ایک بار پھر آئی ایم ایف کو دستک

95

 

ڈاکٹر رضوان الحسن انصاری

پاکستان کی گرتی ہوئی، ڈگمگاتی ہوئی اور لڑکھڑاتی ہوئی معیشت کے میدان میں جس موضوع پر بحث چل رہی ہے وہ ہے پاکستانی حکومت کا قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع۔ اسٹاک مارکیٹ کے کھلاڑی، صنعت کار، درآمد برآمد کنندگان، ٹریڈرز، معاشی تجزیہ کار، حکومتی نمائندے اور اپوزیشن سب ہی اس موضوع پر طبع آزمائی کررہے ہیں۔ اصل میں یہ معاملہ ایسا ہی ہے۔ آئی ایم ایف نے جب بھی کسی ملک کو قرض دیا ہے اس کی سخت شرائط کے باعث معیشت کے تمام ہی شعبے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے۔ اس کے نتیجے میں ملک میں ایک بے یقینی، افراتفری اور عدم استحکام پھیل جاتا ہے۔ جس کا اگلا مرحلہ احتجاج، ہڑتال اور ہنگامہ آرائی کی شکل میں نکلتا ہے۔ وجہ صاف ہے جب آپ ایک طرف لوگوں کو بے روزگار کریں گے اور دوسری طرف مہنگائی بڑھائیں گے تو یہ اس کا فطری نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے نمایاں معاشی ماہرین آئی ایم ایف کی شرائط کو معقول اور مناسب نہیں سمجھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ معیشت کا ڈھانچہ اور ساخت کیسی بھی ہو آئی ایم ایف سب کو ایک ہی نسخہ پکڑا دیتا ہے اور اس سے معاشی ترقی کی رہی سہی شرح بھی کم ہوجاتی ہے۔
مثلاً ایک طرف تو شرح سود کو بڑھانے کا مطالبہ کیا جائے گا، ساتھ ہی زرمبادلہ کی شرح کم ہوگی جو پاکستان میں 8 اکتوبر کو 9.50 روپے کم ہو کر اب ایک ڈالر 134 روپے تک پہنچ گیا ہے اس سے درآمدات مہنگی ہوجائیں گی، پاکستان میں تیل کی زیادہ تر ضروریات درآمدی تیل سے پوری ہوتی ہیں۔ چناں چہ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہوجائے گا، ٹرانسپورٹیشن مہنگی ہونے سے اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ دوسری طرف بجلی کی پیداوار میں فرنس آئل استعمال ہوتا ہے چناں چہ بجلی مہنگی ہوگی اور اس طرح پیداواری لاگت میں اضافہ ہونے سے اشیا مہنگی ہوجائیں گی۔ تیسری طرف روپے کی قدر 7 فی صد گرنے سے بیرونی قرضوں کی اصل مالیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ چناں چہ ایک ہی دن میں پاکستانی کرنسی میں بیرونی قرضوں میں 900 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ اثرات صرف روپے کی قدر کم کرنے سے ہوئے ہیں، اس کے بعد شرح سود میں اضافے کا معاملہ ہے، حکومت پہلے ہی مانیٹری پالیسی کے ذریعے شرح سود 8.5 فی صد کرچکی ہے اس میں مزید اضافے کا مطالبہ ہے۔ کاروباری اور تجارتی دنیا کے لیے شرح سود میں اضافے کا مطلب قرضوں کی مہنگائی ہے جس کی وجہ سے قرضوں کی طلب میں کمی ہوجائے گی اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہوجائے گا۔ اب کہا یہ جارہا ہے کہ تجارتی خسارہ بہت بڑھ گیا ہے، برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے سے سال 2017-18 میں تجارتی خسارہ 35 ارب ڈالر کے قریب پہنچ گیا۔ اس خسارے میں کمی اس طرح ہوسکتی ہے کہ درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ کیا جائے، درآمدات میں کمی کے لیے حکومت کے مختلف اشیا پر ضمنی فنانس بل کے ذریعے ریگولیٹری ڈیوٹی عاید کردی ہے اس سے یقیناًدرآمدات میں کمی ہوگی مگر معیشت کی بحالی کا اصل ہدف برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے جب آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا تو بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات کس طرح مقابلہ کریں گی تو آئی ایم ایف کی شرائط کے تناظر میں اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کرسکے گا اور اگر نہیں ہوا تو تجارتی خسارہ کس طرح پور اہوگا۔
معاشی تجزیہ کاروں اور کاروباری حضرات کا بڑا حصہ اس رائے کا حامی ہے کہ پاکستان کے موجودہ معاشی بحرانی حالات ہیں، جب کہ پاکستان کو چین، سعودی عرب اور یو اے ای سے متوقع امداد نہ مل سکی تو آئی ایم ایف کے علاوہ اور کوئی متبادل نہیں تھا۔ پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر صرف ایک یا ڈیڑھ ماہ کی درآمدات کی ادائیگی کے لیے رہ گئے ہیں، جب کہ مالی سال 2018-19 میں بیرونی قرضوں اور سود کی مد میں ادائیگی کے لیے بھی 10 سے 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہے تو ایسے میں زرمبادلہ کی فراہمی کے لیے آئی ایم ایف کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے، لیکن ایک دوسری رائے یہ بھی ہے کہ ایف بی آر کے پاس ٹیکس بچانے والوں کا ایک ڈیٹا موجود ہے اور اس کے ذریعے ان ٹیکس چوروں سے 15 ہزار ارب روپے حاصل کیے جاسکتے ہیں اور اس طرح آئی ایم ایف کے پاس جائے بغیر معاشی مسائل حل کیے جاسکتے ہیں، مگر یہ معاملہ ایک راز ہے کہ حکومت نے اس راستے کو کیوں نہیں اپنایا۔ اسی طرح ٹیکس کے دائرے میں اضافہ کرنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ عوام کے سامنے نہیں آیا۔اس سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی معیشت اسی طرح آئی سی یو میں رہے گی اور آئی ایم ایف کی طرف سے اسے آکسیجن ملتی رہے گی لیکن اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکے گی کہ نہیں۔ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ