڑھائیے جہاں پر ہر ادارہ اپنے آئینی فریم ورک میں کام کررہا ہے۔ مقننہ سے لے کر ذرائع ابلاغ تک۔ ورنہ تو آئی ایم ایف کی شرائط بھی مانتے رہیے اور ٹرمپ کی بھبھکیاں بھی دم دبا کر سنتے رہیے۔ ایک عافیہ کیا اور ایک شکیل آفریدی کیا، روز ایسا ایک کیس سامنے آئے گا۔ سچ ہے کہ پستی کی کوئی نہ کوئی حد ہوتی ہے مگر بے غیرتی کی کوئی حد نہیں ہوتی۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے۔ ہشیار باش۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ