اسرائیل نے غزہ کو قطری ایندھن کی سپلائی بند کردی

41

غزہ (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین نے غزہ کو قطر کی جانب سے فراہم کردہ ایندھن بند کرنے کا حکم دے دیا۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر دفاع نے فوج کو حکم دیا کہ وہ تاحکم ثانی غزہ کو ایندھن کی فراہمی بند کر دے۔ غزہ کا علاقہ 10برس سے اسرائیلی ناکا بندی کا شکار ہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کی کوششوں سے قطر کی مالی معاونت سے غزہ کو ایندھن فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، لیکن فلسطینی اتھارٹی نے اس پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔دوسری جانب استنبول میں عالمی القدس کانفرنس کا اجلاس منعقد ہوا،جس میں 900 عالمی شخصیات نے شرکت کی اور قضیہ فلسطین پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔حماس کے سیاسی شعبے کے سابق صدر خالد مشعل نے عرب ممالک پر زور دیا کہ وہ فلسطین کی آزادی کے لیے جامع منصوبہ تیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس نے فلسطین کی آزادی کے لیے تکنیکی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک طرف قضیہ فلسطین کے تصفیہ کو روکنے کی سازشیں کررہا ہے اور دوسری طرف اس نے کئی عرب ممالک کے اندر تک رسائی کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ عرب ممالک کی منتخب قیادت قضیہ فلسطین اورصہیونی ریاست کے ساتھ تعاون کے حوالے سے توازن پیداکریں اور قضیہ فلسطین کی قیمت پر صہیونی دشمن کے ساتھ راہ رسم نہ بڑھائی جائے۔ذرائع کے مطابق حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کانفرنس سے ٹیلیفونک خطاب میں کہا کہ حماس نے قضیہ فلسطین کے حوالے سے 5نکاتی حکمت عملی مرتب کی ہے۔ پہلا اصول قضیہ فلسطین کے بنیادی مطالبات پر قائم رہنا، دوسرا مزاحمتی پروگرام پر عمل، تیسرا فلسطینیوں میں مصالحت اور قومی وحدت کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہاکہ چوتھا اہم محور اندرون اور بیرون ملک فلسطینیوں کے درمیان یکجہتی اور پانچواں فلسطین اور پوریی مسلم امہ کے درمیان رابطہ کاری کو منظم کرنا ہے۔
غزہ/سپلائی بند

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.