قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

202

 

اس سے پہلے بھی اِن لوگوں نے فتنہ انگیزی کی کوششیں کی ہیں اور تمہیں ناکام کرنے کے لیے یہ ہر طرح کی تدبیروں کا الٹ پھیر کر چکے ہیں یہاں تک کہ ان کی مرضی کے خلاف حق آ گیا اور اللہ کا کام ہو کر رہا ۔ ان میں سے کوئی ہے جو کہتا ہے کہ ’’مجھے رخصت دے دیجیے اور مجھ کو فتنے میں نہ ڈالیے‘‘ سن رکھو! فتنے ہی میں تو یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں اور جہنم نے ان کافروں کو گھیر رکھا ہے ۔ تمہارا بھلا ہوتا ہے تو انہیں رنج ہوتا ہے اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ منہ پھیر کر خوش خوش پلٹتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ اچھا ہوا ہم نے پہلے ہی اپنا معاملہ ٹھیک کر لیا تھا ۔ ان سے کہو ’’ہمیں ہرگز کوئی (برائی یا بھلائی) نہیں پہنچتی مگر وہ جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے اللہ ہی ہمارا مولیٰ ہے، اور اہل ایمان کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے‘‘۔ (سورۃ التوبہ: 48تا51)

ابوموسی اشعریؓ کہتے ہیں کہ نبی کریمؐ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ (اللہم اغفرلی خطیتئتی وجہلی واسرافی فی امری وما انت اعلم بہ منی اللہم اغفرلی جدی وہزلی وخطائی وعمدی وکل ذلک عندی اللہم اغفرلی وماقدمت ومااخرت وما اسررت ومااعلنت وماانت اعلم بہ منی انت المقدم وانت المؤخر وانت علی کل شیء قدیر)۔ اے اللہ! معاف فرما میری خطا، میری نادانی، کاموں میں میری زیادتی اور اس گناہ سے جس کا علم مجھ سے زیادہ تجھ کو ہے۔ اے اللہ! معاف فرما میرے اس گناہ کو جو میں نے قصداً کیا ، اس کام کو جسے میں نے ہنسی دل لگی میں کیا اور اس کام کو جو میں نے دانستہ یا نادانستہ کیا ہو۔ اے اللہ بخشش فرما میرے ان گناہوں کو جو میں نے پہلے کیے، ان کو جو بعد میں ہوں گے۔ ان کو جو پوشیدہ سرزد ہوئے ہوں ان کو جو کھلم کھلا کیے ہوں اور ان گناہوں کو جن کا علم مجھ سے زیادہ تجھ کو ہے۔ تو جس کو چاہے اپنی رحمت سے پیچھے ڈالنے والا ہے اور تو ہی ہر چیز پر قادر ہے۔ (بخاری ومسلم)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ