کڑی شرائط پر بھیک

183

پاکستان کے وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ اگر آئی ایم ایف کی شرائط کڑی ہوں تو ہم قرض نہیں لیں گے۔ آئی ایم ایف کی اب تک جو شرائط سامنے آئی ہیں کیا وہ بہت نرم ہیں کہ اب بھی اگر مگر کیا جائے۔ اس کی کچھ شرائط پر تو پہلے ہی عمل ہو چکا ہے، اب اس کا مطالبہ ہے کہ قومی اداروں کی نجکاری کی جائے یعنی انہیں بیچ دیا جائے، سبسڈی ختم کردی جائے، ٹیکس کا دائرہ بڑھایا اور براہ راست اضافہ کیا جائے، ڈیوٹی فری اشیا پر بھی ٹیکس لگایا جائے۔ شرح سود میں مزید اضافے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور قرض کی پہلی قسط چھ ماہ میں ادا کرنے کی شرط بھی عاید کردی گئی ہے۔ ابھی تک زور سے سانس لینے پر بھتا وصولی کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ اس پر بھی یہ کہنا کہ شرائط سخت ہوئیں تو آئی ایم ایف سے قرض نہیں لیں گے۔ پھر یہ بھی کہا جارہا ہے کہ آئی ایم ایف سے بھیک مانگنا مجبوری ہے ورنہ ملک نہیں چلے گا، یہ کڑوا گھونٹ ہے جسے پینا ہی پڑے گا۔ لیکن یہ کڑوا گھونٹ کس کے حلق میں انڈیلا جائے گا؟ ایک خبر کے مطابق ناقص معاشی پالیسیوں پر عمران خان اسد عمر پر برہم بھی ہوئے ہیں۔ لیکن معاشی پالیسیاں ابھی سامنے کہاں آئی ہیں اور جو آئی ہیں ان کے بارے میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کہتے ہیں کہ ملکی معیشت بیٹھ گئی، پاکستان تحریک انصاف تبدیلی نہیں مہنگائی لائی ہے۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ اسلام تو قبول ہے لیکن اسلامی حکومت، معیشت و معاشرت قبول نہیں، آئی ایم ایف کے بجائے اللہ کے در پر جھکتے تو شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ وفاقی وزیر اطلاعات اپنا ہی راگ الاپ رہے ہیں کہ معیشت سابق حکمرانوں نے تباہ کی، انہوں نے جو قرضے چڑھائے اس کا حساب لیا جائے گا۔ حساب ضرور لیا جائے لیکن یہ بھی بتایا جائے کہ موجودہ حکومت جو قرضے چڑھا رہی ہے اس کا حساب کون لے گا اور کب دیاجائے گا۔ پھر آنے والی حکومت بھی یہ کہے گی کہ سابق حکومت بھاری بوجھ چھوڑ کر گئی ہے۔ عجیب بات ہے کہ جب متوقع حکمرانوں کو معلوم ہوتا ہے کہ خزانہ خالی ہے، معیشت تباہ حال ہے اور بھاری چڑھے ہوئے ہیں تو پھراقتدار میں ایسی کیا کشش ہے کہ جان لڑا دی جاتی ہے۔ اس کے لیے یہ دعوے کیے جاتے ہیں کہ ہم اقتدار میں آ کر سب کچھ درست کریں گے اور دودھ، شہد کی نہریں بہادیں گے، آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے۔ لیکن ایسے آثار دوردور تک نظر نہیں آتے اور کہا جاتا ہے کہ ہمارے پاس کوئی جادو کا ڈنڈا تو نہیں۔ صحیح ہے کہ ایسا نہیں ہے اور ایسے ڈنڈے کے لیے کم ازکم 100 دن انتظار کرنا چاہیے مگر مشہور محاورہ ہے کہ پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آجاتے ہیں۔ سمت کا واضح تعین نہ سہی، یہ انداز ہ تو ہو رہا ہے کہ آنے والا وقت عوام کے لیے بہت کٹھن ہوگا۔ عوام ملک کی خاطر اپنے پیٹ پر پتھر باندھ بھی لیں بشرطیکہ ان کو یقین ہو کہ حکمرانوں کے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے ہیں، دو نہ سہی ایک ہی سہی۔ عمران خان کا انتخاب گورنر سندھ عمران اسماعیل فرما رہے ہی کہ ’’ ہمارے پاس بہترین معیشت دانوں پر مشتمل بہترین ٹیم ہے جو جلد ہی ملک کو بحران سے نکال لے گی، 100دن میں نیا پاکستان نہیں بن سکتا لیکن عوام واضح تبدیلی ضرور دیکھیں گے‘‘۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو ۔ عمران اسماعیل نے مزید فرمایا کہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا تاہم غریب طبقے پر کم سے کم اثرپڑا ہے۔ پچھلی حکومتوں کی ناقص پالیسیوں اور کرپشن کے باعث مالی بحران کا سامنا ہے، عوام کو کچھ دن سخت گزارنا ہوں گے۔ وہ غریب طبقہ جانے کہاں بستا ہے جو کسی طرح متاثر ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے علاوہ امریکا بھی اپنی ٹانگ اڑا رہا ہے اور اس نے پاکستان کی معاشی مشکلات کا سبب چین سے لیے ہوئے قرضوں کو ٹھیرایا ہے کہ پاکستان کے لیے چینی قرضوں سے نکلنا مشکل ہوگیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو جودرخواست دی ہے اس کا باریک بینی سے اور میرٹ پر جائزہ لیں گے۔ پاکستان نے اس کی تردید تو کی ہے لیکن امریکا نے ٹانگ اڑا دی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ